20. سورہ طہ – آیات 81–120
سورہ طہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اس میں زیادتی نہ کرنا تو (ایسی صورت میں) تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوجائے تو وہ (گویا) پٹخ دیا گیا
— Bayan-ul-Quran
اور میں تو یقیناً بہت ہی معاف فرمانے والا ہوں ہر اس شخص کے لیے جس نے توبہ کی ایمان لایا نیک اعمال کیے اور پھر سیدھی راہ پر چلتا رہا
— Bayan-ul-Quran
اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہیں کس چیز نے جلدی پر آمادہ کیا اپنی قوم کو چھوڑ کر
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا کہ بس وہ میرے پیچھے پیچھے ہی (آرہے) ہیں اور اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیری طرف (آنے میں اس لیے) جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے فرمایا : تو ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور انہیں گمراہ کردیا ہے سامری نے
— Bayan-ul-Quran
تو لوٹے موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف بہت غضبناک اور سخت رنجیدہ حالت میں انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا تو کیا یہ مدت تم پر بہت طویل ہوگئی تھی یا تم لوگوں نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کر ڈالی
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی بلکہ ہم پر بوجھ تھا اس قوم کے زیورات کا تو ہم نے وہ پھینک دیے اور اسی طرح سامری نے بھی کچھ پھینکا
— Bayan-ul-Quran
پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا برآمد کردیا ایک دھڑ جس سے ڈکرانے کی آواز آتی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ ؑ کا معبود مگر وہ (موسیٰ ؑ ٰ) بھول گیا ہے
— Bayan-ul-Quran
تو کیا وہ دیکھتے نہیں تھے کہ وہ (بچھڑا) ان کی طرف کوئی بات لوٹاتا نہیں تھا اور نہ ہی اسے ان کے لیے کسی نقصان کا اختیار تھا اور نہ نفع کا
— Bayan-ul-Quran
اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : ہم تو اسی پر اعتکاف کرتے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ؑ خود ہمارے پاس واپس آجائیں
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے ہارون ! آپ ؑ کو کس چیز نے روکا تھا جب آپ ؑ نے انہیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں
— Bayan-ul-Quran
کہ آپ ؑ نے میری پیروی نہ کی یا پھر آپ ؑ نے نافرمانی کی میرے حکم کی
— Bayan-ul-Quran
ہارون ؑ نے کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! آپ ؑ (اس طرح) میری ڈاڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو مت کھینچیں مجھے تو یہ اندیشہ تھا کہ آپ ؑ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفریق پیدا کردی اور میری بات یاد نہ رکھی
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے سامری ! تمہارا کیا معاملہ ہے
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا کہ میں نے (ایک ایسی چیز) دیکھی تھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تو میں نے لے لی ایک مٹھیّ (مٹی کی) رسول کے نقش پا سے تو وہ میں نے (اس میں) پھینک دی اور اسی طرح میرے نفس نے یہ راستہ مجھے بتایا
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : دفع ہوجاؤ ! اب تمہارے لیے زندگی میں یہی (سزا) ہے کہ تم کہتے رہوگے کہ مجھے کوئی نہ چھوئے اور تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور دیکھو اپنے اس معبود کو جس کا تم اعتکاف کرتے رہے ہو (ہم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں) ہم اسے جلا (کر راکھ کر) دیں گے پھر اس (کی راکھ) کو سمندر میں بکھیر دیں گے
— Bayan-ul-Quran
حقیقت میں تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود ہے ہی نہیں اسے ہرچیز کا علم حاصل ہے
— Bayan-ul-Quran
(تواے نبی ﷺ !) اس طرح ہم سنا رہے ہیں آپ کو حالات اس (زمانے) کے جو گزر چکا ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو خاص اپنے پاس سے ذکرعطا کیا ہے
— Bayan-ul-Quran
جس کسی نے اس (قرآن) سے اعراض کیا تو وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائے گا
— Bayan-ul-Quran
یہ لوگ اس (کیفیت) میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے بہت برا ہوگا قیامت کے دن کا وہ بوجھ
— Bayan-ul-Quran
جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اکٹھا کریں گے (اس حالت میں) کہ ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی
— Bayan-ul-Quran
چپکے چپکے وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں گے کہ تم نہیں رہے ہو (دنیا میں) مگر صرف دس دن
— Bayan-ul-Quran
ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بہترین سمجھ بوجھ والا شخص کہے گا کہ تم نہیں رہے ہو مگر (زیادہ سے زیادہ) ایک دن
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دے گا
— Bayan-ul-Quran
اور چھوڑ دے گا اس (زمین) کو صاف چٹیل میدان بنا کر
— Bayan-ul-Quran
آپ نہ تو اس میں کوئی ٹیڑھ دیکھیں گے اور نہ کوئی ٹیلا
— Bayan-ul-Quran
جس دن پیچھے چل پڑیں گے سب لوگ ایک پکارنے والے کے ممکن نہیں کہ اس سے ذرا کج ہو سکیں اور تمام آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوجائیں گی چناچہ تم نہیں سن سکو گے مگر ایک بھنبھناہٹ سی
— Bayan-ul-Quran
اس دن کوئی شفاعت ہرگز مفید نہیں ہوگی مگر جس کے لیے رحمن نے اجازت دی ہو اور اس کے لیے اس نے بات پسند کی ہو
— Bayan-ul-Quran
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اس کے علم کا
— Bayan-ul-Quran
اور یقیناً خائب و خاسر ہوا وہ جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا
— Bayan-ul-Quran
اور جس کسی نے نیک اعمال کیے ہوں گے اور وہ مؤمن ہوگا تو اسے نہ کسی بےانصافی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا
— Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ہم نے نازل کیا ہے اس (کلام) کو عربی قرآن بنا کر اور پھیر پھیر کر بیان کی ہیں ہم نے اس میں تمام وعیدیں شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کریں یا (شاید) وہ پیدا کرے ان (کے دلوں) میں کچھ یاد دہانی
— Bayan-ul-Quran
تو بہت بلند وبالا ہے اللہ بادشاہ حقیقی اور آپ ﷺ جلدی نہ کیجیے اس قرآن کے ساتھ اس سے پہلے کہ آپ ﷺ پر اس کی وحی مکمل ہوجائے اور آپ ﷺ یہ کہتے رہا کیجیے کہ اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے اس سے پہلے آدم ؑ سے ایک عہد لیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی پختگی نہیں پائی
— Bayan-ul-Quran
اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ سجدہ کرو آدم ؑ کو تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کردیا
— Bayan-ul-Quran
تو ہم نے کہا : اے آدم ؑ ! یقیناً یہ دشمن ہے تمہارا بھی اور تمہاری بیوی کا بھی تو (دیکھو !) یہ تم دونوں کو کہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ
— Bayan-ul-Quran
یقیناً اس میں نہ تو تمہیں بھوک ستاتی ہے اور نہ عریانی (کا خدشہ) ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یہ کہ نہ تمہیں اس میں پیاس (پریشان کرتی) ہے اور نہ دھوپ (کی کوئی تکلیف)
— Bayan-ul-Quran
تو وسوسہ ڈالا اس کے ذہن میں شیطان نے اس نے کہا : اے آدم ؑ ! کیا میں بتاؤں تجھے ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہی کے بارے میں جو کبھی پرانی نہ ہو
— Bayan-ul-Quran