QuranPilotQuranPilot
الْبَقَرَةُ

2. سورہ البقرہ – آیات 241–280

سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔

2:241
وَلِلْمُطَلَّقَـٰتِ مَتَـٰعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ٢٤١

اور مطلقہّ عورتوں کو بھی ساز و سامان زندگی دینا ہے معروف طریقے پر یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر

Bayan-ul-Quran

2:242
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ٢٤٢

اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کر رہا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو (اور سمجھو)

Bayan-ul-Quran

2:243
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُوا۟ ثُمَّ أَحْيَـٰهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ٢٤٣

کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو نکل کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے جبکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے موت کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ ! پھر (اللہ نے) انہیں زندہ کیا یقیناً اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

Bayan-ul-Quran

2:244
وَقَـٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ٢٤٤

اور جنگ کرو اللہ کی راہ میں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

Bayan-ul-Quran

2:245
مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْرِضُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَـٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَٱللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ٢٤٥

کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھاتا رہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹا دیا جائے گا

Bayan-ul-Quran

2:246
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلْمَلَإِ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰٓ إِذْ قَالُوا۟ لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ٱبْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَـٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ أَلَّا تُقَـٰتِلُوا۟ ۖ قَالُوا۟ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَـٰتِلَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَـٰرِنَا وَأَبْنَآئِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّوْا۟ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ٢٤٦

کیا تم نے غور نہیں کیا بنی اسرائیل کے سرداروں کے معاملے میں جو انہیں موسیٰ کے بعد پیش آیا ؟ جبکہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں انہوں نے کہا کہ تم سے اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کردی جائے تو اس وقت تم جنگ نہ کرو انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں ؟ جبکہ ہمیں نکال دیا گیا ہے ہمارے گھروں سے اور اپنے بیٹوں سے پھر جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو سب پیٹھ پھیر گئے سوائے ان کی ایک قلیل تعداد کے اور اللہ ایسے ظالموں سے خوب باخبر ہے

Bayan-ul-Quran

2:247
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ ٱلْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةً فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ ۖ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ٢٤٧

اور ان سے کہا ان کے نبی ؑ نے کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کردیا ہے انہوں نے کہا کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے ہمارے اوپر بادشاہت ملے ؟ جبکہ ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں بادشاہت کے اور اسے تو مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی (نبی ؑ نے) کہا : (اب جو چاہو کہو) یقیناً اللہ نے اس کو چن لیا ہے تم پر اور اسے کشادگی عطا کی ہے علم اور جسم دونوں چیزوں میں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی بادشاہت دے دیتا ہے اور اللہ بہت سمائی والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے

Bayan-ul-Quran

2:248
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ءَايَةَ مُلْكِهِۦٓ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَىٰ وَءَالُ هَـٰرُونَ تَحْمِلُهُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ٢٤٨

اور ان سے کہا ان کے نبی نے کہ طالوت کی بادشاہت کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا (جو تم سے چھن چکا ہے) جس میں تمہارے لیے تسکین کا سامان ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ آل موسیٰ ؑ اور آل ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں وہ صندوق فرشتوں کی تحویل میں ہے یقیناً اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ماننے والے ہو

Bayan-ul-Quran

2:249
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلْجُنُودِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّىٓ إِلَّا مَنِ ٱغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهِۦ ۚ فَشَرِبُوا۟ مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ قَالُوا۟ لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَـٰقُوا۟ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةًۢ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ٢٤٩

پھر جب طالوت اپنے لشکروں کو لے کر چلے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرے گا ایک دریا سے (یعنی دریائے اُردن) تو جو اس میں سے (پیٹ بھر کر) پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ہے اور جو اس میں سے پانی نہیں پئے گا وہ میرا ساتھی ہے سوائے اس کے کہ کوئی اپنے ہاتھ سے صرف چلوّ بھر پانی لے کر پی لے تو انہوں نے اس میں سے (خوب جی بھر کر) پانی پیا سوائے ان میں سے ایک قلیل تعداد کے تو جب دریا پار کر کے آگے بڑھے طالوت اور اس کے ساتھی اہل ایمان تو انہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے تو کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ انہیں (ایک دن) اللہ سے ملاقات کرنی ہے کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی اللہ کے حکم سے اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

Bayan-ul-Quran

2:250
وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ٢٥٠

اور جب وہ مقابلے پر نکلے جالوت اور اس کے لشکروں کے تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور (میدان جنگ میں) ہمارے قدموں کو جمادے اور ہماری مدد فرما ان کافروں کے مقابلے میں

Bayan-ul-Quran

2:251
فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ ٱلْأَرْضُ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ٢٥١

تو انہوں نے مار بھگایا ان کو اللہ کے حکم سے اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا کی اور جو کچھ چاہا اسے سکھا دیا اور اگر (اس طریقے سے) اللہ ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ تو تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

Bayan-ul-Quran

2:252
تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ٢٥٢

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ ﷺ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں حق کے ساتھ اور یقیناً (اے ﷺ آپ (اللہ کے) رسولوں میں سے ہیں

Bayan-ul-Quran

2:253
۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَـٰتٍ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَيَّدْنَـٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ وَلَـٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ٢٥٣

ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجات (کسی اور اعتبار سے) بڑھا دیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بڑے کھلے معجزے دیے اور ان کی مدد فرمائی روح القدس (حضرت جبرائیل (ؑ) کے ساتھ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آچکی تھیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کفر پر اڑا رہا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تو کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے

Bayan-ul-Quran

2:254
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَـٰعَةٌ ۗ وَٱلْكَـٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ٢٥٤

اے اہل ایمان ! خرچ کرو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہوگی اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم ہیں

Bayan-ul-Quran

2:255
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ٢٥٥

اللہ وہ معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند. سب کا قائم رکھنے والا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے کون ہے وہ جو شفاعت کرسکے اس کے پاس کسی کی مگر اس کی اجازت سے ! وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو اللہ چاہے اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں کی حفاظت اور وہ بلند وبالا (اور) بڑی عظمت والا ہے

Bayan-ul-Quran

2:256
لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ٢٥٦

دین میں کوئی جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

Bayan-ul-Quran

2:257
ٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّـٰغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَـٰتِ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ٢٥٧

اللہ ولی ہے اہل ایمان کا اور (ان کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اولیاء (پشت پناہ ساتھی اور مددگار) طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں یہی لوگ ہیں آگ والے یہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے

Bayan-ul-Quran

2:258
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِـۧمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ٢٥٨

کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے حجتّ بازی کی تھی ابراہیم ؑ سے اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی ہوئی تھی جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ابراہیم ؑ نے کہا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (اگر تو خدائی کا مدعی ہے) تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا تو مبہوت ہو کر رہ گیا وہ کافر اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

Bayan-ul-Quran

2:259
أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ٢٥٩

یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر اس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے اس پر موت وارد کردی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو ؟ کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو کس طرح ہم انہیں اٹھاتے ہیں پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہوگیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے

Bayan-ul-Quran

2:260
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ٢٦٠

اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا پروردگار ! ذرا مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کیا تم (اس بات پر) ایمان نہیں رکھتے ؟ کہا کیوں نہیں ! (ایمان تو رکھتا ہوں) لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے فرمایا اچھاتو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ہلا لو پھر ان کے ٹکڑے کر کے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر ان کو پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور (اس بات کو یقین کے ساتھ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔

Bayan-ul-Quran

2:261
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ٢٦١

مثال ان کی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں (اللہ کے دین کے لیے) خرچ کرتے ہیں ایسے ہے جیسے ایک دانہ کہ اس سے سات بالیاں (خوشے) پیدا ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ جس کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

Bayan-ul-Quran

2:262
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَآ أَنفَقُوا۟ مَنًّا وَلَآ أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ٢٦٢

جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ کسی رنج و غم سے دوچار ہوں گے

Bayan-ul-Quran

2:263
۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَآ أَذًى ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌ٢٦٣

بھلی بات کہنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد اذیتّ پہنچائی جائے اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حلیم ہے

Bayan-ul-Quran

2:264
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَـٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَـٰفِرِينَ٢٦٤

اے اہل ایمان ! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یوم آخرت پر تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا

Bayan-ul-Quran

2:265
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ٢٦٥

اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے اس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو اب اگر اس باغ کے اوپر زوردار بارش برسے تو دو گنا پھل لائے اور اگر زوردار بارش نہ بھی برسے تو ہلکی سی پھوار (ہی اس کے لیے کافی ہوجائے) اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے

Bayan-ul-Quran

2:266
أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ٢٦٦

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں اس کے لیے اس باغ میں ہر طرح کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا طاری ہوجائے جبکہ اس کی اولاد ابھی ناتواں ہو اور عین اس وقت اس باغ پر ایک ایسا بگولا پھرجائے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جھلس کر رہ جائے ؟ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔

Bayan-ul-Quran

2:267
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ٢٦٧

اے ایمان والو ! اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو اور اس میں سے خرچ کرو جو کچھ ہم نے نکالا ہے تمہارے لیے زمین سے اور اس میں سے ردّی مال کا ارادہ نہ کرو کہ اسے خرچ کر دو ! اور تم ہرگز نہیں ہو گے اس کو لینے والے (اگر وہ شے تم کو دی جائے) الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور خوب جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حمید ہے

Bayan-ul-Quran

2:268
ٱلشَّيْطَـٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ٢٦٨

شیطان تمہیں فقر کا اندیشہ دلاتا ہے اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے اور اللہ وعدہ کر رہا ہے تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا اللہ بہت وسعت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے

Bayan-ul-Quran

2:269
يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ٢٦٩

وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت دے دی گئی اسے تو خیر کثیر عطا ہوگیا اور نہیں نصیحت حاصل کرسکتے مگر وہی لوگ جو ہوش مند ہیں

Bayan-ul-Quran

2:270
وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ ۗ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ٢٧٠

اور جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو (صدقہ و خیرات دیتے ہو) یا جو بھی تم (اللہ کے نام پر) منتّ مانتے ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور (یاد رکھو کہ) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

Bayan-ul-Quran

2:271
إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ٢٧١

اگر تم صدقات کو علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری برائیوں کو دور کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے

Bayan-ul-Quran

2:272
۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىٰهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ٢٧٢

(اے نبی ﷺ !) آپ کے ّ ذمہ نہیں ہے کہ ان کو ہدایت دے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے لیے بہتر ہے اور تم نہیں خرچ کرو گے مگر اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ پورا پورا تمہیں لوٹا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا

Bayan-ul-Quran

2:273
لِلْفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحْصِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِى ٱلْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ ٱلْجَاهِلُ أَغْنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَـٰهُمْ لَا يَسْـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ٢٧٣

یہ ان ضرورت مندوں کے لیے ہے جو گھر کر رہ گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ (اپنے کسب معاش کے لیے) زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ناواقف آدمی ان کو خوشحال خیال کرتا ہے ان کی خود داری کے سبب تم پہچان لو گے انہیں ان کے چہروں سے وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے

Bayan-ul-Quran

2:274
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ٢٧٤

جو لوگ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں رات کو بھی اور دن میں بھی خفیہ طور پر بھی اور علانیہ بھی ان کے لیے ان کا اجر (محفوظ) ہے ان کے رب کے پاس نہ تو ان پر کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ ہی وہ کسی حزن سے دوچار ہوں گے

Bayan-ul-Quran

2:275
ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ٢٧٥

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر اس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام ٹھہرایا ہے تو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے (اس نصیحت کے آجانے کے بعد بھی) دوبارہ یہ حرکت کی تو یہ لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے

Bayan-ul-Quran

2:276
يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِى ٱلصَّدَقَـٰتِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ٢٧٦

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا

Bayan-ul-Quran

2:277
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ٢٧٧

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

Bayan-ul-Quran

2:278
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَذَرُوا۟ مَا بَقِىَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ٢٧٨

اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مؤمن ہو

Bayan-ul-Quran

2:279
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَرْبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ٢٧٩

پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر تم توبہ کرلو تو پھر اصل اموال تمہارے ہی ہیں نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے

Bayan-ul-Quran

2:280
وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ٢٨٠

اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

Bayan-ul-Quran