7. سورہ الاعراف – آیات 41–80
سورہ الاعراف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا۔ اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔۔ ہم کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے مگر اس کی وسعت کے مطابق۔۔ وہی ہوں گے جنت والے اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نکال دیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں ہوگا (ایک دوسرے کی طرف سے) کوئی میل اور ان (کے بالاخانوں) کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔ یقیناً ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے اور (تب) انہیں پکارا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال کی وجہ سے
— Bayan-ul-Quran
اور جنتی لوگ پکارکر کہیں گے جہنمیوں سے کہ ہم نے تو وہ وعدہ بالکل سچاپایا ہے جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا تو کیا تم نے بھی سچا پایا ہے وہ وعدہ جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ! تو (اس وقت) پکارے گا ایک پکارنے والا ان کے مابین کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جو روکتے تھے (اور خود بھی رکتے تھے) اللہ کے راستے سے اور اس (راستے) میں کجی نکالتے تھے اور یہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ان (جنتیوں اور جہنمیوں) کے مابین ایک پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے اور وہ (اصحاب اعراف) جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ آپ پر سلامتی ہو ! وہ اس (جنت میں) ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر انہیں اس کی بہت خواہش ہوگی
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان کی نگاہیں پھیری جائیں گی اہل جہنم کی طرف تو (اس وقت) وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر دیجیو
— Bayan-ul-Quran
اور پکاریں گے اہل اعراف (اہل جہنم میں سے) ان لوگوں کو جنہیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے کہیں گے کہ تمہارے کچھ کام نہ آئی تمہاری جمعیت اور (نہ وہ) جو کچھ تم تکبر کیا کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ نہیں نوازے گا انہیں اللہ اپنی کسی رحمت سے ! (ان سے تو کہہ دیا گیا ہے کہ) داخل ہوجاؤ جنت میں نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم کسی غم سے دو چار ہو گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جہنم والے آواز دیں گے جنت والوں کو کہ کچھ تو بہا دو ہماری طرف پانی میں سے یا اس رزق میں سے (کچھ دے دو) جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے وہ کہیں گے کہ اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں (جنت کا پانی اور رزق) کافروں پر۔
— Bayan-ul-Quran
(ان کے لیے) جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا تھا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کردیا تھا لہٰذا آج کے دن ہم بھی انہیں نظر انداز کردیں گے جیسا کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا تھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم لے آئے ہیں ان کے پاس ایک کتاب جس کی ہم نے پوری تفصیل بیان کردی ہے علم قطعی کی بنیاد پر ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئیں۔
— Bayan-ul-Quran
یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اس کی حقیقت کے مشاہدے کے ! جس دن اس کا مصداق ظاہر ہوجائے گا تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کیے رکھا تھا کہ یقیناً ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے تو کیا (اب) ہیں ہمارے لیے کوئی شفاعت کرنے والے کہ ہماری شفاعت کریں یا کوئی صورت کہ ہمیں (دنیا میں) لوٹا دیا جائے تاکہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جو کچھ (پہلے) ہم کرتے رہے تھے !) وہ تو اپنے آپ کو برباد کرچکے اور جو افترا وہ کرتے رہے تھے وہ ان سے گم ہوگیا۔
— Bayan-ul-Quran
بیشک تمہارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا عرش پر وہ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر (یا رات کو ڈھانپ دیتا ہے دن سے) جو اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور اس نے سورج چاند اور ستارے پیدا کیے جو اس کے حکم سے اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں آگاہ ہوجاؤ اسی کے لیے ہے خلق اور (اُسی کے لیے ہے) امر بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے
— Bayan-ul-Quran
پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
— Bayan-ul-Quran
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ اور اللہ کو پکارا کرو خوف اور امید کے ساتھ یقیناً اللہ کی رحمت اہل احسان بندوں کے بہت ہی قریب ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں بشارت دیتی ہوئی اس کی رحمت کے آگے آگے یہاں تک کہ وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بڑے بڑے بھاری بادل پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیں اور پھر اس سے ہر طرح کے میوے نکال لاتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو نکال لائیں گے (زمین سے) تاکہ تم نصیحت اخذ کرو
— Bayan-ul-Quran
اور زرخیز زمین تو اپنے رب کے حکم سے اپنا سبزہ نکالتی ہے اور جو (زمین) خراب ہے وہ کچھ نہیں نکالتی مگر کوئی ناقص سی چیز اسی طرح ہم اپنی آیات کو گردش میں لاتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو (ان کی) قدر کرنے والے ہوں
— Bayan-ul-Quran
ہم نے بھیجا تھا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا۔
— Bayan-ul-Quran
آپ ؑ کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم تو تمہیں ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
آپ ؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں کسی گمراہی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں تو رسول ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے
— Bayan-ul-Quran
میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں اپنے رب کے پیغامات اور میں تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں
— Bayan-ul-Quran
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک یاد دہانی تم ہی میں سے ایک فرد کے ذریعے سے آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کر دے اور تم (گناہوں سے) بچ سکو اور تم پر رحم کیا جائے۔
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے اس ؑ کو جھٹلایا تو بچالیا ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھی تھے کشتی میں اور ہم نے غرق کردیا ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا یقیناً وہ اندھے لوگ تھے
— Bayan-ul-Quran
اور قوم عاد کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا اس ؑ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی الٰہ اس کے سوا نہیں ہے تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟
— Bayan-ul-Quran
آپ ؑ کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے انکار کیا تھا کہا کہ ہم تو تمہیں کسی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
آپ ؑ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! مجھ پر کوئی حماقت طاری نہیں ہوئی بلکہ میں تو رسول ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کی جانب سے۔
— Bayan-ul-Quran
میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا رہا ہوں اور تمہارا دیانت دار خیر خواہ ہوں۔
— Bayan-ul-Quran
کیا تمہیں تعجب ہے اس بات پر کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے تاکہ وہ تمہیں خبردار کر دے اور ذرا یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا اور تمہیں جسمانی اعتبار سے بڑی کشادگی عطا فرمائی تو اللہ کے احسانات کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا (اے ہود (ؑ) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف اللہ کی بندگی کریں جو اکیلا ہے اور ہم چھوڑ بیٹھیں ان کو جن کو پوجتے تھے ہمارے آباء و اَجداد ! تو ہم پر لے آؤ (وہ عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
(ہود ؑ نے) فرمایا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور اس کا غضب واقع ہو ہی چکا ہے کیا تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ان ناموں کے بارے میں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے تھے اللہ نے اس کے لیے کوئی سند نہیں اتاری۔ تو (ٹھیک ہے) تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں
— Bayan-ul-Quran
تو ہم نے بچالیا اس ؑ کو اور جو (اہل ایمان) لوگ اس ؑ کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور ہم نے جڑ کاٹ دی اس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا اور نہیں تھے وہ ایمان لانے والے
— Bayan-ul-Quran
اور قوم ثمود کی طرف (بھیجا ہم نے) ان کے بھائی صالح ؑ کو اس ؑ نے کہا اے میری قوم عبادت کرو اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک خاص نشانی آگئی ہے یہ اللہ کی اونٹنی ہے تمہارے لیے ایک نشانی تو اسے چھوڑے رکھو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اسے نہ چھونا کسی برے ارادے سے (اگر تم نے ایسا کیا) تو ایک درد ناک عذاب تمہیں آپکڑے گا
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب اس نے تمہیں جانشین بنایا قوم عاد (کی تباہی) کے بعد اور تمہیں جگہ دی زمین میں تم اس کے نرم میدانوں میں محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر (بھی اپنے لیے) گھر بنالیتے ہو تو اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو اور مت پھرو زمین میں فساد مچاتے
— Bayan-ul-Quran
آپ ؑ کی قوم کے متکبر سرداروں نے ان لوگوں سے کہا جو دبا لیے گئے تھے (اور) جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہ (واقعی) کیا تم لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ (ہاں) ہم تو جو کچھ ان کو دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
(اس پر) وہ استکبار کرنے والے کہتے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور کہا کہ اے صالح لے آؤ ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر واقعی تم رسول ہو۔
— Bayan-ul-Quran
تو انہیں آپکڑا زلزے نے پھر وہ پڑے رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے
— Bayan-ul-Quran
تو (صالح ؑ نے) ان سے پیٹھ موڑ لی اور کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا اور میں نے (امکان بھر) تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم تو خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
اور لوط ؑ (کو بھی ہم نے بھیجا) جب اس نے کہا اپنی قوم سے کیا تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کر رہے ہو جو تم سے پہلے تمام جہان والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔
— Bayan-ul-Quran