2. سورہ البقرہ – آیات 121–160
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے وہی ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا کفر کرے گا تو وہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے۔
— Bayan-ul-Quran
اے اولاد یعقوب ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی تھی اہل عالم پر۔
— Bayan-ul-Quran
اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی
— Bayan-ul-Quran
اور ذرا یاد کرو جب ابراہیم ؑ کو آزمایا اس کے رب نے بہت سی باتوں میں تو اس نے ان سب کو پورا کر دکھایا تب فرمایا : (اے ابراہیم ؑ !) اب میں تمہیں نوع انسانی کا امام بنانے والا ہوں انہوں نے کہا : اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا : میرا یہ عہد ظالموں سے متعلق نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر (بیت اللہ) کو قرار دے دیا لوگوں کے لیے اجتماع (اور زیارت) کی جگہ اور اسے امن کا گھر قرار دے دیا اور (ہم نے حکم دیا کہ) مقام ابراہیم ؑ کو اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو اور ہم نے حکم کیا تھا ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو کہ تم دونوں میرے اس گھر کو پاک رکھو طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی : اے میرے پروردگار ! اس گھر کو امن کی جگہ بنا دے اور یہاں آباد ہونے والوں (یعنی بنی اسماعیل (ؑ) کو پھلوں کا رزق عطا کر جو کوئی ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور (تمہاری اولاد میں سے) جو کفر کرے گا تو اس کو بھی میں دنیا کی چند روزہ زندگی کا ساز و سامان تو دوں گا پھر اسے کشاں کشاں لے آؤں گا جہنم کے عذاب کی طرف اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ ہمارے گھر کی بنیادوں کو اٹھا رہے تھے اے ہمارے ربّ ! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے یقیناً توُ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اے ہمارے رب ! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنائے رکھ اور ہم دونوں کی نسل سے ایک امت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو اور ہمیں حج کرنے کے قاعدے بتلا دے اور ہم پر اپنی توجہ فرما یقیناً تو ہی ہے بہت زیادہ توبہ کا قبول فرمانے والا (اور شفقت کے ساتھ رجوع کرنے والا) اور رحم فرمانے والا
— Bayan-ul-Quran
اور اے ہمارے پروردگار ! ان لوگوں میں اٹھائیو ایک رسول خود انہی میں سے جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے یقیناً توُ ہی ہے زبردست اور کمال حکمت والا
— Bayan-ul-Quran
اور کون ہوگا جو ابراہیم ؑ کے طریقے سے منہ موڑے ؟ سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو حماقت ہی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہو اور ہم نے تو انہیں دنیا میں بھی منتخب کرلیا تھا اور یقیناً آخرت میں بھی وہ ہمارے صالح بندوں میں سے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
جب بھی کہا اس سے اس کے پروردگار نے کہ مطیع فرمان ہو جاتو اس نے کہا میں مطیع فرمان ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کا۔
— Bayan-ul-Quran
اور اسی کی وصیتّ کی تھی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے پس تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان !
— Bayan-ul-Quran
کیا تم اس وقت موجود تھے جب آدھمکی یعقوب پر موت جب کہا اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد ؟ انہوں نے کہا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود کی اور آپ کے آباء ابراہیم اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے مطیع فرمان ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے تھا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہوگا جو تم کماؤ گے تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں یا تو یہودی ہوجاؤ یا نصرانی تو ہدایت پر ہوجاؤ گے کہہ دیجیے نہیں بلکہ (ہم تو پیروی کریں گے) ابراہیم کے طریقے کی بالکل یکسو ہو کر اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے
— Bayan-ul-Quran
کہو ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور جو کچھ نازل کیا گیا ہماری جانب اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو کچھ دیا گیا تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ہم ان میں سے کسی کے مابین تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے مطیع فرمان ہیں
— Bayan-ul-Quran
پھر (اے مسلمانو !) اگر وہ (یہودو نصاریٰ) بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تب وہ ہدایت پر ہوں گے اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں تو پھر وہی ہیں ضد پر تو (اے نبی ﷺ !) آپ کے لیے ان کے مقابلے میں اللہ کافی ہے اور وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
ہم نے تو اختیار کرلیا ہے اللہ کے رنگ کو اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوگا ؟ اور ہم تو بس اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ان سے) کہیے کیا تم ہم سے جھگڑ رہے ہو (دلیل بازی کر رہے ہو) اللہ کے بارے میں ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اور ہمارے لیے ہوں گے ہمارے عمل اور تمہارے لیے ہوں گے تمہارے عمل اور ہم تو خالص اسی کے ہیں
— Bayan-ul-Quran
کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہیے : تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور (کان کھول کر سن لو) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟ اور اللہ ہرگز غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے ہے جو کمائی انہوں نے کی اور تمہارے لیے ہے جو کمائی تم نے کی اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
عنقریب کہیں گے لوگوں میں سے احمق اور بیوقوف لوگ) کس چیز نے پھیر دیا انہیں اس قبلے سے جس پر یہ تھے کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے ہیں مشرق اور مغرب ! وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے مسلمانو !) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر (اے نبی !) آپ پہلے تھے مگر یہ جاننے کے لیے (یہ ظاہر کرنے کے لیے) کہ کون رسول ﷺ کا اتباع کرتا ہے اور کون پھرجاتا ہے الٹے پاؤں ! اور یقیناً یہ بہت بڑی بات تھی مگر ان کے لیے (دشوار نہ تھی) جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ہرگز تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ انسانوں کے حق میں بہت ہی شفیق اور بہت ہی رحیم ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) بلاشبہ ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھتے رہے ہیں سو ہم پھیرے دیتے ہیں آپ کو اسی قبلے کی طرف جو آپ کو پسند ہے تو بس اب پھیر دیجیے اپنے رخ کو مسجد حرام کی طرف ! اور (اے مسلمانو !) جہاں کہیں بھی تم ہو اَب اپنا چہرہ (نماز میں) اسی کی طرف پھیرو۔ اور یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا حکم) حق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو وہ کر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ان اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ ہی اب آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں اور (اے نبی ﷺ ! بالفرض) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے تو بلاشبہ آپ بھی ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں البتہ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے حق وہی ہے جو آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ تو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بنیں۔
— Bayan-ul-Quran
) ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے تم نیکیوں میں سبقت کرو جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو جمع کر کے لے آئے گا یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جہاں کہیں سے بھی آپ ﷺ نکلیں تو (نماز کے وقت) آپ اپنا رخ پھیر لیجیے مسجد حرام کی طرف اور یقیناً یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور جہاں کہیں سے بھی آپ نکلیں تو آپ اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام ہی کی طرف کیجیے اور (اے مسلمانو !) جہاں کہیں بھی تم ہو تو (نماز کے وقت) اپنے چہروں کو اسی کی جانب پھیر دو تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل سوائے ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں تو (اے مسلمانو !) ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت تمام کر دوں اور تاکہ تم ہدایت یافتہ بن جاؤ۔
— Bayan-ul-Quran
جیسے کہ ہم نے بھیج دیا ہے تمہارے درمیان ایک رسول خود تم میں سے وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیات اور تمہیں پاک کرتا ہے (تمہارا تزکیہ کرتا ہے) اور تمہیں تعلیم دیتا ہے کتاب اور حکمت کی اور تمہیں تعلیم دیتا ہے ان چیزوں کی جو تمہیں معلوم نہیں تھیں
— Bayan-ul-Quran
پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر کرو میری ناشکری مت کرنا۔
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد چاہو جان لو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
— Bayan-ul-Quran
اور مت کہو ان کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں کہ وہ مردہ ہیں (وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے اور (اے نبی ﷺ بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں کو
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ کہ جن کو جب بھی کوئی مصیبت آئے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ جانا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یہی ہیں وہ لوگ کہ جن پر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں
— Bayan-ul-Quran
یقیناً صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو کوئی بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے کہ ان دونوں کا طواف بھی کرے اور جو شخص خوش دلی سے کوئی بھلائی کا کام کرتا ہے تو (جان لو کہ) اللہ بڑا قدر دان ہے جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس شے کو جو ہم نے نازل کی بیناتّ میں سے اور ہدایت میں سے بعد اس کے کہ ہم نے اس کو واضح کردیا ہے لوگوں کے لیے کتاب میں تو وہی لوگ ہیں کہ جن پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں تمام لعنت کرنے والے
— Bayan-ul-Quran
سوائے ان کے جو توبہ کریں اور اصلاح کرلیں اور (جو کچھ چھپاتے تھے اسے) واضح طور پر بیان کرنے لگیں تو ان کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں تو ہوں ہی توبہ کا قبول کرنے والا رحم فرمانے والا
— Bayan-ul-Quran