7. سورہ الاعراف
سورہ الاعراف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
ا ل م ص۔
— Bayan-ul-Quran
یہ کتاب ہے (اے نبی ﷺ جو آپ پر نازل کی گئی ہے تو نہیں ہونی چاہیے آپ کے دل میں کچھ تنگی اس کی وجہ سے (یہ تو اس لیے ہے) تاکہ اس کے ذریعے سے آپ ﷺ خبردارکریں اور یہ یاد دہانی ہے اہل ایمان کے لیے
— Bayan-ul-Quran
پیروی کرو اس کی جو نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اور مت پیروی کرو اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی۔ کم ہی ہے جو نصیحت تم حاصل کرتے ہو
— Bayan-ul-Quran
) اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر آپڑا ہمارا عذاب جب وہ رات کو سو رہے تھے یا جب دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
تو پھر ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں تھی جب ان پر ہمارا عذاب آپڑا کہ (ہائے ہماری شامت) بیشک ہم ہی ظالم تھے
— Bayan-ul-Quran
پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم ان کے سامنے احوال بیان کریں گے علم کی بنیاد پر اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اس روزوزن ہوگا حق ہی میں (یا وزن ہی فیصلہ کن ہوگا) تو جس کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی ہوں گے فلاح پانے والے
— Bayan-ul-Quran
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا بسبب اس کے کہ وہ ہماری آیات سے ناانصافی کرتے رہے
— Bayan-ul-Quran
اور (دیکھو انسانو !) ہم نے تمہیں زمین میں تمکن عطا فرمایا اور اس میں تمہارے لیے معاش کے سارے سامان رکھ دیے (لیکن) بہت ہی کم ہے جو شکر تم کرتے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے تمہیں تخلیق کیا پھر تمہاری تصویر کشی کی پھر ہم نے کہا فرشتوں سے کہ جھک جاؤ آدم کے سامنے تو سجدہ کیا سب نے سوائے ابلیس کے نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں
— Bayan-ul-Quran
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کس چیز نے تمہیں روکا کہ تم نے سجدہ نہیں کیا جب کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے بنایا ہے آگ سے اور اس کو بنایا ہے مٹی سے
— Bayan-ul-Quran
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا پس اتر جاؤ اس سے تمہیں یہ حق نہیں تھا کہ تم اس میں تکبر کرو پس نکل جاؤ یقیناً تم ذلیل و خوار ہو
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا (اے اللہ) مجھے مہلت دے اس دن تک جس دن انہیں (زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔
— Bayan-ul-Quran
فرمایا (ٹھیک ہے جاؤ) تمہیں مہلت دی گئی۔
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا (پروردگار !) تو نے جو مجھے (آدم کی وجہ سے) گمراہ کیا ہے تو اب میں لازماً ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا تیری سیدھی راہ پر۔
— Bayan-ul-Quran
پھر میں ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سے اور تو نہیں پائے گا ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا۔
— Bayan-ul-Quran
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا نکل جاؤ اس میں سے برے حال میں مردود ہو کر۔ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں (انہیں اور تم کو اکٹھا کر کے) تم سب سے جہنم کو بھر کر رہوں گا۔
— Bayan-ul-Quran
اور (پھر ہم نے آدم سے کہا کہ) اے آدم ؑ رہو جنت میں تم اور تمہاری بیوی اور کھاؤ پیو اس میں سے جہاں سے تم دونوں چاہو اور (ہاں) اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
تو شیطان نے ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا تاکہ ظاہر کر دے ان پر جو ان سے پوشیدہ تھیں ان کی شرمگاہیں اور اس نے کہا (وسوسہ اندازی کی) کہ نہیں روکا ہے آپ دونوں کو آپ کے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کہیں آپ فرشتے نہ بن جائیں یا کہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہ ہوجائیں
— Bayan-ul-Quran
اور اس نے قسمیں کھا کھا کر ان کو یقین دلایا کہ میں آپ دونوں کے لیے بہت ہی خیر خواہ ہوں۔
— Bayan-ul-Quran
تو اس نے دھوکہ دے کر انہیں مائل کر ہی لیا تو جب ان دونوں نے چکھ لیا اس درخت کے پھل کو تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے جنت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے) اور اب آواز دی ان دونوں کو ان کے رب نے کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا اس درخت سے اور کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(اس پر) وہ دونوں پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
(اللہ نے) فرمایا تم سب اتر جاؤ (اب) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے اور (ضرورت کا) سازوسامان بھی ایک وقت معین تک
— Bayan-ul-Quran
پھر فرمایا کہ (اب) تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تمہیں نکال لیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
اے آدم ؑ کی اولاد ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور آرائش و زیبائش کا سبب بھی ہے اور (اس سے بڑھ کر) تقویٰ کا لباس جو ہے وہ سب سے بہتر ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت اخذ کریں
— Bayan-ul-Quran
اے بنی آدم (دیکھو اب) شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے جیسے کہ تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوادیا تھا (اور) اس نے اتروا دیا تھا ان سے ان کا لباس تاکہ ان پر عیاں کر دے ان کی شرمگاہیں یقیناً وہ اور اس کی ذریت وہاں سے تم پر نظر رکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ نہیں سکتے ہم نے تو شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے
— Bayan-ul-Quran
اور جب یہ لوگ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے پایا ہے یہی کچھ کرتے ہوئے اپنے آباء و اَجداد کو اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا تو کیا تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو وہ کچھ جس کا تمہیں کوئی علم نہیں
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ کہیے کہ میرے رب نے تو حکم دیا ہے انصاف (اور عدل و توازن) کا اور اپنے رخ سیدھے کرلیا کرو ہر نماز کے وقت اور اسی کو پکارا کرو اسی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے جیسے اس نے تمہیں پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ بھی پیدا ہوجاؤگے
— Bayan-ul-Quran
ایک گروہ کو اس نے ہدایت دے دی ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس کے اوپر گمراہی مسلط ہوچکی ہے (اور یہ اس لیے کہ) انہوں نے شیطانوں کو اپنا ساتھی بنا لیا اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں
— Bayan-ul-Quran
اے آدم ؑ کی اولاد اپنی زینت استوار کیا کرو ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیو البتہ اسراف نہ کرو یقیناً وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جو اللہ نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لیے ؟ اور (کس نے حرام کی ہیں) پاکیزہ چیزیں کھانے کی ؟ آپ کہہ دیجیے یہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان کے لیے ہیں اور قیامت کے دن تو یہ خالصتاً ان ہی کے لیے ہوں گی اسی طرح ہم اپنی آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو حرام قرار دیا ہے بےحیائی کی باتوں کو خواہ وہ اعلانیہ ہوں اور خواہ چھپی ہوئی ہوں اور (حرام کیا ہے اس نے) گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ (بھی حرام ٹھہرایا ہے) کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ (کسی ایسی چیز کو) جس کے لیے اس نے کوئی سند نہیں اتاری ہے اور یہ بھی کہ تم اللہ کی طرف منسوب کرو وہ چیز جس کا تم علم نہیں رکھتے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہر قوم کے لیے ایک وقت معین ہے پھر جب ان کا وہ مقررہ وقت آجائے گا تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے کی طرف سرک سکیں گے
— Bayan-ul-Quran
اے بنی آدم ! جب بھی تمہارے پاس آئیں رسول تم ہی میں سے جو تمہیں میری آیات سنائیں تو جو کوئی بھی (ان کی دعوت کے جواب میں) تقویٰ کی روش اختیار کرے گا اور اصلاح کرلے گا تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم سے دو چار ہوں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کی بنا پر انہیں رد کردیں گے وہی جہنمی ہوں گے اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے یا اس کی آیات کو جھٹلائے (لیکن دنیا میں) ان کو ملتا رہے گا ان کا حصہ اس میں سے جو (ان کے لیے) لکھا گیا ہے یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) آجائیں گے ان (کی روحوں) کو قبض کرنے کے لیے تو وہ کہیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پکارا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟ وہ کہیں گے کہ وہ سب تو ہم سے گم ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف یہ گواہی دیں گے کہ واقعتا وہ کافر تھے
— Bayan-ul-Quran
کہا جائے گا اچھا شامل ہوجاؤ جنوں اور انسانوں کی ان امتوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں آگ میں (داخل ہونے کے لیے) جب بھی کوئی امت (جہنم میں) داخل ہوگی تو وہ اپنے جیسی دوسری امت پر لعنت کرے گی) یہاں تک کہ جب اس میں گر چکیں گے سب کے سب تو ان کے پچھلے کہیں گے اپنے اگلوں کے بارے میں کہ اے ہمارے ربّ ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو تو دو گنا عذاب دے آگ میں سے اللہ فرمائے گا (تم) سب کے لیے ہی دو گنا (عذاب) ہے لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوسکی لہٰذا اب چکھو مزہ عذاب کا اپنے کرتوتوں کے بدلے میں۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کی بنا پر ان کو رد کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے کبھی نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے گزر جائے اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو
— Bayan-ul-Quran