7. سورہ الاعراف – آیات 121–160
سورہ الاعراف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
وہ (فوراً) پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے تمام جہانوں کے رب پر
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ اور ہارون ؑ کے رب پر
— Bayan-ul-Quran
فرعون نے کہا (تمہاری یہ جرأت کہ) تم ایمان لے آئے ہو اس پر اس سے قبل کہ میں تمہیں اجازت دوں ! تاکہ نکال دو اس (شہر) میں سے اس کے باسیوں کو تو تمہیں عنقریب پتا چل جائے گا۔
— Bayan-ul-Quran
میں کاٹ ڈالوں گا تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے اور پھر میں سولی پر چڑھا دوں گا تم سب کو۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا (ٹھیک ہے) ہمیں تو اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور تم ہم سے کس بات کا انتقام لے رہے ہو سوائے اس کے کہ ہم ایمان لے آئے اپنے رب کی آیات پر جب وہ ہمارے پاس آگئیں ! اے ہمارے ربّ ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں وفات دیجیو مسلم ہی کی حیثیت سے۔
— Bayan-ul-Quran
اور کہا قوم فرعون کے سرداروں نے (فرعون سے) کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو اسی طرح چھوڑے رکھیں گے کہ وہ زمین کے اندر فساد مچائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں ! اس نے کہا ہم عنقریب قتل کریں گے ان کے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیں گے ان کی بیٹیوں کو اور یقیناً ہم ان پر پوری طرح غالب ہیں
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ نے اپنی قوم (اہل ایمان) سے کہا کہ اب تم لوگ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو ؟ یقیناً یہ زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے لیکن عاقبت (آخرت) تو تقویٰ والوں کے لیے ہی ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ کہنے لگے (اے موسیٰ (ؑ) ہمیں تو ایذا پہنچی آپ ؑ کے آنے سے قبل بھی اور آپ ؑ کے آنے کے بعد بھی (موسیٰ ؑ نے) فرمایا (گھبراؤ نہیں !) ہوسکتا ہے عنقریب اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں خلافت عطا کر دے زمین میں پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو !
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے پکڑا آل فرعون کو لگاتار قحط سالی اور فصلوں کی تباہی سے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
— Bayan-ul-Quran
توجب بھی حالات بہتر ہوجاتے تو وہ لوگ کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے وہ نحوست سمجھتے موسیٰ ؑ اور آپ ؑ کے ساتھیوں کی) آگاہ ہوجاؤ کہ ان کی شومئ قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے کہ (اے موسیٰ) تم ہمارے اوپر خواہ کوئی بھی نشانی لے آؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے بھیجے ان کے اوپر طوفان اور ٹڈی دَل اور چچڑیاں اور مینڈک اور خون (ہم نے بھیجیں یہ) نشانیاں وقفے وقفے سے (اس کے باوجود) وہ تکبر پر اڑے رہے اور وہ تھے ہی مجرم لوگ
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تھا تو وہ کہتے کہ اے موسیٰ ؑ اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
لیکن جب ہم ان سے اس مصیبت کو دور کردیتے تھے ایک خاص مدت کے لیے کہ جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعتہً عہد توڑ دیتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
) پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم نے انہیں سمندر میں غرق کردیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان (آیات) سے تغافل برتتے رہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جن لوگوں کو دبا لیا گیا تھا (اب) ہم نے انہیں وارث بنا دیا اس زمین کے مشرق و مغرب کا جس کو ہم نے بابرکت بنایا تھا اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے اور ہم نے تباہ و برباد کر ڈالاوہ سب کچھ جو فرعون اور اس کی قوم (اونچے محلات) بناتے تھے اور (باغات میں انگور کی بیلوں وغیرہ کے لیے چھتریاں) چڑھاتے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے تو ان کا گزر ہوا ایک ایسی قوم پر جو اعتکاف کر رہی تھی اپنے بتوں کا انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ؑ ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنا دو جیسے ان کے معبود ہیں آپ ؑ نے فرمایا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو !
— Bayan-ul-Quran
یہ لوگ جس چیز میں پڑے ہیں وہ سب کچھ بر باد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب باطل ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(حضرت موسیٰ ؑ نے) فرمایا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں فضیلت دی ہے تمام جہان والوں پر !
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے جو تمہیں مبتلا کیے ہوئے تھے بد ترین عذاب میں وہ قتل کر ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری بیٹیوں کو اور یقیناً اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے بلایا موسیٰ ؑ ٰ کو تیس راتوں کے لیے اور مکمل کردیا ہم نے اس مدت کو دس (مزید راتوں) سے تو مدت پوری ہوگئی اس کے رب کی چالیس راتوں کی اور (جاتے ہوئے) کہا موسیٰ ؑ ٰ نے اپنے بھائی ہارون ؑ سے کہ میری قوم کے اندر میری نیابت کے فرائض ادا کرنا اصلاح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب موسیٰ ؑ ٰ پہنچے ہمارے وقت مقررہ پر اور ان سے کلام کیا ان کے رب نے انہوں نے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن ذرا اس پہاڑ کو دیکھو اگر وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے تو جب اس ؑ کے رب نے اپنی تجلی ڈالی پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور موسیٰ ؑ ٰ گرپڑے بےہوش ہو کر پھر جب آپ ؑ کو افاقہ ہوا تو کہا کہ (اے اللہ !) تو پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ہوں پہلا ایمان لانے والا !
— Bayan-ul-Quran
(اللہ نے) فرمایا : اے موسیٰ ؑ میں نے تمہیں منتخب کیا ہے لوگوں پر (ترجیح دے کر) اپنی پیغمبری اور اپنی ہم کلامی کے لیے تو لے لو جو میں تمہیں دے رہا ہوں اور ہوجاؤ شکر کرنے والوں میں
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے لکھ دی اس ؑ کے لیے تختیوں پر ہر طرح کی نصیحت اور ہر طرح (کے احکام) کی تفصیل تو (اے موسیٰ ؑ اس کو تھام لو مضبوطی کے ساتھ اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ اس کو پکڑیں اس کی بہترین صورت پر عنقریب میں تمہیں گھر دکھاؤں گا (جس پر اس وقت قبضہ ہے) فاسقوں کا
— Bayan-ul-Quran
) میں پھیر دوں گا اپنی آیات سے ان لوگوں (کے رُخ) کو جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ساری نشانیاں تب بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ہدایت کا راستہ تب بھی اس راستے کو اختیار نہیں کریں گے اور اگر وہ دیکھیں برائی کا راستہ تو اسے وہ (فوراً) اختیار کرلیں گے یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تغافل برتتے رہے
— Bayan-ul-Quran
اور جو لوگ بھی جھٹلائیں گے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان کو نہیں دیا جائے گا بدلے میں مگر وہی کچھ جو وہ کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور بنا لیا موسیٰ ؑ کی قوم نے آپ ؑ کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتاسکتا ہے ! اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اور وہ تھے بہت ظالم !
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے (ان کو پچھتاوا ہوا) اور انہیں احساس ہوا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں بخش نہ دیا تو ہم ہوجائیں گے بہت خسارہ پانے والوں میں سے
— Bayan-ul-Quran
اور جب موسیٰ ؑ لوٹے اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک ہو کر افسوس میں آپ ؑ نے فرمایا بہت بری ہے میری نیابت جو تم نے کی ہے میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے معاملے میں جلدی کی ؟ اور آپ ؑ نے وہ تختیاں (ایک طرف) ڈال دیں اور (غصے میں) اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (ہارون ؑ نے) کہا کہ اے میرے ماں جائے حقیقت میں قوم نے مجھے دبا لیا تھا اور وہ میرے قتل پر آمادہ ہوگئے تھے تو (دیکھیں اب) دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے
— Bayan-ul-Quran
(تب حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کرتے ہوئے) کہا کہ اے میرے پروردگار ! بخش دے مجھے بھی اور میرے بھائی کو بھی اور ہمیں داخل فرما اپنی رحمت میں اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یقیناً جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا عنقریب ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں) اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں بہتان باندھنے والوں کو
— Bayan-ul-Quran
البتہ جن لوگوں نے (کچھ دیر کے لیے) برے کام کیے پھر توبہ کرلی اس کے بعد اور ایمان لے آئے تو یقیناً اس کے بعد آپ ؑ کا رب بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب موسیٰ ؑ کا غصہ کچھ ٹھنڈا پڑا تو انہوں نے وہ تختیاں اٹھا لیں اور اس کی تحریر میں تھی رحمت اور ہدایت ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور انتخاب کیا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے ستر افراد کا ہمارے وقت مقررہ کے لیے پھر جب انہیں آپکڑازلزلے نے (موسیٰ ؑ نے) نے عرض کیا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ہلاک کردیتا پہلے ہی ان سب کو بھی اور مجھے بھی تو کیا تو ہمیں ہلاک کر دے گا ہم میں سے کچھ بیوقوف لوگوں کی حرکت کی وجہ سے ؟ تو ہمارا پشت پناہ ہے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور یقیناً تمام بخشنے والوں میں تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور تو ہمارے لیے اس دنیا (کی زندگی) میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری جناب میں رجوع کرتے ہیں (اللہ نے) فرمایا کہ میں عذاب میں مبتلا کروں گا جس کو چاہوں گا اور میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے تو اسے میں لکھ دوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں گے زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو لوگ ہماری آیات پر پختہ ایمان رکھیں گے
— Bayan-ul-Quran
جو اتباع کریں گے رسول نبی امی ﷺ کا جسے پائیں گے وہ لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے تمام برائیوں سے روکیں گے اور ان کے لیے تمام پاک چیزیں حلال کردیں گے اور حرام کردیں گے ان پر ناپاک چیزوں کو اور ان سے اتاردیں گے ان کے بوجھ اور طوق جو ان (کی گردنوں) پر پڑے ہوں گے تو جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ ﷺ کی تعظیم کریں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور پیروی کریں گے اس نور کی جو آپ ﷺ کے ساتھ نازل کیا جائے گا وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے اے لوگو ! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف (اس اللہ کا) جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ
— Bayan-ul-Quran
اور موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی تھی جو حق کی ہدایت دیتے تھے اور حق ہی کے ساتھ عدل و انصاف بھی کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
) اور ہم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا بارہ قبیلوں کی جماعتوں میں اور ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ ؑ سے آپ ؑ کی قوم نے کہ اپنی لاٹھی سے چٹان پر ضرب لگائیے پس اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تو ہر قبیلے نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو اور ہم نے ان کے اوپر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ (اور ان سے کہا کہ) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے
— Bayan-ul-Quran