7. سورہ الاعراف – آیات 161–200
سورہ الاعراف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ آباد ہوجاؤ اس بستی میں اور اس میں سے کھاؤ (پیو) جہاں سے بھی چاہو اور استغفار کرتے رہو اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم محسنین کو اور بھی زیادہ عطا کریں گے۔
— Bayan-ul-Quran
تو بدل دی ان لوگوں نے جو ان میں سے ظالم تھے اس بات کے بجائے جو ان سے کہی گئی تھی ایک (دوسری) بات جن لوگوں نے وہ لفظ بدلنے کی حرکت کی تھی ان میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اور وہ سب کے سب ہلاک ہوگئے
— Bayan-ul-Quran
اور ان سے ذراپوچھئے اس بستی کے بارے میں جو ساحل سمندر پر تھی جب کہ وہ سبت کے قانون میں حد سے تجاوز کرنے لگے جب کہ آتی تھیں ان کی مچھلیاں ان کے پاس ہفتے کے دن چھلانگیں لگاتی ہوئی اور جس دن سبت نہیں ہوتا تھا وہ ان کے قریب نہیں آتی تھیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ کیوں نصیحت کر رہے ہو ان لوگوں کو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا پھر انہیں عذاب دینے والا ہے بہت سخت عذاب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب کے ہاں معذرت پیش کرنے کے لیے اور شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کر ہی لیں
— Bayan-ul-Quran
پھر جب انہوں نے نظرانداز کردیا اس نصیحت کو جو انہیں کی جار ہی تھی تو ہم نے بچالیا ان کو جو برائی سے روکتے تھے اور پکڑلیا ہم نے ان کو جو ظلم کے مرتکب ہوئے تھے بہت ہی برے عذاب میں ان کی نافرمانی کے سبب
— Bayan-ul-Quran
توجب وہ بہت بڑھ گئے اس میں جس سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ جاؤ ذلیل بندر بن جاؤ !
— Bayan-ul-Quran
اور (یاد کرو) جب آپ ﷺ کے رب نے یہ اعلان کردیا کہ وہ لازماً مسلط کرتا رہے گا ان پر قیامت کے دن تک ایسے لوگوں کو جو انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کرتے رہیں گے یقیناً آپ کا رب سزا دینے میں بہت جلدی کرتا ہے اور یقیناً وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے انہیں زمین کے اندر منتشر کردیا فرقوں کی صورت میں ان میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں جو دوسری طرح کے ہیں ہم انہیں بھلائی اور برائی سے آزماتے رہے ہیں کہ شاید یہ لوگ لوٹ آئیں
— Bayan-ul-Quran
لیکن ان کے بعد ایسے (نا خلف) جانشین کتاب (تورات) کے وارث ہوگئے جو اس حقیر دنیا کے سازو سامان ہی کو حاصل کرتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ ہمیں تو بخش ہی دیا جائے گا اگر ایسا ہی اور سامان بھی ان کو دے دیا جائے تو (وہ بھی) لے لیں گے کیا ان سے عہد نہیں لیا گیا تھا کتاب (تورات) کی نسبت کہ نہیں منسوب کریں گے اللہ سے کوئی بات مگر حق اور انہوں نے پڑھ بھی لیا جو کچھ اس میں تھا اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
— Bayan-ul-Quran
اور جن لوگوں نے کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا اور نماز قائم کی تو یقینا ایسے مصلحین کا اجرہم ضائع نہیں کریں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر ایسے اٹھا دیا تھا جیسے سائبان ہو اور انہیں لگتا تھا کہ اب یہ ان پر گرنے ہی والا ہے (ہم نے اس وقت ان سے کہا تھا کہ) تھام لو اس کو مضبوطی سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تاکہ تم (غلط روی سے) بچتے رہو
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب نکالا آپ ﷺ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! ہم اس پر گواہ ہیں مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے
— Bayan-ul-Quran
یا تم یہ کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں سے تھے تو (پروردگار !) کیا تو ہمیں ہلاک کرے گا ان باطل پسند لوگوں کے فعل کے بدلے میں ؟
— Bayan-ul-Quran
اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو تفصیل سے بیان کردیتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔
— Bayan-ul-Quran
اور سنائیے انھیں خبر اس شخص کی جس کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تو وہ ہوگیا گمراہوں میں سے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم چاہتے تو ان (آیات) کے ذریعے سے اسے اور بلند کرتے مگر وہ تو زمین کی طرف ہی دھنستا چلا گیا اور اس نے پیروی کی اپنی خواہشات کی تو اس کی مثال کتے کی سی ہے اگر تم اس کے اوپر بوجھ رکھو تب بھی ہانپے گا اور اگر چھوڑ بھی دو تب بھی ہانپتا رہے گا یہی مثال ہے اس قوم کی (بھی) جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا سو (اے نبی ﷺ !) آپ یہ واقعات سنا دیجیے شاید کہ یہ تفکر کریں
— Bayan-ul-Quran
کیا ہی بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے
— Bayan-ul-Quran
جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جنہیں وہ گمراہ کر دے تو وہی لوگ تباہ ہونے والے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں بہت سے جن اور انسان ان کے دل تو ہیں لیکن ان سے غور نہیں کرتے ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور تمام اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو پکارو اسے ان (اچھے ناموں) سے اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو اس کے ناموں میں کجی نکالتے ہیں عنقریب وہ بدلہ پائیں گے اپنے اعمال کا
— Bayan-ul-Quran
اور جو انسان ہم نے پیدا کیے ہیں ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جو حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ عدل کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے تو ہم رفتہ رفتہ انہیں ایسے پکڑیں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا
— Bayan-ul-Quran
اور میں ان کو ڈھیل دوں گا یقینامیری چال بہت مضبوط ہے۔
— Bayan-ul-Quran
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی (محمد ﷺ کو کوئی جنون نہیں ہے وہ نہیں ہیں مگر واضح طور پر خبردار کردینے والے
— Bayan-ul-Quran
اور کیا ان لوگوں نے غور و فکر نہیں کیا آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور اللہ نے جو چیزیں بنائی ہیں (ان میں) اور یہ (نہیں سوچا) کہ ہوسکتا ہے ان کا مقررہ وقت قریب پہنچ گیا ہو اور اب اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟
— Bayan-ul-Quran
جس کو اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور وہ چھوڑ دے گا ان کو ان کی سر کشی میں اندھے ہو کر آگے بڑھتے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ یہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ آپ کہیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے وہی ظاہر کرے گا اسے اس کے وقت پر وہ آسمانوں اور زمین کے اندر بڑا بھاری بوجھ ہے وہ نہیں آئے گی تم پر مگر اچانک (اے نبی ﷺ آپ سے تو یہ اس طرح پوچھتے ہیں گویا آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے اپنی جان کے بارے میں بھی کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا سوائے اس کے جو اللہ چاہے نہیں ہوں میں مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہوں
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے تو جب وہ (شوہر) ڈھانپ لیتا ہے اس (اپنی بیوی) کو تو اسے حمل ہوجاتا ہے ہلکا سا حمل تو وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہتی ہے پھر جب بوجھل ہوجاتی ہے تو وہ دونوں اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح سالم بچہ عطا کر دے گا تو ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب اللہ نے انہیں عطا کردیا صحیح سالم بچہ تو ٹھہرا لیے انہوں نے اس کے شریک اس میں جو اللہ نے ان کو عطا کیا تھا اللہ بہت بلند وبالا ہے ان کے اس شرک سے
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ ان کو شریک کر رہے ہیں (اللہ کے ساتھ) جو کوئی شے تخلیق کرتے ہی نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور نہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ وہ اپنی مدد پر قادر ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم انہیں پکارو راہنمائی کے لیے (کہ تمہیں راستہ دکھا دیں) تو وہ تمہاری طرف توجہ ہی نہیں کرسکیں گے برابر ہے تمہارے لیے کہ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو
— Bayan-ul-Quran
یقیناً جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے ماسوا وہ بھی تمہاری طرح کے بندے ہیں ان کو پکار دیکھو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے یہ چلتے ہوں ؟ یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے یہ پکڑتے ہوں ؟ یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ دیکھتے ہوں ؟ یا ان کے کان ہیں جن سے یہ سنتے ہوں ؟ (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ پکار لو اپنے سب شریکوں کو پھر میرے خلاف چالیں چلو (جو چل سکتے ہو) اور مجھے کوئی مہلت نہ دو
— Bayan-ul-Quran
یقیناً میرا مدد گار تو وہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور صالح بندوں کا وہی پشت پناہ ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جنہیں تم پکار رہے ہو اس (اللہ) کو چھوڑ کر وہ تمہاری مدد کی استطاعت ہی نہیں رکھتے اور نہ وہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم انہیں راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ سن نہ سکیں گے اور تمہیں ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں جب کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) آپ درگزر کو تھام لیجیے اور بھلی بات کا حکم دیتے رہیے اور جاہلوں سے اعراض کریں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر کبھی آپ کو کوئی چوک لگ ہی جائے شیطان کی طرف سے تو اللہ کی پناہ طلب کریں یقیناً وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran