9. سورہ التوبہ – آیات 81–120
سورہ التوبہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
بہت خوش ہوگئے پیچھے رہ جانے والے اپنے بیٹھ رہنے پر اللہ کے رسول ﷺ کے (جانے کے) بعد اور انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کرتے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں اور (دوسروں سے بھی) کہنے لگے کہ اس گرمی میں مت نکلو (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجئے جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے کاش ان لوگوں کو فہم حاصل ہوتا
— Bayan-ul-Quran
تو انہیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ بدلہ اس کا جو کمائی انہوں نے کی ہے
— Bayan-ul-Quran
پس (اے نبی ﷺ اگر اللہ آپ کو لوٹا کرلے جائے ان کے کسی گروہ کے پاس پھر وہ آپ ﷺ سے اجازت مانگیں (آپ ﷺ کے ساتھ) نکلنے کے لیے تو کہہ دیجئے گا کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور اب میرے ساتھ ہو کر تم کسی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے۔ تم پہلی مرتبہ راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر تو (اب ہمیشہ کے لیے) بیٹھ رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ان میں سے کوئی مرجائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی بھی ادا نہ کریں اور اس کی قبر پر بھی کھڑے نہ ہوں یقیناً انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اور وہ مرے ہیں اسی حال میں کہ وہ نافرمان تھے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ کو پسند نہ آئیں ان کے اموال اور ان کی اولاد اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں عذاب دے انہی چیزوں کے ذریعے سے دنیا میں اور ان کی جانیں نکلیں اسی حالت کفر میں
— Bayan-ul-Quran
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مل کر تو رخصت مانگتے ہیں آپ ﷺ سے مقدرت والے بھی اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑدیجیے کہ ہم بیٹھ رہنے والوں میں شامل ہوجائیں
— Bayan-ul-Quran
وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے پس اب وہ سمجھ نہیں سکتے
— Bayan-ul-Quran
لیکن (اس کے برعکس) رسول ﷺ اور وہ لوگ جو آپ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اپنے اموال سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے دامن میں (یا جن کے نیچے) ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی
— Bayan-ul-Quran
اور آئے آپ ﷺ کے پاس بہانے بنانے والے بدو بھی کہ ان کو رخصت دے دی جائے اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے عنقریب دردناک عذاب پہنچے گا ان لوگوں کو جو ان میں سے کفر پر اڑے رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
کچھ گناہ (اور الزام) نہیں ضعیفوں پر نہ بیماروں پر اور نہ ہی ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مخلص ہوں ایسے محسنین پر کوئی الزام نہیں اور اللہ غفور اور رحیم ہے
— Bayan-ul-Quran
اور نہ ہی ان پر (کوئی الزام ہے) جو آئے آپ ﷺ کے پاس کہ آپ ﷺ ان کے لیے سواری کا انتظام کردیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس بھی کوئی چیز نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کرسکوں (تو مجبوراً) وہ لوٹ گئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج سے کہ ان کے پاس کچھ نہیں جسے وہ خرچ کرسکیں
— Bayan-ul-Quran
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو آپ ﷺ سے رخصت مانگتے ہیں جب کہ وہ غنی (مالدار) ہیں وہ راضی ہوگئے اس پر کہ ہوجائیں پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ صحیح علم سے بےبہرہ ہوچکے ہیں
— Bayan-ul-Quran
بہانے بنائیں گے وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے آپ ﷺ کہہ دیجیے (یا کہہ دیجیے گا) کہ بہانے مت بناؤ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے اللہ نے ہمیں پوری طرح مطلع کردیا ہے تمہاری خبروں سے اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے پھر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس (اللہ) کی طرف جو غائب و حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
ابھی یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے (یا کھا رہے ہیں) جب کہ تم لوگ ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے (یا آگئے ہو) تاکہ آپ ﷺ ان سے چشم پوشی برتیں تو (ٹھیک ہے) آپ ﷺ ان سے اعراض برتیں۔ یہ ناپاک لوگ ہیں اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے بدلہ اس کا جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہ قسمیں کھائیں گے (یاکھا رہے ہیں اے مسلمانو !) تمہارے سامنے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان نافرمانوں سے راضی ہونے والا نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ بدو لوگ کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ اس لائق ہیں کہ ناواقف ہوں اس چیز کی حدود سے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان بدوؤں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو کچھ انہیں خرچ کرنا پڑتا ہے اسے وہ تاوان سمجھتے ہیں) اور وہ منتظر ہیں تم لوگوں پر کسی گردش زمانہ کے (اصل میں) بری گردش خود ان کے اوپر مسلط ہے۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان بدوؤں میں وہ لوگ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں) اس کو سمجھتے ہیں اللہ کے قرب اور رسول ﷺ کی دعاؤں کا ذریعہ آگاہ ہوجاؤ یہ (ان کا انفاق) واقعتا ان کے لیے باعث تقرب ہے عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقیناً اللہ معاف فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے وہ باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہی ہے بہت بڑی کامیابی
— Bayan-ul-Quran
اور جو تمہارے آس پاس کے بادیہ نشین ہیں ان میں منافق بھی ہیں اعلیٰ ترین مراتب والے اصحاب کے ذکر کے بعد اب بالکل نچلی سطح کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اہل مدینہ میں بھی جو نفاق پر اڑ چکے ہیں آپ ﷺ انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں۔ ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ لوٹا دیے جائیں گے ایک بہت بڑے عذاب کی طرف
— Bayan-ul-Quran
اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں انہوں نے اچھے اور برے اعمال کو گڈ مڈ کردیا ہے امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔ یقیناً اللہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
ان کے اموال میں سے صدقات قبول فرما لیجیے اس (صدقے) کے ذریعے سے آپ ﷺ انہیں پاک کریں گے اور ان کا تزکیہ کریں گے اور ان کے لیے دعا کیجئے یقیناً آپ ﷺ کی دعا ان کے حق میں سکون بخش ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کے صدقات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ وہ بہت ہی توبہ قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ تم عمل کرو اب اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے اور عنقریب تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس کی طرف جو ہر غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کے معاملے کو اللہ کے فیصلے تک مؤخر کردیا گیا ہے چاہے انہیں عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول فرما لے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی ہے ضرر (نقصان) اور کفر کے لیے اور اہل ایمان میں تفریق پیدا کرنے کے لیے اور ان لوگوں کو گھات فراہم کرنے کے لیے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کر رہے ہیں اور وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم نے تو نیکی ہی کا ارادہ کیا تھا مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں اس میں وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ بہت پاک رہیں۔ اور اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بہت زیادہ پاک رہتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو کیا بھلا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ہو اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر وہ بہتر ہے یا وہ کہ جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد رکھی ایک ایسی کھائی کے کنارے پر جو گرا چاہتی ہے تو وہ اس کو لے کر گرگئی جہنم میں ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے رکھے گی اِلایہ کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے کردیے جائیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں یہ وعدہ اللہ کے ذمے ہے سچا تورات انجیل اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو وفا کرنے والا کون ہے ؟ پس خوشیاں مناؤ اپنی اس بیع پر جس کا سودا تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہی ہے بڑی کامیابی
— Bayan-ul-Quran
توبہ کرنے والے (اللہ کی) بندگی کرنے والے (اللہ کی) حمد کرنے والے دُنیوی آسائشوں سے لاتعلق رہنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیکی کا حکم دینے والے بدی سے روکنے والے اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے۔ اور (اے نبی ﷺ آپ ان اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے
— Bayan-ul-Quran
نبی ﷺ اور اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ استغفار کریں مشرکین کے لیے خواہ وہ ان کے قرابت دارہی ہوں اس کے بعد جبکہ ان پر واضح ہوچکا کہ وہ لوگ جہنمی ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑ کا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا اور جب آپ ؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ ؑ نے اس سے اعلان بیزاری کردیا۔ یقیناً ابراہیم ؑ بہت درد دل رکھنے والے اور حلیم الطبع تھے
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ کسی قوم کو گمراہ کر دے اس کے بعد کہ انہیں ہدایت دی ہو جب تک ان پر واضح نہ کر دے کہ انہیں کس چیز سے بچنا ہے یقیناً اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔ وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہیں ہے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار
— Bayan-ul-Quran
اللہ مہربان ہوا نبی ﷺ پر اور مہاجرین و انصار پر بھی جنہوں نے آپ کا اتباع کیا (ساتھ دیا) مشکل وقت میں اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل میں کچھ کجی آنے لگی تھی پھرا للہ نے ان پر نظر رحمت فرمائی۔ یقیناً وہ ان کے حق میں بہت مہربان رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان تین پر بھی (اللہ نے رحمت کی نگاہ کی) جن کا معاملہ مؤخر کردیا گیا تھا یہاں تک کہ زمین اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود ان پر تنگ پڑگئی اور ان پر اپنی جانیں بھی بوجھ بن گئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی اور جائے پناہ ہے ہی نہیں تو اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی تاکہ وہ بھی پھر متوجہ ہوجائیں۔ یقیناً اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو
— Bayan-ul-Quran
اہل مدینہ اور ان کے اردگرد کے بدو لوگوں کے لیے روا نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے یہ اس لیے کہ انہیں پیاس مشقت اور فاقے کی (صورت میں) جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ کی راہ میں اور جہاں کہیں بھی وہ قدم رکھتے ہیں کفار (کے دلوں) کو جلاتے ہوئے اور دشمن کے مقابلے میں کوئی بھی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے لیے اس (سب کچھ) کے عوض نیکیوں کا اندارج ہوتا رہتا ہے یقیناً اللہ نیک لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran