12. سورہ یوسف – آیات 81–111
سورہ یوسف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے (والوں) سے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں
— Bayan-ul-Quran
آپ نے فرمایا : (نہیں !) بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کردیا ہے پس صبر ہی بہتر ہے ہوسکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ نے ان سے رخ پھیرلیا اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف پر ! (اور رونا شروع کردیا) اور صدمے سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں کیونکہ آپ غم کو (اندر ہی اندر) پیتے رہتے تھے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو
— Bayan-ul-Quran
اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ لوگ یوسف کے ہاں پہنچے انہوں نے کہا : اے عزیز (صاحب اختیار) ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بڑی سختی آگئی ہے اور ہم بہت حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں لیکن (اس کے باوجود) آپ ہمارے لیے پیمانے پورے بھر کردیجیے اور ہمیں خیرات بھی دیجیے یقیناً اللہ صدقہ دینے والوں کو جزاد یتا ہے
— Bayan-ul-Quran
آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم نے کیا کیا تھا یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ جب کہ تم نادان تھے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : تو کیا آپ یوسف ہیں ؟ یوسف نے فرمایا : ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور یقیناً ہم ہی خطاکار تھے
— Bayan-ul-Quran
یوسف نے فرمایا : آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور (جا کر) اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو آپ کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے تمام اہل خانہ کو
— Bayan-ul-Quran
اور جب قافلہ چلا (مصر سے تو) ان کے والدنے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں
— Bayan-ul-Quran
انہوں (گھر والوں) نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ تو اپنے اسی پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو جب آیا بشارت دینے والا اور اس نے ڈالا اس (قمیص) کو یعقوب کے چہرے پر تو آپ پھر سے ہوگئے دیکھنے والے آپ نے فرمایا : کیا میں تم سے کہتا نہیں تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جو تم نہیں جانتے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے یقیناً ہم ہی خطاکار تھے
— Bayan-ul-Quran
آپ نے فرمایا : عنقریب میں مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اپنے رب سے یقیناً وہی ہے بخشش والا بہت رحم کرنے والا
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور کہا کہ اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں اللہ نے چاہا تو پورے امن و چین کے ساتھ (یہاں رہیں)
— Bayan-ul-Quran
اور آپ نے اپنے والدین کو اونچے تخت پر بٹھایا اور وہ سب کے سب یوسف کے سامنے سجدے میں گرگئے اور یوسف نے کہا : ابا جان ! یہ ہے تعبیر اس خواب کی جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے رب نے اس کو سچا کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بہت احسان کیا جب مجھے قیدخانے سے نکلوایا اور آپ لوگوں کو (یہاں) لے آیا صحرا سے اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دشمنی ڈال دی تھی یقیناً میرا رب غیر محسوس طور پر تدبیر کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ یقیناً وہی ہے ہر شے کا علم رکھنے والا حکمت والا
— Bayan-ul-Quran
اے میرے رب ! تو نے مجھے حکومت بھی عطا کی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر (یا معاملہ فہمی) کا علم بھی سکھایا ہے اے وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے توُ ہی میرا کارساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مجھے وفات دیجیو فرمانبرداری کی حالت میں اور مجھے شامل کر دیجیو اپنے صالح بندوں میں
— Bayan-ul-Quran
یہ ہے غیب کی خبروں میں سے جو ہم وحی کرتے ہیں (اے محمد) آپ کی طرف اور آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے اتفاقِ رائے کیا تھا اپنے معاملے پر اور جب وہ لوگ سازش کر رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور بہت سے لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں چاہے آپ کتنی ہی خواہش رکھیں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی !) آپ اس پر ان سے کوئی اجر تو نہیں مانگ رہے یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے
— Bayan-ul-Quran
اور کتنی ہی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر سے یہ گزرتے رہتے ہیں لیکن یہ ان سے اعراض ہی کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح کہ (کسی نہ کسی نوع کا) شرک بھی کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ اس سے بےخوف ہوچکے ہیں کہ آدھمکے ان پر ڈھانپ لینے والی آفت اللہ کے عذاب کی یا (ان کو یہ ڈر بھی نہیں رہا کہ) آجائے ان پر قیامت اچانک اور انہیں اس کا احساس تک نہ ہو
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی !) آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی !) ہم نہیں بھیجتے رہے آپ سے پہلے (رسول بنا کر) مگر مردوں ہی کو بستیوں والوں میں سے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے
— Bayan-ul-Quran
یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہوگئے اور لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی پس بچالیا گیا ان کو جن کو ہم نے چاہا۔ اور ہمارا عذاب پھیرا نہیں جاسکتا مجرم قوم سے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً ان (سابقہ اقوام) کے واقعات میں ہوش مند لوگوں کے لیے عبرت ہے یہ (قرآن) ایسی بات نہیں جسے گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اس کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور (اس میں) تفصیل ہے ہرچیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو (اس پر) ایمان لاتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
Learning plans for Surah Yusuf
Structured daily lessons to study this surah with reflection and consistency.
Browse all learning plans →Build a steady Quran habit
Save your place, set a reading goal, and return to the next chapter without losing momentum.