20. سورہ طہ – آیات 41–80
سورہ طہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور میں نے تم کو بنایا ہے خاص اپنے لیے
— Bayan-ul-Quran
جاؤ تم اور تمہارا بھائی میری ان نشانیوں کے ساتھ اور میرے ذکر سے سستی نہ کرنا
— Bayan-ul-Quran
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس یقیناً وہ بہت سرکش ہوگیا ہے
— Bayan-ul-Quran
تو (دیکھو !) اس کے ساتھ نرم (انداز میں) بات کرنا شاید کہ اس طرح وہ سوچے یا ڈرے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے عرض کیا : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ (اچانک) ہمارے اوپر بھڑک اٹھے گا یا زیادتی کرے گا
— Bayan-ul-Quran
فرمایا : تم ڈرو نہیں یقیناً میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں ہر بات سنتا اور دیکھتا رہوں گا
— Bayan-ul-Quran
پس تم دونوں جاؤ اس (فرعون) کے پاس اور اس سے کہو کہ بلاشبہ ہم دونوں رسول ہیں تیرے رب کی جانب سے پس ہمارے ساتھ بھیج دے بنی اسرائیل کو اور انہیں عذاب میں مبتلا مت رکھ یقیناً ہم آئے ہیں ایک نشانی لے کر تیرے رب کی طرف سے۔ اور سلامتی ان پر ہے جو ہدایت کا اتباع کریں
— Bayan-ul-Quran
ہماری طرف یہ وحی کی جاچکی ہے کہ اس پر عذاب آئے گا جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرلیا
— Bayan-ul-Quran
فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب ہے کون
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا کی پھر ہدایت دی
— Bayan-ul-Quran
فرعون نے کہا : تو پھر پہلی نسلوں کا کیا حال ہوگا
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب کے اندر ہے۔ میرا رب نہ تو بھٹکتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے
— Bayan-ul-Quran
وہی جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے (چلنے کے) لیے راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس (پانی) سے نکالے طرح طرح کے نباتات
— Bayan-ul-Quran
کھاؤ تم خود بھی اور چراؤ اپنے مویشیوں کو بھی۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
— Bayan-ul-Quran
اسی (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے اس (فرعون) کو دکھا دیں اپنی ساری نشانیاں پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کیا
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ اپنے اس جادو کے بل پر ہمیں ہماری سر زمین سے نکال باہر کرو
— Bayan-ul-Quran
تو ہم بھی ضرورلائیں گے تمہارے مقابلے میں ایسا ہی جادو توّ معین کرلو ہمارے اور اپنے مابین وعدے کا ایک مقرر وقت نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے اور نہ تم کرنا (یہ مقابلہ ہو) ایک کھلے میدان میں
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : تمہارے وعدے کا دن ہوگا جشن کا دن اور یہ کہ لوگ جمع کرلیے جائیں دن چڑھے
— Bayan-ul-Quran
تو اب فرعون نے رخ پھیرا چناچہ اس نے اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کرلیے پھر وہ (مقابلے میں) آگیا
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے انہیں (خبردار کرتے ہوئے) کہا : تمہاری بد بختی ! اللہ پر جھوٹ مت گھڑو کہ وہ تمہیں غارت کر دے کسی عذاب کے ذریعے سے اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس کسی نے بھی (اللہ پر) افترا کیا
— Bayan-ul-Quran
تو وہ باہم جھگڑ پڑے اپنے اس معاملے میں اور پھر لگے چپکے چپکے مشورہ کرنے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جادو گر ہی ہیں جو چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں اپنے جادو (کے زور) سے اور تمہاری مثالی تہذیب کو برباد کردیں
— Bayan-ul-Quran
چناچہ تم مجتمع کرو اپنی ساری تدبیریں (اور اپنے وسائل و ذرائع) پھر آؤ (مقابلہ میں) صف باندھ کر اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا
— Bayan-ul-Quran
جادوگروں نے کہا : اے موسیٰ ! یا تو تم پہلے ڈالو اور یا پھر ہم ہی پہلے ڈالنے والے بنتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : بلکہ تم ہی ڈالو تو دفعتاً ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے اس کو ایسے نظر آنے لگیں گویا وہ دوڑ رہی ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو موسیٰ ؑ نے اپنے جی میں کچھ ڈر محسوس کیا
— Bayan-ul-Quran
ہم نے فرمایا کہ ڈرو نہیں یقیناً تم ہی غالب رہو گے
— Bayan-ul-Quran
اب تم ذرا پھینکو اس (عصا) کو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا اس سب کو جو کچھ انہوں نے بنایا ہے۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو بس ایک فریب ہے جادوگر کا اور جادو گر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا چاہے کہیں سے بھی آئے
— Bayan-ul-Quran
پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں وہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے ہارون ؑ اور موسیٰ ؑ کے رب پر
— Bayan-ul-Quran
فرعون نے کہا : (تو کیا) تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی (دے کر لٹکا) دوں گا اور یقیناً تمہیں (جلد) معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت سزا دینے والا ہے اور کون زیادہ باقی رہنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : اب ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آ چکے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے چناچہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے توُ تو صرف فیصلہ کرسکتا ہے اسی دنیا کی زندگی کا
— Bayan-ul-Quran
ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ بخش دے ہماری خطاؤں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یقینا جو کوئی آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم کی حیثیت سے تو اس کے لیے جہنم ہی ہے نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ ہی جیے گا
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی آئے گا اس کے پاس مؤمن کی حیثیت سے (اور اس حالت میں کہ) اس نے نیک اعمال بھی کیے ہوں تو یہ لوگ ہیں جن کے لیے اعلیٰ درجات ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
رہنے کے ایسے باغات جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے اس کا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کردی تھی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پس ان کے لیے سمندر کے اندر ایک خشک راستہ بنالو (اس کیفیت میں کہ) نہ پکڑے جانے کا خوف ہو اور نہ (ڈوبنے کا) کوئی اندیشہ
— Bayan-ul-Quran
تو فرعون نے ان کا تعاقب کیا اپنے لشکروں کے ساتھ تو ڈھانپ لیا انہیں سمندر میں سے جس چیزنے بھی ڈھانپ لیا
— Bayan-ul-Quran
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ دی
— Bayan-ul-Quran
اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم لوگوں کو نجات دی تمہارے دشمن سے پھر ہم نے تم لوگوں کو بلایا کوہ طور کی داہنی جانب اور (صحرا میں تمہاری غذا کے لیے) تم پر من وسلویٰ نازل کیا
— Bayan-ul-Quran