2. سورہ البقرہ – آیات 161–200
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اسی حال میں مرگئے کہ کفر پر قائم تھے ان پر لعنت ہے اللہ کی بھی اور فرشتوں کی بھی اور تمام انسانوں کی بھی
— Bayan-ul-Quran
اسی (لعنت کی کیفیت) میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ ان پر سے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گی
— Bayan-ul-Quran
اور تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ رحمن ہے رحیم ہے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً آسمان اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ان کشتیوں (اور جہازوں) میں جو سمندر میں (یا دریاؤں میں) لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں اور اس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے ُ مردہ ہوجانے کے بعد اور ہر قسم کے حیوانات (اور چرند پرند) اس کے اندر پھیلادیے اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو معلقّ کردیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں
— Bayan-ul-Quran
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر کچھ اور چیزوں کو اس کا ہمسر اور مدمقابلّ بنا دیتے ہیں وہ ان سے ایسی محبت کرنے لگتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے اور جو لوگ واقعتا صاحب ایمان ہوتے ہیں ان کی شدید ترین محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے اور اگر یہ ظالم لوگ اس وقت کو دیکھ لیں جب یہ دیکھیں گے عذاب کو تو (ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ) قوت تو ساری کی ساری اللہ کے پاس ہے اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے
— Bayan-ul-Quran
اس وقت وہ لوگ جن کی (دنیا میں) پیروی کی گئی تھی اپنے پیروؤں سے اظہار براءت کریں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے اور ان کے تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور جو ان کے پیروکار تھے وہ کہیں گے کہ اگر کہیں ہمیں دنیا میں ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو ہم بھی ان سے اسی طرح اظہار براءت کریں گے جیسے آج یہ ہم سے بیزاری ظاہرکر رہے ہیں اس طرح اللہ ان کو ان کے اعمال حسرتیں بنا کر دکھائے گا لیکن وہ اب آگ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے۔ اب ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
اے لوگو ! زمین میں جو کچھ حلال اور طیبّ ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ (شیطان) تو بس تمہیں بدی اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اس کا کہ تم اللہ کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو اللہ نے نازل کیا ہے وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم تو پیروی کریں گے اس طریقے کی جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اگرچہ ان کے آباء و اَجداد نہ کسی بات کو سمجھ پائے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوئے ہوں (پھر بھی وہ اپنے آباء و اَجداد ہی کی پیروی کرتے رہیں گے ؟)
— Bayan-ul-Quran
اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے کفر کیا ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیز کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سمجھتی ہو وہ بہرے بھی ہیں گونگے بھی ہیں اندھے بھی ہیں پس وہ عقل سے کام نہیں لیتے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! کھاؤ ان تمام پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم واقعتا اسی کی عبادت کرنے والے ہو
— Bayan-ul-Quran
اس نے تو تم پر یہی حرام کیا ہے ُ مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا گیا ہو پھر جو کوئی مجبور ہوجائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ یقیناً اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو اللہ نے نازل کیا ہے کتاب میں سے اور فروخت کرتے ہیں اسے بہت حقیر سی قیمت پر یہ لوگ نہیں بھر رہے اپنے پیٹوں میں مگر آگ اور اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہدایت دے کر گمراہی خرید لی ہے اور (اللہ کی) مغفرت ہاتھ سے دے کر عذاب خرید لیا ہے تو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں دوزخ پر
— Bayan-ul-Quran
یہ اس لیے کہ اللہ نے تو کتاب نازل کی حق کے ساتھ اور یقیناً جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف ڈالا وہ ضد اور مخالفت میں بہت دور نکل گئے
— Bayan-ul-Quran
نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لائے اللہ پر یوم آخرت پر فرشتوں پر کتاب پر اور نبیوں پر اور وہ خرچ کرے مال اس کی محبت کے باوجود قرابت داروں یتیموں محتاجوں مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب کوئی عہد کرلیں اور خاص طور پر صبر کرنے والے فقر و فاقہ میں تکالیف میں اور جنگ کی حالت میں یہ ہیں وہ لوگ جو سچے ہیں اور یہی حقیقت میں متقیّ ہیں
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! تم پر لازم کردیا گیا ہے مقتولوں کا بدلہ لینا اور غلام غلام کے بدلے اور عورت عورت کے بدلے پھر جس کو معاف کردی جائے کوئی شے اس کے بھائی کی جانب سے تو (اس کی) پیروی کی جائے معروف طریقے پر اور ادائیگی کی جائے خوبصورتی کے ساتھ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک تخفیف اور رحمت ہے تو اس کے بعد بھی جو حد سے تجاوز کرے گا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اے ہوشمندو ! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم بچ سکو
— Bayan-ul-Quran
جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کردیا گیا ہے والدین اور رشتہ داروں کے حق میں انصاف کے ساتھ وصیتّ کرنا اللہ تعالیٰ کا تقویٰ رکھنے والوں پر یہ حق ہے
— Bayan-ul-Quran
تو جس نے بدل دیا اس وصیت کو اس کے بعد کہ اس کو سنا تھا تو اس کا گناہ ان ہی پر آئے گا جو اسے تبدیل کرتے ہیں یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
پھر جس کو اندیشہ ہو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اور وہ ان کے مابین صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو ! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔
— Bayan-ul-Quran
گنتی کے چند دن ہیں اس پر بھی جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ تعداد پوری کرلے دوسرے دنوں میں اور جو اس کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھیں) ان پر فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا کھلانا اور جو اپنی مرضی سے کوئی خیر کرنا چاہے تو اس کے لیے خیر ہے اور روزہ رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
— Bayan-ul-Quran
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن دلیلوں کے ساتھ تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے (یا جو شخص بھی اس مہینے میں مقیم ہو) اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ تعداد پوری کرلے دوسرے دنوں میں اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا تاکہ تم تعداد پوری کرو اور تاکہ تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اس نے تمہیں بخشی ہے اور تاکہ تم شکر کرسکو
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں
— Bayan-ul-Quran
حلال کردیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی راتوں میں بےحجاب ہونا اپنی بیویوں سے وہ پوشاک ہیں تمہارے لیے اور تم پوشاک ہو ان کے لیے اللہ کے علم میں ہے کہ تم اپنے آپ کے ساتھ خیانت کر رہے تھے اور تمہیں معاف کردیا تو اب تم ان کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کرو اور تلاش کرو اس کو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہوجائے تمہارے لیے فجر کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے پھر رات تک روزے کو پورا کرو اور ان سے مباشرت مت کرو جبکہ تم مسجدوں میں حالت اعتکاف میں ہو یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں پس ان کے قریب بھی مت جاؤ اسی طرح اللہ واضح کرتا ہے اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے تاکہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرسکیں
— Bayan-ul-Quran
اور تم اپنے مال آپس میں باطل طریقوں سے ہڑپ نہ کرو اور اس کو ذریعہ نہ بناؤ حکامّ تک پہنچنے کا تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہّ ہڑپ کرسکو گناہ کے ساتھ اور تم اس کو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) یہ آپ ﷺ سے پوچھ رہے ہیں چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے بارے میں کہہ دیجیے یہ لوگوں کے لیے اوقات کا تعینّ ہے اور حج کے لیے ہے اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور گھروں میں داخل ہو ان کے دروازوں سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
— Bayan-ul-Quran
اور قتال کرو اللہ کی راہ میں ان سے جو تم سے قتال کر رہے ہیں لیکن حد سے تجاوز نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
اور انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ اور نکالو ان کو وہاں سے جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے ہاں مسجد حرام کے پاس (جسے امن کی جگہ بنا دیا گیا ہے) ان سے جنگ مت کرو جب تک وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں یہی بدلہ ہے کافروں کا۔
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر وہ باز آجائیں تو یقیناً اللہ بخشنے والا بہت مہربان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور لڑو ان سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو کوئی زیادتی جائز نہیں ہے مگر ظالموں پر
— Bayan-ul-Quran
حرمت والا مہینہ بدلہ ہے حرمت والے مہینے کا اور حرمات کے اندر بھی بدلہ ہے تو جو کوئی بھی تم پر زیادتی کرتا ہے تو تم بھی اس کے خلاف کارروائی کرو (اقدام کرو) جیسے کہ اس نے تم پر زیادتی کی اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے
— Bayan-ul-Quran
اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں اور احسان کی روش اختیار کرو یقیناً اللہ تعالیٰ محسنین کو (ان لوگوں کو جو درجۂ احسان پر فائز ہوجائیں) پسند کرتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور حج اور عمرہ مکمل کرو اللہ کے لیے پھر اگر تمہیں گھیر لیا جائے تو جو کوئی بھی قربانی میسرّ ہو وہ پیش کر دو اور اپنے سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب تمہیں امن حاصل ہو (اور تم سیدھے بیت اللہ پہنچ سکتے ہو) تو جو کوئی بھی فائدہ اٹھائے عمرے کا حج سے قبل تو وہ قربانی پیش کرے جو بھی اسے میسرّ ہو جس کو قربانی نہ ملے تو وہ تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے رکھو جبکہ تم واپس پہنچ جاؤ یہ کل دس (روزے) ہوں گے یہ (رعایت) اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے
— Bayan-ul-Quran
حج کے معلوم مہینے ہیں تو جس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ان مہینوں میں حج کو تو (اس کو خبردار رہنا چاہیے کہ) دورانِ حج نہ تو شہوت کی کوئی بات کرنی ہے نہ فسق و فجور کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی اور نیکی کے جو کام بھی تم کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے اور زاد راہ ساتھ لے لیا کرو یقیناً بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو !
— Bayan-ul-Quran
تم پر اس امر میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (سفر حج کے دوران) اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرو پس جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو اللہ کو یاد کرو مشعر حرام کے نزدیک اور یاد کرو اسے جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اور یقیناً اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگوں میں سے تھے
— Bayan-ul-Quran
پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے استغفار کرتے رہو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب تم اپنے مناسک حج ادا کر چکو تو اب اللہ کا ذکر کرو جیسے کہ تم اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کرتے رہے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ شدومد کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو یہی کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے اور ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
— Bayan-ul-Quran