2. سورہ البقرہ – آیات 41–80
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور ایمان لاؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے اور تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے نہ بن جاؤ۔ اور میری آیات کے عوض حقیر سی قیمت قبول نہ کرو۔ اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔ مجھ ہی سے بچتے رہو !
— Bayan-ul-Quran
اور نہ گڈمڈ کرو حق کے ساتھ باطل کو اور نہ چھپاؤ حق کو درآنحالیکہ تم جانتے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکو (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ۔
— Bayan-ul-Quran
کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟
— Bayan-ul-Quran
اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔ اور یقینایہ بہت بھاری شے ہے مگر ان عاجزوں پر (بھاری نہیں ہے)۔
— Bayan-ul-Quran
جنہیں یہ یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور (جنہیں یہ یقین ہے کہ) بالآخر انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
— Bayan-ul-Quran
اے یعقوب کی اولاد ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام جہانوں پر۔
— Bayan-ul-Quran
اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔
— Bayan-ul-Quran
اور ذرا یاد کرو جب کہ ہم نے تمہیں نجات دی تھی فرعون کی قوم سے وہ تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیے ہوئے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے بڑی آزمائش تھی۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو (یا دریا کو) پھاڑدیا پھر تمہیں تو نجات دے دی اور فرعون کے لوگوں کو غرق کردیا جبکہ تم دیکھ رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ ؑ سے چالیس رات کا پھر تم نے بنا لیا بچھڑے کو (معبود) اس کے بعد اور تم ظالم تھے
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے تمہیں اس کے بعد بھی معاف کیا تاکہ تم شکر کرو
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ ؑ کتاب اور فرقان عطا فرمائی تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ کہا تھا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! یقیناً تم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے بچھڑے کو معبود بنا کر پس اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی جناب میں تو قتل کرو اپنے آپ کو۔ یہی تمہارے لیے تمہارے رب کے نزدیک بہتر بات ہے۔ تو (اللہ نے) تمہاری توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہ تو ہے ہی توبہ کا بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ ؑ ! ہم تمہارا ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو تمہیں آپکڑا ایک بہت بڑی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے تمہیں دوبارہ اٹھایا تمہاری موت کے بعد تاکہ تم (اس احسان پر ہمارا) شکر کرو۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور اتارا تم پر مَنّ اور سلویٰ۔ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ داخل ہوجاؤ اس شہر میں اور پھر کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو جو چاہو لیکن دیکھنا (بستی کے) دروازے میں داخل ہونا جھک کر اور کہتے رہنا مغفرت مغفرت تو ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائیں گے۔ اور محسنین کو ہم مزید فضل و کرم سے نوازیں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو ان سے کہہ دی گئی تھی پھر ہم نے اتارا ظلم کرنے والوں پر ایک بڑا عذاب آسمان سے بسبب اس نافرمانی کے جو انہوں نے کی۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے کہا ضرب لگاؤ اپنے عصا سے چٹان پر تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ بہے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ جان لیا (اور معینّ کرلیا) (گویا ان سے یہ کہہ دیا گیا کہ) کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب کہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ ! ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکتے تو ذرا اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ نکالے ہمارے لیے اس سے کہ جو زمین اگاتی ہے اس کی ترکاریاں اور ککڑیاں اور لہسن اور مسور اور پیاز۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا : تم وہ شے لینا چاہتے ہو جو کم تر ہے اس کے بدلے میں جو بہتر ہے ؟ اترو کسی شہر میں تو تم کو مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو۔ اور ان پر ذلتّ و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔ اور یہ اس لیے ہوا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوگئے اور نصرانی اور صابی جو کوئی بھی ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور یوم آخر پر اور اس نے اچھے عمل کیے تو ان کے لیے (محفوظ) ہے ان کا اجر ان کے رب کے پاس اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ذرا یاد کرو جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا اور تمہارے اوپر اٹھا دیا کوہ طور کو۔ پکڑو اس کو مضبوطی کے ساتھ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ اور یاد رکھو اسے جو کچھ کہ اس میں ہے تاکہ تم بچ سکو۔
— Bayan-ul-Quran
پھر تم نے روگردانی کی اس کے بعد پھر اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم (اُسی وقت) خسارہ پانے والے ہوجاتے۔
— Bayan-ul-Quran
اور تم انہیں خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں تو ہم نے کہہ دیا ان سے کہ ہوجاؤ ذلیل بندر۔
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے اس (واقعہ کو یا اس بستی) کو عبرت کا سامان بنا دیا ان کے لیے بھی جو سامنے موجود تھے (اس زمانے کے لوگ) اور ان کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے تھے اور ایک نصیحت (اور سبق آموزی کی بات) بنا دیا اہل تقویٰ کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے کہا اپنی قوم سے کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے کو ذبح کرو۔ انہوں نے کہا : کیا آپ ؑ ہم سے کچھ ٹھٹھا کر رہے ہیں ؟ فرمایا : میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا (اچھا ایسی ہی بات ہے تو) ہمارے لیے ذرا اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ کیسی ہو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بالکل بچھیا بڑھاپے اور نوجوانی کے بین بین ہو۔ تو اب کر گزرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اب انہوں نے کہا (ذرا ایک دفعہ پھر) ہمارے لیے دعا کیجیے اپنے رب سے کہ وہ ہمیں بتادے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ گائے ہونی چاہیے زرد رنگ کی جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کو خوب اچھی لگے۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا (ذرا پھر) اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو کیونکہ گائے کا معاملہ یقیناً ہم پر کچھ مشتبہ ہوگیا ہے۔ اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پالیں گے
— Bayan-ul-Quran
فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے کہ جس سے کوئی مشقت نہ لی جاتی ہو نہ وہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو وہ صحیح سالم یک رنگ ہونی چاہیے انہوں نے کہا اب آپ لائے ہیں ٹھیک بات تب انہوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کا الزام تم ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔ اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو کچھ تم چھپاتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
تو ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس گائے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کر دے گا اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں (اپنی قدرت کے نمونے) دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
— Bayan-ul-Quran
پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعدپس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔ اور پتھروں میں سے تو یقیناً ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں۔ اور ان (پتھروں اور چٹانوں) میں سے بیشک ایسے بھی ہوتے ہیں جو شق ہوجاتے ہیں اور ان میں سے پانی برآمد ہوجاتا ہے۔ اور ان میں سے یقیناً وہ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس سے کہ جو تم کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
تو کیا (اے مسلمانو !) تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے ؟ جبکہ حال یہ ہے کہ ان میں ایک گروہ وہ بھی تھا کہ جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کرتا تھا۔
— Bayan-ul-Quran
اور (ان میں سے کچھ لوگ ہیں کہ) جب ملتے ہیں اہل ایمان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اور جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تو کہتے ہیں کیا تم بتا رہے ہو ان کو وہ باتیں جو اللہ نے کھولی ہیں تم پر ؟ تاکہ وہ ان کے ذریعے تم پر حجت قائم کریں تمہارے رب کے پاس ! کیا تمہیں عقل نہیں ہے ؟
— Bayan-ul-Quran
اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو تو معلوم ہے وہ سب کچھ بھی جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھی جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں بعض ان پڑھ ہیں وہ کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے بےبنیاد آرزوؤں کے اور وہ کچھ نہیں کر رہے مگر ظن وتخمین پر چلے جا رہے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
پس ہلاکت اور بربادی ہے ان کے لیے جو کتاب لکھتے ہیں اپنے ہاتھ سے پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ حاصل کرلیں اس کے بدلے حقیر سی قیمت تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کے لیے اس چیز سے کہ جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے اس کمائی سے جو وہ کر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں ہمیں تو آگ ہرگز چھو نہیں سکتی مگر گنتی کے چند دن ان سے کہیے کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے کہ اب (تمہیں یہ یقین ہے کہ) اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا ؟ یا تم اللہ کے ّ ذمے وہ باتیں لگا رہے ہو جنہیں تم نہیں جانتے ؟
— Bayan-ul-Quran