11. سورہ ہود – آیات 41–80
سورہ ہود اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور نوح نے فرمایا : سوار ہوجاؤ اس میں اللہ کے نام کے ساتھ ہی ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا لنگر انداز ہونا بھی یقیناً میرا رب بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ چل رہی تھی ان سب کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان سے اور نوح نے پکارا اپنے بیٹے کو اور وہ ایک کنارے کی طرف تھا کہ اے میرے بیٹے آؤ ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ مت رہو
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا کہ میں ابھی کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا نوح نے کہا : آج کے دن کوئی بچانے والا نہیں ہے اللہ کے امر سے سوائے اس کے جس پر اللہ ہی رحم فرما دے اور حائل ہوگئی ان دونوں کے درمیان ایک موج اور وہ ہوگیا غرق ہونے والوں میں
— Bayan-ul-Quran
اور حکم ہوا کہ اے زمین تو اپنے پانی کو نگل جا اور اے آسمان تو بھی اب تھم جا اور پانی سکھا دیا گیا اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا دوری (ہلاکت) ہے اس قوم کے لیے جو ظالم تھی
— Bayan-ul-Quran
اور پکارا نوح نے اپنے رب کو اور کہا کہ اے میرے پروردگار ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور یقیناً تیرا وعدہ سچا ہے اور تو تمام حاکموں میں سب سے بڑا اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا حاکم ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے فرمایا کہ اے نوح ! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے اس کے اعمال غیر صالح ہیں تو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کریں جس کے بارے میں آپ کو علم نہیں میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنیں
— Bayan-ul-Quran
نوح نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ میں تجھ سے ایسی بات کا سوال کروں جس کے بارے میں میرے پاس کوئی علم نہیں ہے اور اگر تو نے مجھے معاف نہ فرما دیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں ہوجاؤں گا خسارہ پانے والوں میں
— Bayan-ul-Quran
حکم ہوا اے نوح اتر جاؤ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو آپ پر بھی ہوں گی اور ان امتوں پر بھی جو آپ کے ساتھیوں کی نسلوں سے وجود میں آئیں گی اور کچھ اور قومیں (بھی ہوں گی) جنہیں ہم (دنیا کے) کچھ فوائد دیں گے پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا
— Bayan-ul-Quran
(اے محمد !) یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کر رہے ہیں آپ کی طرف اس سے پہلے نہ آپ ان کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم تو آپ صبر کیجئے یقیناً انجام کار بھلا ہوگا اہل تقویٰ ہی کا
— Bayan-ul-Quran
اور قوم عاد کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی ہود ؑ کو آپ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو تمہارا کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا۔ (اس سلسلے میں) تم محض جھوٹ گھڑتے ہو
— Bayan-ul-Quran
اے میری قوم کے لوگو ! میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ نہیں ہے میرا اجر مگر اسی کے ذمہ جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے
— Bayan-ul-Quran
اور اے میری قوم کے لوگو ! اپنے پروردگار سے استغفار کرو پھر اسی کی طرف رجوع کرو وہ آسمان سے تم پر خوب پانی برسائے گا اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید قوت کا اضافہ فرمائے گا اور تم روگردانی نہ کرو مجرم بن کر
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ اے ہود ! تم ہمارے پاس کوئی سند لے کر نہیں آئے اور ہم نہیں ہیں چھوڑنے والے اپنے معبودوں کو صرف تمہارے کہنے پر اور ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے ہود ؑ نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری ہوں ان سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو اس کے سوا
— Bayan-ul-Quran
اس کے سواپس تم سب مل کر میرے خلاف جو چالیں چل سکتے ہو چل لو پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو
— Bayan-ul-Quran
میں نے تو توکل کیا ہے اللہ پر جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے نہیں ہے کوئی بھی جاندار مگر اس کی پیشانی اسی کی گرفت میں ہے یقیناً میرا رب تو سیدھی راہ پر ہے
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر تم پیٹھ موڑ لو (انکار کرو) تو میں نے پہنچا دیا ہے تمہیں (وہ پیغام) جو مجھے دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور میرا رب تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے۔ یقیناً میرا رب ہرچیز پر نگہبان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب ہمارا (عذاب کا) فیصلہ آگیا تو ہم نے بچالیا ہود ؑ کو اور آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو اپنی رحمت سے اور ہم نے انہیں نجات دے دی ایک بہت ہی بھاری عذاب سے
— Bayan-ul-Quran
یہ تھی قوم عاد جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیات کا اور نافرمانی کی اس کے رسولوں کی اور انہوں نے پیروی کی ہر سرکش و دشمنِ حق کے حکم کی
— Bayan-ul-Quran
اور ان کے پیچھے لگا دی گئی لعنت اس دنیا میں بھی اور قیامت کے دن (کے لیے) بھی آگاہ ہوجاؤ قوم عاد نے اپنے رب کا کفر کیا تھا۔ سن لو پھٹکار ہے عاد پر جو قوم ہود ؑ تھی
— Bayan-ul-Quran
اور ثمود کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی صالح کو آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا تو اس سے اپنے گناہ بخشواؤ پھر اسی کی جناب میں رجوع کرو یقیناً میرا رب قریب ہے اور دعا کا قبول کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہ اے صالح ! آپ سے تو ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں اس سے پہلے کیا آپ ہمیں روک رہے ہیں ان کو پوجنے سے جن کو ہمارے آباء و اَجداد پوجتے تھے ؟ اور یقیناً جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں اس کے بارے میں ہمیں بہت شکوک و شبہات ہیں
— Bayan-ul-Quran
صالح نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا سوچوتو سہی اگر میں (پہلے سے ہی) اپنے رب کی طرف سے بینہّ پر تھا اور اللہ نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطا کردی تو اب اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کون بچائے گا ؟ تم تو اضافہ نہیں کرو گے میرے لیے مگر خسارہ ہی میں
— Bayan-ul-Quran
اور (دیکھو) میری قوم کے لوگو ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اسے چھوڑے رکھو کہ یہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں اور (دیکھنا) کسی برے ارادے سے اسے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں آپکڑے گا ایک قریبی عذاب
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو صالح نے فرمایا : اب تم اپنے گھروں میں تین دن تک رہ بس لو۔ یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا ثابت نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
تو جب ہمارا فیصلہ آگیا تو ہم نے نجات دی صالح کو اور ان کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے (انہیں بچا لیا)۔ یقیناً آپ کا پروردگار بہت طاقتور زبردست ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان ظالموں کو پکڑ لیا ایک چنگھاڑ نے تو وہ اپنے گھروں کے اندر اوندھے پڑے رہ گئے
— Bayan-ul-Quran
گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں تھے آگاہ ہوجاؤ یقیناً ثمود نے اپنے رب کا کفر کیا۔ آگاہ ہوجاؤ پھٹکار ہے ثمود پر
— Bayan-ul-Quran
اور ابراہیم کے پاس ہمارے فرستادے بشارت لے کر آئے۔ انہوں نے کہا : سلام ابراہیم نے بھی (جواب میں) سلام کہا پھر کچھ دیر نہ گزری کہ آپ لے آئے ایک بچھڑا بھنا ہوا
— Bayan-ul-Quran
پھر جب آپ نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو آپ نے ان میں اجنبیت پائی اور ان کی طرف سے ایک خوف محسوس کیا انہوں نے کہا : آپ ڈرئیے نہیں اصل میں تو ہم بھیجے گئے ہیں قوم لوط کی طرف
— Bayan-ul-Quran
اور آپ کی بیوی (کہیں قریب) کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے بشارت دی اسحاق ؑ کی اور اسحاق ؑ کے بعد یعقوب کی
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : ہائے میری شامت ! کیا اب میں بچہ جنوں گی جبکہ میں نہایت بوڑھی ہوچکی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں ! یہ تو بہت عجیب بات ہے
— Bayan-ul-Quran
فرشتوں نے کہا : کیا آپ تعجب کرتی ہیں اللہ کے فیصلے پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی کے گھر والو یقیناً اللہ لائق حمد اور بزرگی والا ہے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور یہ بشارت بھی پہنچ گئی تو آپ نے جھگڑنا شروع کردیا ہم سے قوم لوط کے بارے میں
— Bayan-ul-Quran
یقیناً ابراہیم بہت ہی بردبار نرم دل اور اللہ کی جناب میں رجوع کرنے والے تھے
— Bayan-ul-Quran
اے ابراہیم چھوڑیے اس معاملے کو اب تو آپ کے رب کا فیصلہ آچکا ہے اور ان پر وہ عذاب آکر ہی رہے گا جسے لوٹایا نہیں جاسکے گا
— Bayan-ul-Quran
اور جب آئے ہمارے فرستادے لوط ؑ کے پاس تو آپ ان کی وجہ سے بڑے غمگین ہوئے اور آپ کا دل بہت تنگ ہوا اور آپ کہنے لگے کہ آج تو بہت سختی کا دن ہے
— Bayan-ul-Quran
اور آئے آپ کی قوم کے لوگ دیوانہ وار دوڑتے ہوئے آپ (کے گھر) کی طرف اور وہ پہلے سے ہی گندے کاموں میں ملوث تھے لوط ؑ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں (موجود) ہیں وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں تو اللہ کا خوف کرو اور مجھے میرے مہمانوں کے معاملہ میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ تمہاری ان بیٹیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے اور تم خوب جانتے ہو جو ہم چاہتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
لوط ؑ نے کہا : کاش میرے پاس تمہارے مقابلہ کے لیے کوئی طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کی میں پناہ لے لیتا
— Bayan-ul-Quran