12. سورہ یوسف – آیات 41–80
سورہ یوسف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی دے دی جائے گی اور پرندے اس کے سر میں سے (نوچ نوچ کر) کھائیں گے فیصلہ کردیا گیا ہے اس معاملے کا جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور یوسف نے کہا اس شخص سے جس کے بارے میں آپ نے گمان کیا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا تو اسے بھلائے رکھا شیطان نے ذکر کرنا اپنے آقا سے تو آپ رہے جیل میں کئی برس تک
— Bayan-ul-Quran
اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو کھا رہی ہیں سات دبلی گائیں اور سات بالیاں ہیں ہری اور دوسری (سات) خشک تو اے میرے درباریو ! مجھے بتاؤ تعبیر میرے خواب کی اگر تم لوگ خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے
— Bayan-ul-Quran
اور کہا اس شخص نے جو ان دونوں (قیدیوں) میں سے نجات پا گیا تھا اور ایک طویل عرصے کے بعد اسے (اچانک) یاد آگیا (اس نے کہا) میں بتادوں گا تم لوگوں کو اس کی تعبیر بس مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیں
— Bayan-ul-Quran
اے یوسف ! اے راست باز ! ہمیں تعبیر بتائیے سات موٹی گائیوں کے بارے میں کہ انہیں کھا رہی ہیں سات دبلی اور سات سبز بالیوں اور دوسری (سات) خشک بالیوں کے بارے میں تاکہ میں واپس جاؤں (تعبیر لے کر) ان لوگوں کے پاس تاکہ انہیں بھی معلوم ہوجائے
— Bayan-ul-Quran
یوسف نے (تعبیر بتاتے ہوئے) فرمایا کہ تم سات سال تک خوب زراعت کرو گے لگاتار تو (اس دوران میں) جو فصل بھی تم کاٹو اسے رہنے دینا اس کی بالیوں ہی میں سوائے اس قلیل تعداد کے جو تم کھاؤ
— Bayan-ul-Quran
پھر اس کے بعد سات سال آئیں گے بہت سخت وہ (سات سال) چٹ کر جائیں گے اس کو جو کچھ تم نے ان کے لیے بچا رکھا ہوگا سوائے اس کے جو تم (بیج کے لیے) محفوظ کرلو گے
— Bayan-ul-Quran
پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال کہ اس میں خوب بارشیں ہوں گی لوگوں پر اور اس میں وہ (انگور کا) رس نچوڑیں گے
— Bayan-ul-Quran
(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ پھر جب آیا آپ کے پاس ایلچی تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقا کے پاس اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے یقیناً میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
اس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے (اس پر) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں
— Bayan-ul-Quran
آپ نے فرمایا کہ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور جاننے والا بھی ہوں
— Bayan-ul-Quran
اور اس طرح ہم نے یوسف کو تمکن عطا کیا (مصر کی) زمین میں کہ وہ اس میں جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ بنا لے ہم اپنی رحمت سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں
— Bayan-ul-Quran
اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب آپ نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے (تمہارا بھائی) ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور بہترین مہمان نوازی کرنے والا بھی ہوں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم اسے میرے پاس لے کر نہیں آؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کر کے رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور یوسف نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) ان کے کجاو وں میں رکھ دو تاکہ وہ پہچانیں ان کو جب لوٹیں اپنے اہل و عیال کی طرف شاید کہ (اس طرح) وہ دوبارہ آئیں
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے
— Bayan-ul-Quran
یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے
— Bayan-ul-Quran
یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے
— Bayan-ul-Quran
تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور جب وہ آئے یوسف کے پاس تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتادیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو اب مت غمگین ہونا اس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
پھر جب آپ نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کرا دیا تو رکھ دیا پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں پھر ایک پکارنے والے نے پکار لگائی کہ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے پوچھا ان کی طرف مڑ کر کہ آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جام زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد مچانے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے ہرگز نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
انہوں (شاہی ملازمین) نے کہا کہ پھر اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم لوگ جھوٹے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جام زریں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہوگا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو آپ نے (تلاشی) شروع کی ان کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے پھر آپ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں۔ اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحب علم بھی ہے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے اس کو چھپائے رکھا یوسف نے اپنے جی میں اور ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا آپ نے (دل ہی دل میں) کہا کہ تم بجائے خود بہت برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ کہنے لگے : اے عزیز (صاحب اختیار) ! اس کا والد جو ہے بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بڑے ہی نیک انسان ہیں
— Bayan-ul-Quran
یوسف نے فرمایا : اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم پکڑ لیں کسی اور کو اس شخص کے بجائے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال برآمد کیا ہے یقیناً اس صورت میں تو ہم ظالم ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran