10. سورہ یونس – آیات 41–80
سورہ یونس اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو آپ کہیے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل۔ تم بری ہو میرے عمل کی ذمہ داری سے اور میں بری ہوں تمہارے اعمال کی ذمہ داری سے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑی توجہ سے سنتے ہیں آپ (کی باتوں) کو۔ تو کیا آپ ﷺ بہروں کو سنا سکتے ہیں چاہے وہ عقل سے کام نہ لیتے ہوں !
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں۔ تو کیا آپ اندھوں کو ہدایت دیں گے خواہ وہ دیکھتے نہ ہوں !
— Bayan-ul-Quran
یقیناً اللہ انسانوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن وہ انہیں جمع کرے گا (تو وہ محسوس کریں گے) جیسے نہیں رہے وہ مگر دن کی ایک گھڑی وہ ایک دوسرے کو پہچان رہے ہوں گے۔ وہ لوگ بڑے خسارے کا شکار ہوئے جنہوں نے جھٹلادیا اللہ کی ملاقات کو اور نہ ہوئے وہ ہدایت پانے والے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم دکھا دیں آپ ﷺ کو اس میں سے کچھ (عذاب) جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا (اس سے پہلے ہی) ہم آپ کو وفات دے دیں پس انہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے پھر اللہ گواہ ہے اس پر جو وہ کر رہے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہر امت کے لیے ایک رسول (بھیجا گیا) ہے۔ پھر جب آیا ان کا رسول تو ان کے مابین عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا گیا۔
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ کب یہ (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی !) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو خود اپنی جان کے لیے بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا نہ کسی ضرر کا نہ نفع کا سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے ایک وقت معینّ ہے۔ جب ان کا وقت آجاتا ہے تو پھر نہ تو وہ اس کو ایک گھڑی مؤخر کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسے پہلے لاسکتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اے نبی ! ان سے) کہیے کیا تم نے غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر اللہ کا عذاب (ناگہاں) آدھمکے رات کو یا دن کے وقت تو وہ کیا شے ہے جس کے بل پر یہ مجرم جلدی مچا رہے ہیں ؟
— Bayan-ul-Quran
پھر کیا جب وہ (عذاب) واقع ہوجائے گا تب تم لوگ اس پر ایمان لاؤ گے ؟ (اس وقت کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لا رہے ہو) ؟ اور اسی کی تو تم جلدی مچا رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
پھر کہا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔ تمہیں بدلہ نہیں دیا جا رہا ہے مگر تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کا۔
— Bayan-ul-Quran
یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ واقعی حق ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ ہاں میرے رب کی قسم ! یقیناً وہ حق ہے اور تم (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اگر کسی گنہگار جان کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو تو وہ اسے اس (عذاب) کے بدلے میں دے ڈالے۔ اور وہ اپنی ندامت کو چھپائیں گے جب وہ دیکھیں گے عذاب کو۔ اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
آگاہ ہوجاؤ ! جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے آگاہ ہوجاؤ ! یقیناً اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے
— Bayan-ul-Quran
اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے امراض) کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ! ان سے) کہہ دیجیے کہ یہ (قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں ! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
ان سے کہیے کہ تم نے کبھی غور کیا کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا ہے تم نے اس میں سے (ازخود) کسی کو حرام قرار دے دیا اور کسی کو حلال ! ان سے پوچھئے کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
اور جو لوگ اللہ سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں قیامت کے دن کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے ؟ یقیناً اللہ تو انسانوں کے حق میں بہت فضل والا ہے لیکن ان کی اکثریت شکر گزار نہیں ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی !) نہیں ہوتے آپ کسی بھی کیفیت میں اور نہیں پڑھ رہے ہوتے آپ قرآن میں سے کچھ اور (اے مسلمانو !) تم نہیں کر رہے ہوتے کوئی بھی (اچھا) عمل مگر یہ کہ ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو اور نہیں غائب ہوتی آپ ﷺ کے رب سے زمین میں ایک ذرّہ کے برابر بھی کوئی شے اور نہ آسمانوں میں اور نہ ہی اس سے کم تر کوئی شے اور نہ بڑی مگر یہ کہ وہ ایک روشن کتاب میں درج ہے
— Bayan-ul-Quran
آگاہ ہوجاؤ ! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جو صاحب ایمان ہوں اور تقویٰ کی روش اختیار کریں
— Bayan-ul-Quran
ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارتیں ہیں اور آخرت میں بھی اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی تو ہے بہت بڑی کامیابی
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی !) ان کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں عزت کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
آگاہ ہوجاؤ ! اللہ ہی کے (مملوک) ہیں جو کوئی بھی آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اور یہ لوگ جو اللہ کے علاوہ (اس کے) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ کسی چیز کا اتباع نہیں کر رہے وہ تو ظن وتخمین ہی کے پیچھے پڑے ہیں اور صرف اٹکل سے کام لیتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو بنا دیا روشن یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہوں
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ اللہ نے اولاد اختیار کی ہے وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے۔ وہ بےنیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں نہیں ہے تمہارے پاس کوئی سند (دلیل) اس کے لیے کیا تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو وہ چیز جس کے متعلق تمہیں علم ہی نہیں
— Bayan-ul-Quran
اے نبی !) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹ باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے
— Bayan-ul-Quran
دنیا میں (ان کے لیے) برتنے کی کچھ چیزیں ہیں پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے پھر ہم انہیں مزہ چکھائیں گے بہت سخت عذاب کا اس کفر کی وجہ سے جو وہ کرتے رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور ان کو سنائیے نوح کی خبر۔ جب اس نے کہا اپنی قوم سے کہ اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم پر بڑا بھاری گزر رہا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ نصیحت کرنا تو میں نے بس اللہ پر توکل کرلیا ہے پس تم جمع کرلو اپنے سارے ذرائع اور اپنے شریکوں کو (بھی بلا لو) پھر تم پر تمہارا معاملہ کسی اشتباہ میں نہ رہ جائے پھر جو فیصلہ میرے بارے میں کرنا ہے کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر تم (اس سے) اعراض کرو تو میں نے تم لوگوں سے (کبھی) کوئی اجر تو نہیں مانگا میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس کے فرمانبردار بندوں میں سے رہوں
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے (پھر بھی) جھٹلا دیا اس کو تو ہم نے نجات دے دی اس کو اور جو بھی اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو بنا دیا جانشین اور غرق کردیا ہم نے ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جنہیں خبردار کردیا گیا تھا !
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد بہت سے رسولوں کو ان کی (اپنی اپنی) قوموں کی طرف تو وہ (سب کے سب) آئے ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر لیکن وہ (ساری روشن دلیلیں دیکھنے کے باوجود بھی) اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کا پہلے انکار کرچکے تھے۔ اسی طرح ہم مہر کردیا کرتے ہیں حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر۔
— Bayan-ul-Quran
پھر بھیجا ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب اپنی نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ تھے مجرم لوگ۔
— Bayan-ul-Quran
تو جب ان کے پاس حق آیا ہماری طرف سے تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ نے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ کہہ رہے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آپہنچا ہے۔ کیا یہ جادو ہے ؟ اور جادو گر تو کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو ان طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو اور تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے زمین میں ؟ اور ہم ہرگز تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور فرعون نے کہا کہ لے آؤ میرے پاس تمام ماہر جادو گروں کو
— Bayan-ul-Quran
اور جب وہ جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو تم ڈالنے والے ہو
— Bayan-ul-Quran