2. سورہ البقرہ
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
(الم) ا۔ ل۔ م۔
— Bayan-ul-Quran
یہ الکتاب ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے، اور اس پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا، اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا (یعنی وہ لوگ کہ جو کفر پر اڑ گئے) ان کے لیے برابر ہے (اے محمد ﷺ کہ آپ انہیں انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ ) اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر بھی اور یوم آخر پر بھی مگر وہ حقیقت میں مؤمن نہیں ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
( وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ایمان کو۔ ) اور نہیں دھوکہ دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو۔ اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
— Bayan-ul-Quran
ان کے دلوں میں ایک روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ میں اضافہ کردیا۔ اور ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے بسبب اس جھوٹ کے جو وہ بول رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
آگاہ ہوجاؤ کہ حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ آگاہ ہوجاؤ کہ وہی بیوقوف ہیں لیکن انہیں علم نہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو محض مذاق کر رہے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔
— Bayan-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے۔ سو نافع نہ ہوئی ان کی تجارت ان کے حق میں اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔
— Bayan-ul-Quran
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی۔ پھر جب اس آگ نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور چھوڑ دیا ان کو ان اندھیروں کے اندر کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔
— Bayan-ul-Quran
یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو اب یہ نہیں لوٹیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے بڑے زور کی بارش برس رہی ہے آسمان سے اس میں اندھیرے بھی ہیں اور گرج اور بجلی (کی چمک) بھی۔ یہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے اندر ٹھونسے لیتے ہیں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے۔ اور اللہ ایسے کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
— Bayan-ul-Quran
قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھیں۔ جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگتے ہیں اس کی روشنی میں۔ اور جب ان پر تاریکی طاری ہوجاتی ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اور اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت کو سلب کرلیتا۔ یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اے لوگو ! بندگی اختیار کرو اپنے اس ربّ (مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو۔
— Bayan-ul-Quran
جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنا دیا اور آسمان کو چھت بنا دیا۔ اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس (پانی) کے ذریعے سے (زمین سے) ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ تو ہرگز اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہراؤ جانتے بوجھتے۔ ّ َ
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم واقعتا شک میں ہو اس کلام کے بارے میں جو ہم نے اتارا اپنے بندے پر (کہ یہ ہمارا نازل کردہ ہے یا نہیں) تو لے آؤ ایک ہی سورت اس جیسی۔ اور بلا لو اپنے سارے مددگاروں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ ّ
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکوگے ! ) تو پھر بچو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر۔ تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
اور بشارت دے دیجیے (اے نبی ﷺ !) ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔ جب بھی انہیں دیا جائے گا وہاں کا کوئی پھل رزق کے طور پر (یعنی کھانے کے لیے) وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی ملتا تھا اور دیے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے۔ اور ان کے لیے اس (جنت) میں نہایت پاکباز بیویاں ہوں گی۔ اور وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیشہ۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا اللہ اس سے نہیں شرما تاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ تو جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور جنہوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کہ کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے ؟ گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اسی کے ذریعے سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔
— Bayan-ul-Quran
جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد۔ اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کیا۔ ُ پھر وہ تمہیں مارے گا پھر جلائے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔ ُ
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ بھی زمین میں ہے۔ پھر وہ متوجہّ ہوا آسمانوں کی طرف اور انہیں ٹھیک ٹھیک سات آسمانوں کی شکل میں بنا دیا۔ اور وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔ انہوں نے کہا : کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرّر کرنے والے ہیں جو اس میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا ؟ اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔ فرمایا : میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو تمام کے تمام نام پھر ان (تمام اشیاء) کو پیش کیا فرشتوں کے سامنے اور فرمایا کہ بتاؤ مجھے ان چیزوں کے نام اگر تم سچے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا (پروردگار !) نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ہمیں کوئی علم حاصل نہیں سوائے اس کے جو آپ نے ہمیں سکھادیا ہے۔ یقیناً آپ ہی ہیں جو سب کچھ جاننے والے کامل حکمت والے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے فرمایا کہ اے آدم ان کو بتاؤ ان چیزوں کے نام ! تو جب اس نے بتا دیے ان کو ان سب کے نام تو (اللہ نے) فرمایا : کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی ہوئی چیزوں کو اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے تھے اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
) اور یاد کرو جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدے میں گرپڑے سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبرّ کیا۔ اور ہوگیا وہ کافروں میں سے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے کہا اے آدم ! رہو تم اور تمہاری بیوی جنت میں اور کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔
— Bayan-ul-Quran
پھر پھسلا دیا ان دونوں کو شیطان نے اس درخت کے بارے میں تو نکلوا دیا ان دونوں کو اس کیفیت میں سے جس میں وہ تھے۔ ) اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ اور تمہارے لیے اب زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک خاص وقت تک۔
— Bayan-ul-Quran
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا۔
— Bayan-ul-Quran
ہم نے کہا : تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ۔ تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جو کفر کریں گے وہ آگ والے (جہنمی) ہوں گے اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور تم میرے وعدے کو پورا کرو تاکہ میں بھی تمہارے وعدے کو پورا کروں۔ اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔
— Bayan-ul-Quran