2. سورہ البقرہ – آیات 241–280
سورہ البقرہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور مطلقہّ عورتوں کو بھی ساز و سامان زندگی دینا ہے معروف طریقے پر یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر
— Bayan-ul-Quran
اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کر رہا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو (اور سمجھو)
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو نکل کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے جبکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے موت کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ ! پھر (اللہ نے) انہیں زندہ کیا یقیناً اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جنگ کرو اللہ کی راہ میں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھاتا رہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹا دیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نے غور نہیں کیا بنی اسرائیل کے سرداروں کے معاملے میں جو انہیں موسیٰ کے بعد پیش آیا ؟ جبکہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں انہوں نے کہا کہ تم سے اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کردی جائے تو اس وقت تم جنگ نہ کرو انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں ؟ جبکہ ہمیں نکال دیا گیا ہے ہمارے گھروں سے اور اپنے بیٹوں سے پھر جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو سب پیٹھ پھیر گئے سوائے ان کی ایک قلیل تعداد کے اور اللہ ایسے ظالموں سے خوب باخبر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان سے کہا ان کے نبی ؑ نے کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کردیا ہے انہوں نے کہا کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے ہمارے اوپر بادشاہت ملے ؟ جبکہ ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں بادشاہت کے اور اسے تو مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی (نبی ؑ نے) کہا : (اب جو چاہو کہو) یقیناً اللہ نے اس کو چن لیا ہے تم پر اور اسے کشادگی عطا کی ہے علم اور جسم دونوں چیزوں میں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی بادشاہت دے دیتا ہے اور اللہ بہت سمائی والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان سے کہا ان کے نبی نے کہ طالوت کی بادشاہت کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا (جو تم سے چھن چکا ہے) جس میں تمہارے لیے تسکین کا سامان ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ آل موسیٰ ؑ اور آل ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں وہ صندوق فرشتوں کی تحویل میں ہے یقیناً اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ماننے والے ہو
— Bayan-ul-Quran
پھر جب طالوت اپنے لشکروں کو لے کر چلے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرے گا ایک دریا سے (یعنی دریائے اُردن) تو جو اس میں سے (پیٹ بھر کر) پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ہے اور جو اس میں سے پانی نہیں پئے گا وہ میرا ساتھی ہے سوائے اس کے کہ کوئی اپنے ہاتھ سے صرف چلوّ بھر پانی لے کر پی لے تو انہوں نے اس میں سے (خوب جی بھر کر) پانی پیا سوائے ان میں سے ایک قلیل تعداد کے تو جب دریا پار کر کے آگے بڑھے طالوت اور اس کے ساتھی اہل ایمان تو انہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے تو کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ انہیں (ایک دن) اللہ سے ملاقات کرنی ہے کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی اللہ کے حکم سے اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب وہ مقابلے پر نکلے جالوت اور اس کے لشکروں کے تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور (میدان جنگ میں) ہمارے قدموں کو جمادے اور ہماری مدد فرما ان کافروں کے مقابلے میں
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے مار بھگایا ان کو اللہ کے حکم سے اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا کی اور جو کچھ چاہا اسے سکھا دیا اور اگر (اس طریقے سے) اللہ ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ تو تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ ﷺ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں حق کے ساتھ اور یقیناً (اے ﷺ آپ (اللہ کے) رسولوں میں سے ہیں
— Bayan-ul-Quran
ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجات (کسی اور اعتبار سے) بڑھا دیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بڑے کھلے معجزے دیے اور ان کی مدد فرمائی روح القدس (حضرت جبرائیل (ؑ) کے ساتھ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آچکی تھیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کفر پر اڑا رہا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تو کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! خرچ کرو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہوگی اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم ہیں
— Bayan-ul-Quran
اللہ وہ معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند. سب کا قائم رکھنے والا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے کون ہے وہ جو شفاعت کرسکے اس کے پاس کسی کی مگر اس کی اجازت سے ! وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو اللہ چاہے اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں کی حفاظت اور وہ بلند وبالا (اور) بڑی عظمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
دین میں کوئی جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ ولی ہے اہل ایمان کا اور (ان کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اولیاء (پشت پناہ ساتھی اور مددگار) طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں یہی لوگ ہیں آگ والے یہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے حجتّ بازی کی تھی ابراہیم ؑ سے اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی ہوئی تھی جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ابراہیم ؑ نے کہا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (اگر تو خدائی کا مدعی ہے) تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا تو مبہوت ہو کر رہ گیا وہ کافر اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
— Bayan-ul-Quran
یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر اس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے اس پر موت وارد کردی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو ؟ کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو کس طرح ہم انہیں اٹھاتے ہیں پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہوگیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا پروردگار ! ذرا مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کیا تم (اس بات پر) ایمان نہیں رکھتے ؟ کہا کیوں نہیں ! (ایمان تو رکھتا ہوں) لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے فرمایا اچھاتو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ہلا لو پھر ان کے ٹکڑے کر کے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر ان کو پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور (اس بات کو یقین کے ساتھ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
مثال ان کی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں (اللہ کے دین کے لیے) خرچ کرتے ہیں ایسے ہے جیسے ایک دانہ کہ اس سے سات بالیاں (خوشے) پیدا ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ جس کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ کسی رنج و غم سے دوچار ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
بھلی بات کہنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد اذیتّ پہنچائی جائے اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حلیم ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یوم آخرت پر تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے اس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو اب اگر اس باغ کے اوپر زوردار بارش برسے تو دو گنا پھل لائے اور اگر زوردار بارش نہ بھی برسے تو ہلکی سی پھوار (ہی اس کے لیے کافی ہوجائے) اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں اس کے لیے اس باغ میں ہر طرح کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا طاری ہوجائے جبکہ اس کی اولاد ابھی ناتواں ہو اور عین اس وقت اس باغ پر ایک ایسا بگولا پھرجائے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جھلس کر رہ جائے ؟ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو ! اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو اور اس میں سے خرچ کرو جو کچھ ہم نے نکالا ہے تمہارے لیے زمین سے اور اس میں سے ردّی مال کا ارادہ نہ کرو کہ اسے خرچ کر دو ! اور تم ہرگز نہیں ہو گے اس کو لینے والے (اگر وہ شے تم کو دی جائے) الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور خوب جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حمید ہے
— Bayan-ul-Quran
شیطان تمہیں فقر کا اندیشہ دلاتا ہے اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے اور اللہ وعدہ کر رہا ہے تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا اللہ بہت وسعت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت دے دی گئی اسے تو خیر کثیر عطا ہوگیا اور نہیں نصیحت حاصل کرسکتے مگر وہی لوگ جو ہوش مند ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو (صدقہ و خیرات دیتے ہو) یا جو بھی تم (اللہ کے نام پر) منتّ مانتے ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے اور (یاد رکھو کہ) ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
اگر تم صدقات کو علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے اور اگر تم انہیں چھپاؤ اور چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری برائیوں کو دور کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) آپ کے ّ ذمہ نہیں ہے کہ ان کو ہدایت دے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے لیے بہتر ہے اور تم نہیں خرچ کرو گے مگر اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ پورا پورا تمہیں لوٹا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
یہ ان ضرورت مندوں کے لیے ہے جو گھر کر رہ گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ (اپنے کسب معاش کے لیے) زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ناواقف آدمی ان کو خوشحال خیال کرتا ہے ان کی خود داری کے سبب تم پہچان لو گے انہیں ان کے چہروں سے وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے
— Bayan-ul-Quran
جو لوگ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں رات کو بھی اور دن میں بھی خفیہ طور پر بھی اور علانیہ بھی ان کے لیے ان کا اجر (محفوظ) ہے ان کے رب کے پاس نہ تو ان پر کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ ہی وہ کسی حزن سے دوچار ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر اس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام ٹھہرایا ہے تو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے (اس نصیحت کے آجانے کے بعد بھی) دوبارہ یہ حرکت کی تو یہ لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
ہاں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مؤمن ہو
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر تم توبہ کرلو تو پھر اصل اموال تمہارے ہی ہیں نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
— Bayan-ul-Quran