2. سورہ البقرہ – آیات 201–240
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں پروردگار ! ہمیں اس دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی خیر عطا فرما اور ہمیں بچا لے آگ کے عذاب سے
— Bayan-ul-Quran
ان ہی لوگوں کے لیے حصہّ ہوگا اس میں سے جو انہوں نے کمایا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ذکر کرو اللہ کا گنتی کے چند دنوں میں تو جو کوئی دو دن ہی میں جلدی سے واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیارکرے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان رکھو کہ یقیناً تمہیں اسی کی جانب جمع کردیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کی باتیں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں دنیا کی زندگی میں حالانکہ فی الواقع وہ شدید ترین دشمن ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب وہ پیٹھ پھیر کرجاتا ہے تو زمین میں بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ اس میں فساد مچائے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرے اور اللہ تعالیٰ کو فساد بالکل پسند نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو جھوٹی عزت نفس اس کو گناہ پر اور جما دیتی ہے اور یقیناً وہ برا ٹھکانہ ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا کے لیے اور اللہ اپنے ایسے بندوں کے حق میں بہت شفیق ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! اسلام میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو وہ تو یقیناً تمہارا بڑا کھلا دشمن ہے
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر تم پھسل گئے اس کے بعد بھی کہ تمہارے پاس یہ واضح تعلیمات آچکی ہیں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
کیا یہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ آجائے ان پر اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائبانوں میں اور فرشتے اور فیصلہ چکا دیا جائے ؟ اور یقیناً تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
پوچھ لو بنی اسرائیل سے ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آگئی ہو تو (وہ جان لے کہ) اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے
— Bayan-ul-Quran
ان کافروں کے لیے دنیا کی زندگی بڑیّ مزین کردی گئی ہے اور وہ مذاق اڑاتے ہیں اہل ایمان کا۔ جن لوگوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی قیامت کے دن وہ ان کے اوپر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ رزق عطا فرمائے گا جس کو چاہے گا بےحساب
— Bayan-ul-Quran
تمام انسان ایک ہی امت تھے تو اللہ نے (اپنے) نبی بھیجے جو خوشخبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ (اپنی) کتاب نازل فرمائی حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے لوگوں کے مابین ان امور میں جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا اور کتاب میں اختلاف نہیں کیا مگر ان ہی لوگوں نے جنہیں یہ دی گئی تھی اس کے بعد کہ ان کے پاس روشن ہدایات آچکی تھیں محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے پس اللہ نے ہدایت بخشی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اس حق کے معاملے میں جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اپنے حکم سے اور اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہوجاؤگے حالانکہ ابھی تک تمہارے اوپر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے پہنچی ان کو سختی بھوک کی اور تکلیف اور وہ ہلا مارے گئے یہاں تک کہ (وقت کا) رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ (اب انہیں یہ خوشخبری دی گئی کہ) آگاہ ہوجاؤ یقیناً اللہ کی مدد قریب ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یہ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے جو بھی تم خرچ کرو مال و اسباب میں سے تو والدین رشتے داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے (خرچ کرو) اور جو خیر بھی تم کماؤ گے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(مسلمانو !) اب تم پر جنگ فرض کردی گئی ہے اور وہ تمہیں گراں گزر رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے ُ بری ہو اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) یہ آپ سے پوچھتے ہیں حرمت والے مہینے میں جنگ کے بارے میں کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے لیکن اللہ کے راستے سے روکنا اس کا کفر کرنا مسجد حرام سے روکنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے کہیں بڑا گناہ ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور یہ لوگ تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹا دیں تمہیں اپنے دین سے اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں اور (سن لو) جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھر گیا تو یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت جائیں گے اور وہ ہوں گے جہنمّ والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
) (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں تو یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ غفور ہے رحیم ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ ان کا کیا حکم ہے ؟) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ منفعتیں بھی ہیں البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے اور یہ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے : اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کر رہا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
— Bayan-ul-Quran
دنیا اور آخرت (کے معاملات) میں اور یہ آپ ﷺ سے پوچھ رہے ہیں یتیموں کے بارے میں (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ (جس طرز عمل میں) ان کی بھلائی اور مصلحت (ہو وہی اختیار کرنا) بہتر ہے اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملائے رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ جانتا ہے مفسد کو بھی اور مصلح کو بھی اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں سختی ہی میں ڈالے رکھتا یقیناً اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں اور ایک مؤمنہ لونڈی بہتر ہے ایک آزاد مشرکہ عورت سے اگرچہ وہ تمہیں اچھی بھی لگتی ہو اور اپنی عورتیں مشرکوں کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں اور ایک مؤمن غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک مرد سے اگرچہ وہ تمہیں پسند بھی ہو یہ لوگ آگ کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ تمہیں بلا رہا ہے جنت کی طرف اور مغفرت کی طرف اپنے حکم سے اور وہ اپنی آیات واضح کر رہا ہے لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ عورتوں کی ماہواری کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کر رہے ہیں کہہ دیجیے وہ ایک ناپاکی بھی ہے اور ایک تکلیف کا مسئلہ بھی ہے تو حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان سے مقاربت نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں پھر جب وہ خوب پاک ہوجائیں تو اب ان کی طرف جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے یقیناً اللہ محبت کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں سے اور محبت کرتا ہے بہت پاکبازی اختیار کرنے والوں سے
— Bayan-ul-Quran
تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے آگے کے لیے سامان کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تمہیں اس سے مل کر رہنا ہے اور (اے نبی ﷺ !) اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ کے نام کو تختۂ مشق نہ بنا لو اپنی قسموں کے لیے کہ بھلائی نہ کرو گے پرہیزگاری نہ کرو گے اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرے گا تم سے تمہاری بےمعنی قسموں پر (جو تم عزم و ارادہ کے بغیر کھا بیٹھتے ہو) لیکن ان قسموں پر تم سے ضرور مؤاخذہ کرے گا جو تم نے اپنے دلی ارادے کے ساتھ کھائی ہوں اور اللہ بخشنے والا ہے اور حلیم ہے
— Bayan-ul-Quran
جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر وہ طلاق کا ارادہ کرچکے ہوں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جن عورتوں کو طلاق دے دی جائے ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے ارحام میں جو کچھ پیدا کردیا ہو وہ اسے چھپائیں اگر وہ فی الواقع اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں لوٹا لیں اس عدت کے دوران میں اگر وہ واقعۃً اصلاح چاہتے ہوں اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
طلاق دو مرتبہ ہے پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا ہے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس لو سوائے اس کے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے تو ان دونوں پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیہ میں دے یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان سے تجاوز مت کرو اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ) اسے طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لیے جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اب کوئی گناہ نہیں ہوگا ان دونوں پر کہ وہ مراجعت کرلیں اگر ان کو یہ یقین ہو کہ وہ اللہ کی حدود کی پاسداری کرسکیں گے اور یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں جن کو وہ واضح کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں
— Bayan-ul-Quran
اور جب تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو اور پھر وہ اپنی عدتّ پوری کرلیں اور تم انہیں مت روکو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کہ تم حدود سے تجاوز کرو اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنا لو اور یاد کرو اللہ کے جو انعامات تم پر ہوئے ہیں اور جو اس نے نازل فرمائی تم پر اپنی کتاب اور حکمت وہ اس کے ذریعے سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا حقیقی علم حاصل ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو مت آڑے آؤ اس میں کہ وہ عورتیں پھر نکاح کرلیں اپنے سابق ازواج سے جبکہ وہ آپس میں رضامند ہوجائیں بھلے طریقے پر یہ وہ چیز ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے تم میں سے اس کو جو واقعتا ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخرت پر یہی طریقہ تمہارے لیے زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے
— Bayan-ul-Quran
اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں پورے دو سال اس شخص کے لیے جو مدت رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو اور بچے والے کے ذمے ّ ہے بچوں کی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق کسی پر ذمہّ داری نہیں ڈالی جاتی مگر اس کی وسعت کے مطابق نہ تو تکلیف پہنچائی جائے کسی والدہ کو اپنے بچے کی وجہ سے اور نہ اس کو جس کا وہ بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے بچے کی وجہ سے اور وارث پر بھی اسی طرح کیّ ذمہ داری ہے پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں (دو برس کے اندر ہی) باہمی رضامندی اور صلاح سے تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلواناچاہو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ تم (بچے کی ماں کو) وہ سب کچھ دے دو جس کا کہ تم نے دینا ٹھہرایا تھا دستور کے موافق اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جو تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک پس جب وہ اپنی اس مدتّ تک پہنچ جائیں (یعنی عدتّ گزار لیں) تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اس معاملے میں جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخب رہے
— Bayan-ul-Quran
اور تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اس میں کہ کنایہ و اشارہ میں ظاہر کر دو ان عورتوں سے پیغام نکاح یا پوشیدہ رکھو اپنے دلوں میں اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کر رکھو چھپ کر سوائے اس کے کہ کوئی بات کہہ دو معروف طریقے سے اور مت باندھو گرہ نکاح کی جب تک کہ قانون شریعت اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے اور جان رکھو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے پس اس سے ڈرتے رہو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے
— Bayan-ul-Quran
تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم ایسی بیویوں کو طلاق دے دو جن کو نہ تو تم نے ابھی چھوا ہو اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو اور ان کو کچھ خرچ دو صاحب وسعت پر اپنی حیثیت کے مطابق ضروری ہے اور تنگ دست پر اپنی حیثیت کے مطابق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے یہ حق ہے محسنین پر
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم عورتوں کو طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور تم ٹھہرا چکے تھے ان کے لیے ایک متعینّ مہر تو جو مہر تم نے طے کیا تھا اب اس کا آدھا ادا کرنا لازم ہے الایہ کہ وہ معاف کردیں یا وہ شخص درگزر سے کام لے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور یہ کہ تم مرد درگزر کرو تو یہ تقویٰ سے قریب تر ہے اور اپنے مابین احسان کرنا مت بھلا دو یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
محافظت کرو تمام نمازوں کی اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور کھڑے ہوا کرو اللہ کے سامنے پورے ادب کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر تم خطرے کی حالت میں ہو تو چاہے پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جب تم امن میں ہوجاؤ پھر اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تمہیں اس نے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور جو لوگ تم میں سے وفات دے دیے جائیں اور وہ چھوڑ جائیں بیویاں تو وہ وصیت کر جائیں اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک کے لیے نان نفقہ کی بغیر اس کے کہ انہیں گھروں سے نکالا جائے پھر اگر وہ عورتیں خود نکل جائیں تو تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں جو کچھ وہ اپنے حق میں معروف طریقے پر کریں اور یقیناً اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran