10. سورہ یونس
سورہ یونس اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
ا ل ر۔ یہ بڑی حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
کیا لوگوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ ہم نے وحی بھیج دی ایک شخص پر انہی میں سے کہ آپ ﷺ لوگوں کو خبردار کردیجیے اور اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے۔ (اس پر) کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادوگر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متمکن ہوگیا (اور) وہ تدبیر کرتا ہے ہر معاملہ کی نہیں ہے کوئی بھی شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد وہ ہے اللہ تمہارا رب پس تم اسی کی بندگی کرو۔ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
تم سب کا لوٹنا اسی کی جانب ہے۔ یہ وعدہ ہے اللہ کا سچاوہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کر دے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے انصاف کے ساتھ (اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے پینے کے لیے ہوگا کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمکدار اور چاند کو نور اور اس نے اس (چاند) کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تمہیں معلوم ہو گنتی برسوں کی اور تم (معاملات زندگی میں) حساب کرسکو اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور وہ تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں
— Bayan-ul-Quran
یقیناً رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں اور جو کچھ اللہ نے بنایا ہے آسمانوں میں اور زمین میں یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جن کے اندر تقویٰ ہے۔
— Bayan-ul-Quran
بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں اور وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور اسی پر مطمئن ہیں اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کا رب ان کے ایمان کے باعث ان کو پہنچا دے گا نعمتوں والے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
— Bayan-ul-Quran
اس میں ان کا ترانہ ہوگا : اے اللہ تو پاک ہے اور اس میں ان کی (آپس کی) دعا سلام ہوگی۔ اور ان کی دعا اور مناجات کا اختتام (ہمیشہ ان کلمات پر) ہوگا کہ کل حمد اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اگر اللہ جلدی کردیتا لوگوں کے لیے شر جیسے کہ وہ جلدی چاہتے ہیں خیر ان کی اجل پوری ہوچکی ہوتی پھر ہم ان لوگوں کو چھوڑ دیں گے جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں اندھے ہو کر بڑھتے چلے جائیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پہلو کے بل (لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے۔ پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا کوئی تکلیف پہنچنے پر۔ ایسے ہی مزین کردیا گیا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کو۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سی نسلوں اور قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور ان کے پاس (بھی) آئے تھے ان کے رسول واضح تعلیمات لے کر لیکن وہ نہیں تھے ایمان لانے والے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرم لوگوں کو۔
— Bayan-ul-Quran
پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنا دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیا کرتے ہو !
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں ہماری روشن آیات تو کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ (اے محمد ﷺ اس کے علاوہ آپ ﷺ کوئی اور قرآن پیش کریں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔ (اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے کہ میرے لیے ہرگز یہ ممکن نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں میں تو پیروی کرتا ہوں اسی کی جو میری طرف وحی کیا جا رہا ہے۔ میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کر سناتا اور نہ وہ تمہیں اس سے واقف کرتا میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے !
— Bayan-ul-Quran
تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کی یا جھٹلایا اس کی آیات کو ! یقیناً مجرم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔ آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟ وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت پھر (بعد میں) انہوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کیوں نہ اتاری گئی کوئی نشانی (معجزہ) اس (رسول ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے ؟ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے پس انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو ان پر آگئی تھی تو فوراً ہی وہ ہماری آیات کے بارے میں سازشیں کرنے لگتے ہیں۔ آپ ﷺ کہیے کہ اللہ اپنی تدبیروں میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ یقیناً ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو کچھ بھی سازشیں تم لوگ کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں (سواروں کو) لے کر خوشگوار (موافق) ہوا کے ساتھ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے اور ہر طرف سے موجیں ان کی طرف بڑھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان (لہروں) میں گھیر لیے گئے ہیں اس وقت) وہ پکارتے ہیں اللہ کو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ (اے اللہ !) اگرُ تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم لازماً ہوجائیں گے بہت شکر کرنے والوں میں سے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی بغاوت کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق جونہی خطرے کی گھڑی ٹل جاتی ہے تو پھر انہیں دیویاں دیوتا یاد آجاتے ہیں اور پھر سے اللہ سے سرکشی شروع ہوجاتی ہے۔ اے لوگو ! تمہاری اس بغاوت کا وبال تمہاری اپنی ہی جانوں پر آئے گا یہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے (اسے برت لو) پھر ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹنا ہے پھر ہم تم کو بتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اس دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسے ہے جیسے پانی جو ہم برساتے ہیں آسمان سے پھر اس کے ساتھ نکل آتا ہے زمین کا سبزہ جس میں سے کھاتے ہیں انسان بھی اور چوپائے بھی۔ یہاں تک کہ جب زمین اچھی طرح اپنا سنگھار کرلیتی ہے اور خوب مزین ہوجاتی ہے اور اس کے مالک سمجھتے ہیں کہ اب ہم اس پر قادر ہیں تو اچانک ہمارا ایک حکم آتا ہے اس (کھیت یا باغ) پر رات کے وقت یا دن کے وقت اور ہم اسے کردیتے ہیں کٹا ہوا جیسے کہ کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ بلا رہا ہے تمہیں سلامتی کے گھر کی طرف اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف۔
— Bayan-ul-Quran
جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ان کے لیے حسنیٰ (بھلائی) ہے اور مزید بھی۔ اور نہیں مسلط ہوگی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ ذلت۔ یہی ہوں گے جنت والے اور رہیں گے اس میں ہمیشہ ہمیش۔
— Bayan-ul-Quran
اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو (ان کے لیے) بدلہ ہوگا برائی کا ویسا ہی اور ان پر ذلت چھا جائے گی۔ نہیں ہوگا انہیں اللہ (کی پکڑ) سے کوئی بھی بچانے والا۔ گویا ان کے چہروں پر تاریک رات کے ٹکڑے اڑھا دیے گئے ہوں۔ یہی لوگ ہوں گے جہنمی یہ رہیں گے اسی میں ہمیشہ ہمیش۔
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھا کہ کھڑے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی۔ تو ہم ان کے درمیان رشتے منقطع کردیں گے اور کہیں گے ان کے شریک (ان سے) کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
پس اللہ کافی ہے (بطور) گواہ ہمارے اور تمہارے مابین ہم تو تمہاری اس عبادت سے بالکل بیخبر تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اس وقت ہر جان کو پتا چل جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا تھا اور وہ لوٹا دیے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا برحق مولیٰ ہے اور گم ہوجائے گا ان سے وہ سب کچھ جو وہ افترا کرتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ! ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچاتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں ؟ اور کون ہے جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے اور کون ہے تدبیرِ اَمر کرنے والا ؟ تو وہ کہیں گے اللہ ! تو آپ ﷺ فرمائیے کہ کیا پھر تم (اس اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
تو وہی ہے اللہ تمہارا رب برحق۔ تو حق کے بعد کیا رہ جاتا ہے سوائے گمراہی کے ؟ تو کہاں سے تم پھیرے جا رہے ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
اسی طرح تیرے رب کی بات سچ ثابت ہوئی نافرمان لوگوں پر کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
ان سے پوچھئے کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو تخلیق کرتا ہو پہلی مرتبہ اور پھر اسے دوبارہ بھی بنائے ؟ آپ کہیے صرف اللہ ہی ہے جو پہلی مرتبہ بھی پیدا کرتا ہے پھر وہ اسے دوبارہ بھی بنائے گا تو تم کہاں سے پلٹائے جا رہے ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
ان سے پوچھئے کہ ہے کوئی تمہارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف راہنمائی کرسکے ؟ آپ کہیے کہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ تو کیا جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے اس کا کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہدایت نہیں پاسکتا اِلّا یہ کہ اس کی راہنمائی کی جائے ؟ تو تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے فیصلے کرتے ہو !
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں پیروی کر رہے ان میں سے اکثر مگر گمان کی اور یہ گمان کسی بھی درجے میں (انسان کو) حق سے مستغنی نہیں کرسکتا۔ یقیناً اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور یہ قرآن ایسی شے نہیں ہے جس کو اللہ کے سوا (کہیں اور) گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اس کی جو اس کے سامنے ہے اور (اس میں تمام) شریعت کی تفصیل ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔
— Bayan-ul-Quran
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبر نے خود گھڑ لیا ہے ؟ آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ لے آؤ تم بھی ایک سورت اس جیسی اور (اس کے لیے) بلا لو جس کو بلا سکتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
(نہیں) بلکہ انہوں نے تکذیب کی ہے اس چیز کی جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کرسکے اور ابھی نہیں آئی ان کے پاس اس کی تاویل۔ اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے تو دیکھو کیسا انجام ہوا ظالموں کا !
— Bayan-ul-Quran
ان میں وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور وہ بھی ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے اور آپ ﷺ کا رب ان مفسدوں سے خوب واقف ہے۔
— Bayan-ul-Quran