2. سورہ البقرہ – آیات 81–120
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
کیوں نہیں جس شخص نے جان بوجھ کر ایک گناہ کمایا اور اس کا گھیراؤ کرلیا اس کے گناہ نے پس یہی ہیں آگ والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں یہی ہیں جنت والے وہ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے اور قرابت داروں کے ساتھ بھی (نیک سلوک کرو گے اور یتیموں کے ساتھ بھی اور محتاجوں کے ساتھ بھی اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو پھر تم (اس سے) پھرَ گئے سوائے تم میں سے تھوڑے سے لوگوں کے اور تم ہو ہی پھرجانے والے
— Bayan-ul-Quran
اور جب ہم نے تم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ تم اپنا خون نہیں بہاؤ گے اور نہ ہی تم نکالو گے اپنے لوگوں کو ان کے گھروں سے پھر تم نے اس کا اقرار کیا تھا مانتے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنے ہی لوگوں میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہو ان پر چڑھائی کرتے ہو گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ اور اگر وہ قیدی بن کر تمہارے پاس آئیں تو تم فدیہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو حالانکہ ان کا نکال دیناہی تم پر حرام کیا گیا تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلتّ و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں۔ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔ اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی اختیار کرلی ہے آخرت کو چھوڑ کر سو اب نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (یعنی تورات) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑی واضح نشانیاں دیں اور ہم نے مدد کی ان کی روح القدس کے ساتھ پھر بھلا کیا جب بھی آیا تمہارے پاس کوئی رسول وہ چیز لے کر جو تمہاری خواہشات نفس کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا) پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کردیا
— Bayan-ul-Quran
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دل تو غلافوں میں بند ہیں بلکہ (حقیقت میں تو) ان پر لعنت ہوچکی ہے اللہ کی طرف سے ان کے کفر کی وجہ سے پس اب کم ہی (ہوں گے ان میں سے جو) ایمان لائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور جب آگئی ان کے پاس ایک کتاب (یعنی قرآن) اللہ کے پاس سے اور وہ پہلے سے کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ پھر جب ان کے پاس آگئی وہ چیز جسے انہوں نے پہچان لیا تو وہ اس کے منکر ہوگئے پس اللہ کی لعنت ہے ان منکرین پر
— Bayan-ul-Quran
بہت بری شے ہے جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کردیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اس ہدایت کا جو اللہ نے نازل کی ہے صرف اس ضد کی بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اپنے فضل (وحی و رسالت) میں سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔ تو وہ لوٹے غضب پر غضب لے کر اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلتّ آمیز عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ اس پر جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور وہ کفر کر رہے ہیں اس کا جو اس کے پیچھے ہے حالانکہ وہ حق ہے تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے : تو پھر تم کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے اگر تم واقعتا ایمان رکھنے والے ہو
— Bayan-ul-Quran
) اور آ چکے تمہارے پاس موسیٰ ؑ صریح معجزے اور واضح تعلیمات لے کر ٖ) پھر تم نے اس کی غیر حاضری میں بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا) اور تم ظالم ہو
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر کوہ طور کو معلق کردیا تھا پکڑو اس کو جو ہم نے تم کو دیا ہے مضبوطی کے ساتھ اور سنو ! انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور پلا دی گئی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت ان کے اس کفر کی پاداش میں کہیے : بہت ہی بری ہیں یہ باتیں جن کا حکم دے رہا ہے تمہیں تمہارا ایمان اگر تم مؤمن ہو
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے : اگر تمہارے لیے آخرت کا گھر اللہ کے پاس خالص کردیا گیا ہے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کرتب تو تمہیں موت کی تمنا کرنی چاہیے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور یہ ہرگز آرزو نہیں کریں گے موت کی بسبب ان کرتوتوں کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ ان ظالموں سے بخوبی واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
اور تم انہیں پاؤ گے تمام انسانوں سے زیادہ حریص اس (دنیا کی) زندگی پر حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی زیادہ حریص ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح اس کی عمر ہزار برس ہوجائے حالانکہ نہیں ہے اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا) اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے جو کوئی بھی دشمن ہو جبرائیل ؑ کا تو (وہ یہ جان لے کہ) اس نے تو نازل کیا ہے اس قرآن کو آپ ﷺ کے دل پر اللہ کے حکم سے یہ تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کلام کی جو اس کے سامنے موجود ہے اور ہدایت اور بشارت ہے اہل ایمان کے لیے
— Bayan-ul-Quran
) (تو کان کھول کر سن لو) جو کوئی بھی دشمن ہے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اعلان ہے کہ) اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل کردی ہیں روشن آیات اور انکار نہیں کرتے ان کا مگر وہی جو سرکش ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو کیا (ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ) جب کبھی بھی انہوں نے کوئی عہد کیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے اٹھا کر پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو یقین نہیں رکھتے
— Bayan-ul-Quran
اور جب آیا ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول (یعنی محمد ﷺ تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس موجود ہے تو اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے پیروی کی اس علم کی جو شیاطین پڑھا کرتے تھے سلیمان ؑ کی بادشاہت کے وقت وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس علم کے پیچھے پڑے) جو نازل کیا گیا دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر بابل میں اور وہ نہیں سکھاتے تھے کسی کو بھی یہاں تک کہ وہ کہہ دیتے تھے کہ دیکھو ہم تو آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہیں پس تم کفر مت کرو) پھر وہ سیکھتے تھے ان دونوں سے وہ شے جن کے ذریعے سے آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے تھے اور نہیں تھے وہ ضرر پہنچانے والے اس کے ذریعے کسی کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر اور وہ سیکھتے تھے وہ چیزیں جو خود ان کو بھی ضرر پہنچانے والی تھیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتی تھیں۔ حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جو بھی اس چیز کا خریدار بنا (یعنی جادو سیکھا) اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور بہت ہی بری تھی وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کردیا کاش انہیں علم ہوتا
— Bayan-ul-Quran
اور اگر وہ ایمان رکھتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو بدلہ پاتے اللہ کی طرف سے بہت ہی اچھا۔ کاش ان کو معلوم ہوتا !
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو تم راعِنَا مت کہا کرو بلکہ اُنْظُرْنَا کہا کرو اور توجہّ سے بات کو سنو ! اور ان کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں چاہتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے کہ نازل ہو تم پر کوئی بھی خیر تمہارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے
— Bayan-ul-Quran
جو بھی ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا اسے بھلا دیتے ہیں تو ہم (اس کی جگہ پر) لے آتے ہیں اس سے بہتر یا (کم از کم) ویسی ہی کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ؟
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی ؟ اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی بھی حمایتی اور نہ کوئی مددگار
— Bayan-ul-Quran
کیا تم مسلمان بھی یہ چاہتے ہو کہ سوالات (اور مطالبے) کرو اپنے رسول ﷺ سے اسی طرح جیسے اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے کیے جا چکے ہیں ؟ اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر لے لے گا وہ تو بھٹک چکا سیدھی راہ سے۔
— Bayan-ul-Quran
اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں پھیر کر تمہارے ایمان کے بعد تمہیں پھر کافر بنادیں بسبب ان کے دلی حسد کے اس کے بعد کہ ان پر حق بالکل واضح ہوچکا ہے۔ تو (اے مسلمانو !) تم معاف کرتے رہو اور صرف نظر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو بھلائی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یہ کہتے ہیں ہرگز داخل نہ ہوگا جنت میں مگر وہی جو یہودی ہو یا نصرانی ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں ان سے کہو اپنی دلیل پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
کیوں نہیں ہر وہ شخص جو اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ محسن ہو اور ایسے لوگوں کو نہ تو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ کسی حزن و ملال سے دوچار ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں ہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو کچھ بھی نہیں جانتے ان ہی کی سی بات۔) پس اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان تمام باتوں کا جن میں یہ اختلاف کر رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں سے (لوگوں کو) روکے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے ؟ اور وہ ان کی تخریب کے درپے ہو ؟ ایسے لوگوں کو تو ان میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں بھیّ ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم ہے
— Bayan-ul-Quran
اور مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں یقیناً اللہ بہت وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان (میں وہ بھی ہیں جن) کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ وہ تو ان باتوں سے پاک ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملکیت ہے۔ سب کے سب اسی کے مطیع فرمان ہیں
— Bayan-ul-Quran
وہ نیا پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ کسی معاملے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور کہا ان لوگوں نے جو علم نہیں رکھتے کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آجاتی ہمارے پاس کوئی نشانی ؟ اسی طرح کی باتیں جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی کہتے رہے ہیں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہ ہوگئے ہیں ہم تو اپنی آیات واضح کرچکے ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر اور آپ ﷺ سے سوال نہیں کیا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپ ﷺ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپ ﷺ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی کہہ دیجیے ہدایت تو بس اللہ کی ہدایت ہے اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ﷺ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے تو نہیں ہوگا اللہ کے مقابلے میں آپ ﷺ کے لیے کوئی مددگار اور نہ حمایتی۔
— Bayan-ul-Quran