11. سورہ ہود
سورہ ہود اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
الۗرٰ۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات (پہلے) پختہ کی گئی ہیں پھر ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس ہستی کی طرف سے جو حکیم اور خبیر ہے
— Bayan-ul-Quran
کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے۔ یقیناً میں ہوں تمہارے لیے اسی کی جانب سے خبردار کرنے والا اور بشارت دینے والا
— Bayan-ul-Quran
اور یہ کہ اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کی جناب میں توبہ کرو وہ تمہیں (دُنیوی زندگی میں) مال و متاع دے گا بہت اچھا ایک وقت معین تک اور ہر صاحب فضل کو اس کے حصے کا فضل عطا کرے گا اور اگر تم پھر جاؤ گے تو مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا
— Bayan-ul-Quran
اللہ ہی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے
— Bayan-ul-Quran
آگاہ ہوجاؤ یہ لوگ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں تاکہ اللہ سے چھپ جائیں آگاہ ہوجاؤ کہ جب وہ اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں تب بھی اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ تو اس کو بھی جانتا ہے جو کچھ سینوں کے اندر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے اور وہ جانتا ہے اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی اور اس کے عارضی طور پر سونپے جانے کی جگہ کو بھی یہ سب کچھ ایک روشن کتاب میں (در ج) ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اس کا تخت تھا پانی پر تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے اچھے عمل کرنے والا اور اگر آپ کہیں کہ تمہیں اٹھایا جائے گا مرنے کے بعد تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر مؤخر کیے رکھیں ہم ان سے عذاب کو ایک خاص مدت تک تو وہ کہتے ہیں کہ کس چیز نے روک رکھا ہے اسے آگاہ ہوجاؤ ! جس دن یہ ان پر آجائے گا تو ان کی طرف سے پھیرا نہیں جائے گا اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا یہ لوگ استہزا کیا کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا پھر (جب) ہم اس سے وہ چھین لیتے ہیں تو وہ ہوجاتا ہے بالکل مایوس نہایت نا شکرا
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم مزہ چکھائیں اسے نعمتوں کا کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہوئی تھی تو ضرور کہے گا کہ میرے تو سارے دلدّر دو رہو گئے بیشک وہ اترانے والا اور فخر جتانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کی روش اختیار کی اور نیک اعمال کیے انہی کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اج رہے
— Bayan-ul-Quran
تو (اے نبی !) شاید آپ کچھ چیزیں چھوڑ دیں اس میں سے جو آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے اور آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو رہا ہے جو وہ کہہ رہے ہیں کہ کیوں نہیں ان کے اوپر اتار دیا گیا کوئی خزانہ یا کیوں نہیں آیا ان کے پاس کوئی فرشتہ اے نبی !) آپ تو صرف خبردار کرنے والے ہیں اور ہرچیز کا ذمہ دار اللہ ہے
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) اس نے خود گھڑ لیا ہے آپ کہیے کہ اچھا تم لوگ بھی لے آؤ اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی اور (اس کے لیے) بلا لو تم جس کو بھی بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر وہ (تمہارے مدد گار) تمہاری اس دعا کو قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے نازل ہوا ہے اور یہ کہ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اس کے۔ تو کیا اب تم سرتسلیم خم کرتے ہو
— Bayan-ul-Quran
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انہیں اسی (دنیا کی زندگی) میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی
— Bayan-ul-Quran
یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے اور اس (دُنیا) میں انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب حبط ہوجائے گا اور جو اعمال انہوں نے کیے وہ بھی ضائع ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے آئے اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی اور اس سے پہلے کتاب موسیٰ بھی موجود تھی جو امام (راہنما) بھی تھی اور رحمت بھی یہی لوگ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لائیں گے اور جو اس کا انکار کرے گا ان گروہوں میں سے تو آگ ہی اس کے وعدہ کی جگہ ہے تو آپ اس کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑیں یقیناً یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یہ وہ لوگ ہیں جو پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر آگاہ ہوجاؤ ! ایسے ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے
— Bayan-ul-Quran
جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہ لوگ زمین میں (اللہ کو) ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی ہے ان کے لیے عذاب دو گنا کیا جاتا رہے گا اس لیے کہ) نہ تو وہ سننے کی صلاحیت رکھتے تھے اور نہ ہی دیکھتے تھے
— Bayan-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو برباد کرلیا اور ان سے گم ہوگیا جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
کچھ شک نہیں کہ آخرت میں سب سے بڑھ کر خسارہ پانے والے یہی لوگ ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی وہ ہوں گے جنت والے اور اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش
— Bayan-ul-Quran
ان دونوں گروہوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا کیا یہ دونوں برابر ہیں مثال کے اعتبار سے ؟ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف (تو آپ نے کہا) کہ میں تمہارے لیے ایک کھلا خبردار کردینے والا ہوں
— Bayan-ul-Quran
کہ مت پوجو کسی کو سوائے اللہ کے۔ مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دردناک دن کے عذاب کا
— Bayan-ul-Quran
تو اس کی قوم کے ان سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی کہ ہم نہیں دیکھتے (اے نوح) آپ کو مگر اپنے جیسا ایک انسان اور ہم نہیں دیکھتے مگر یہ کہ آپ کی پیروی کرنے والے بظاہر ہم میں ادنیٰ درجے کے لوگ ہیں اور ہمیں نظر نہیں آتی اپنے مقابلے میں تم لوگوں میں کوئی بھی فضیلت بلکہ ہمارا گمان تو یہی ہے کہ تم لوگ جھوٹے ہو
— Bayan-ul-Quran
نوح ؑ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا غور کرو اگر میں (پہلے سے ہی) اپنے رب کی طرف سے بیّنہ پر تھا اور (اب) اس نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطافرما دی ہے (اور یہ وہ چیز ہے) جس کو تمہاری نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے تو کیا ہم چپکا دیں تم پر اس کو (زبردستی) جبکہ تم لوگ اس کو ناپسند کرتے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور اے میری قوم کے لوگو ! میں تم سے اس کے بدلے کوئی مال طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں ان کو دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں وہ یقیناً اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت میں مبتلا ہوگئے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور اے میری قوم کے لوگو ! (ذرا سوچو کہ) اگر میں ان کو اپنے ہاں سے بھگا دوں گا تو کون میری مدد کرے گا اللہ کے مقابلے میں تو کیا تم لوگ نصیحت اخذ نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میں یہ کہہ سکتا ہوں ان لوگوں کے بارے میں جنہیں تمہاری آنکھیں حقیر دیکھ رہی ہیں کہ اللہ انہیں کوئی خیر نہیں دے گا اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے (اگر میں ان کو دور کر دوں) تب تو یقیناً میں خود ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : اے نوح ! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا پس لے آؤہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
آپ نے فرمایا کہ وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گا تمہارے اوپر اگر وہ چاہے گا اور پھر تم اس کو شکست نہیں دے سکو گے
— Bayan-ul-Quran
اور تم لوگوں کو میری نصیحت کچھ فائدہ نہیں دے سکتی اگر میں تمہیں نصیحت کرنا بھی چاہوں اگر اللہ ہی تمہاری گمراہی کا فیصلہ کرچکا ہے وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد) نے اس (قرآن) کو گھڑ لیا ہے ؟ آپ کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو اس کا وبال مجھ ہی پر آئے گا اور میں بری ہوں اس سے جو جرم تم کر رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور وحی کردی گئی نوح کی طرف کہ اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا تمہاری قوم میں سے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لا چکے ہیں تو جو کچھ وہ کر رہے ہیں آپ اس کی وجہ سے غمگین نہ ہوں
— Bayan-ul-Quran
اور (اب) آپ کشتی بنائیے ہماری نگاہوں کے سامنے اور ہماری ہدایات کے مطابق اور جو ظالم ہیں ان کے بارے میں اب مجھ سے بات نہ کیجیے گا اب) یہ سب کے سب غرق کیے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ کشتی بنا رہے تھے اور جب بھی آپ کے پاس سے گزرتے آپ کی قوم کے سردار تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے نوح فرماتے کہ اگر (آ ج) تم ہم سے تمسخر کر رہے ہو تو (وہ وقت قریب آنے والا ہے کہ) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے جیسے کہ اب تم تمسخر کر رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
تو عنقریب تم جان لوگے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر اترتا ہے وہ عذاب جو قائم رہنے والا (دائمی) ہوگا
— Bayan-ul-Quran
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور جوش سے ابل پڑا ہم نے کہا : (اے نوح !) اپنی اس کشتی میں تمام جانداروں کا ایک ایک جوڑا رکھ لو اور اپنے اہل و عیال کو بھی سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے حکم گزر چکا ہے اور ان لوگوں کو بھی (سوار کرلیں) جو ایمان لائے ہیں اور نہیں ایمان لائے تھے آپ کے ساتھ مگر بہت ہی کم
— Bayan-ul-Quran