7. سورہ الاعراف – آیات 81–120
سورہ الاعراف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
تم مردوں کا رخ کرتے ہو شہوت کے ساتھ عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم تو ہو ہی حد سے تجاوز کرنے والی قوم۔
— Bayan-ul-Quran
تو نہیں تھا اس کی قوم کا کوئی جواب سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا نکالو ان کو اپنی بستی سے یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو ہم نے نجات دے دی اس ؑ کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے وہ ہوگئی پیچھے رہنے والوں ہی میں
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے برسائی ان پر ایک بارش تو دیکھو کیا انجام ہوا مجرموں کا !
— Bayan-ul-Quran
اور قوم مدین کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیب ؑ کو) اس ؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس کے سوا۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے تو ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں سے ان کی چیزیں کم نہ کیا کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور نہ بیٹھا کرو ہر راستے پر ڈرانے دھمکانے کے لیے اور اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے (ہر اس شخص کو) جو ایمان لاتا ہے اور اس راہ کو کج کرتے ہوئے اور یاد کرو جبکہ تم کم تعداد میں تھے تو اللہ نے تمہاری تعداد زیادہ کردی اور (یہ بھی) دیکھو کہ مفسدوں کا کیسا کچھ انجام ہوتا رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ہے اس چیز پر جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا ہے تو تم صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے مابین فیصلہ فرما دے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
) کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے تکبر کی روش اختیار کی کہ اے شعیب ! ہم تجھے اور جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں انہیں اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے یا تم واپس آجاؤ ہماری ملت میں (حضرت شعیب ؑ نے) فرمایا : کیا اگر ہمیں (یہ سب کچھ) ناپسند ہو تب بھی ؟
— Bayan-ul-Quran
ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور ہمارے لیے قطعاً ممکن نہیں ہے کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں سوائے اس کے کہ اللہ جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے۔ اے ہمارے ربّ ! فیصلہ فرما دے ہمارے اور ہماری قوم کے مابین حق کے ساتھ اور یقیناً تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا کہ اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی کی تو تم خسارے والے ہوجاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
تو انہیں (بھی) آپکڑا ایک زلزلے نے اور وہ (بھی) پڑے رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ۔
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جنہوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا تھا ایسے ہوگئے کہ جیسے کبھی اس بستی میں بسے ہی نہیں تھے جن لوگوں نے شعیب ؑ کی تکذیب کی وہی ہوئے خسارے والے۔
— Bayan-ul-Quran
تو وہ ان کو چھوڑ کر چل دیا یہ کہتے ہوئے کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تو تمہیں پہنچا دیے تھے اپنے رب کے پیغامات اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی تو اب میں کیسے افسوس کروں اس قوم پر جس نے کفر کیا ہے !
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اس کے بسنے والوں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں (اور ان میں عاجزی پیدا ہوجائے)۔
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے اس برائی کو بھلائی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ لوگ خوب بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے آباء و اَجداد پر بھی تکلیف اور خوشی آتی رہی ہے پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں تھا
— Bayan-ul-Quran
اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر کھول دیتے آسمانوں اور زمین کی برکتیں لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں
— Bayan-ul-Quran
تو کیا یہ بستیوں والے اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب جبکہ وہ رات کو سوئے ہوئے ہوں
— Bayan-ul-Quran
اور کیا یہ بستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب دن چڑھے جب کہ وہ کھیل رہے ہوں
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ امن میں (یا بےخوف) ہیں اللہ کی چال سے ؟ اللہ کی چال سے کوئی اپنے آپ کو امن میں محسوس نہیں کرتا مگر وہی لوگ جو خسارہ پانے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو کیا ان لوگوں کو سبق نہیں ملا جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے پہلے رہنے والوں کے (ہلاک ہونے کے) بعد کہ ہم چاہیں تو ان کو بھی پکڑ لیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ! اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں پھر وہ کچھ سنتے ہی نہیں
— Bayan-ul-Quran
) یہ وہ بستیاں ہیں جن کی کچھ خبریں ہم آپ ﷺ کو سنا رہے ہیں اور ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن نشانیوں کے ساتھ تو وہ نہیں تھے ایمان لانے والے اس پر جس کا انہوں نے پہلے انکار کردیا تھا اسی طرح اللہ مہر کردیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی پاسداری نہیں پائی اور ہم نے تو ان کی اکثریت کو فاسق ہی پایا
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے ان (نشانیوں) کے ساتھ ظلم کیا تو دیکھ لو کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا !
— Bayan-ul-Quran
اور موسیٰ ؑ نے کہا : اے فرعون ! میں رسول ہوں تمام جہانوں کے رب کی طرف سے
— Bayan-ul-Quran
میں اس پر قائم ہوں کہ حق کے سوا کوئی بات اللہ سے منسوب نہ کروں میں لے کر آیا ہوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلی نشانی تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔
— Bayan-ul-Quran
اس (فرعون) نے کہا : اچھا اگر تم (واقعی) کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
تو (موسیٰ ؑ نے) اپنا عصا پھینکا تو اسی وقت وہ ایک حقیقی اژدھا بن گیا۔
— Bayan-ul-Quran
اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) نکالا تو اچانک وہ تھا دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار)۔
— Bayan-ul-Quran
فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ تو واقعتا کوئی بہت ماہر جادو گر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے تو اب تمہاری کیا رائے ہے ؟
— Bayan-ul-Quran
(پھر مشورہ دیتے ہوئے) انہوں نے کہا کہ (فی الحال) موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو مؤخر رکھیں اور مختلف شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔
— Bayan-ul-Quran
جو آپ کے پاس لے آئیں تمام ماہر جادو گروں کو۔
— Bayan-ul-Quran
) اور وہ جادو گر فرعون کے پاس آپہنچے انہوں نے کہا یقیناً ہمیں اجرتو ملے گا ہی اگر ہم غالب آگئے !
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا ہاں اور (انعام کے علاوہ) تم مقربین میں بھی شامل کرلیے جاؤ گے۔
— Bayan-ul-Quran
) (جادوگر) کہنے لگے : اے موسیٰ ! اب تم پہلے ڈالو گے یا ہم ہوجائیں پہلے ڈالنے والے ؟
— Bayan-ul-Quran
(حضرت موسیٰ ؑ نے) فرمایا : تم ڈالو ! تو جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہوں نے ان (حاضرین) پر دہشت طاری کردی اور ظاہر کردیا بہت بڑا جادو
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ ڈالو (تو سہی ذرا) اپنا عصا تو دفعتہً وہ (اژدھا بن کر) نگلنے لگا ان سب کو جو وہ گھڑلائے تھے
— Bayan-ul-Quran
پس حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ باطل ہو کر رہ گیا
— Bayan-ul-Quran
تو یہ (جادوگر) اسی وقت مغلوب ہوگئے اور وہ (فرعون اور اس کے سردار) ذلیل ہو کر رہ گئے
— Bayan-ul-Quran
اور جادو گر سجدے میں گرا دیے گئے
— Bayan-ul-Quran