9. سورہ التوبہ – آیات 41–80
سورہ التوبہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے اموال سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو
— Bayan-ul-Quran
اگر مال غنیمت قریب ہوتا اور سفر بھی چھوٹا ہوتا تو (اے نبی ﷺ یہ آپ کی پیروی کرتے لیکن ان کو تو بڑی بھاری پڑ رہی ہے دور کی مسافت اور عنقریب یہ لوگ قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہمارے اندر استطاعت ہوتی تو ہم ضرور نکلتے تم لوگوں کے ساتھ یہ لوگ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہبالکل جھوٹے ہیں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) اللہ آپ کو معاف فرمائے (یا اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا) آپ نے انہیں کیوں اجازت دے دی ؟ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے لیے واضح ہوجاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور آپ ﷺ (یہ بھی) جان لیتے کہ کون جھوٹے ہیں
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ ﷺ سے اجازت کے طالب ہو ہی نہیں سکتے کہ وہ جہاد نہ کریں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ اور اللہ متقی بندوں سے خوب واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ سے رخصت تو وہی مانگ رہے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شکوک میں پڑگئے ہیں اور وہ اپنے اسی شک و شبہ کے اندر متردد ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لیے سازو سامان فراہم کرتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ نے پسند ہی نہیں کیا ان کا اٹھنا (اور نکلنا) تو ان کو روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم بھی بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
اگر یہ نکلتے (اے مسلمانو !) تمہارے ساتھ تو ہرگز اضافہ نہ کرتے تمہارے لیے مگر خرابی ہی کا اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے مابین فتنہ پیدا کرنے کے لیے اور تمہارے اندر ان کے جاسوس بھی ہیں۔ اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ پہلے بھی فتنہ اٹھاتے رہے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) آپ کے لیے معاملات کو الٹ پلٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا امر غالب ہوگیا اور انہیں یہ پسند نہیں تھا
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے آگاہ ہوجاؤ فتنے میں تو یہ لوگ پڑچکے اور یقیناً جہنم ان کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ اگر آپ کو کوئی اچھی بات پہنچتی ہے تو انہیں وہ بری لگتی ہے اور اگر آپ ﷺ کو کوئی تکلیف آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست کرلیا تھا اور وہ لوٹ جاتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا مولا ہے اور اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو
— Bayan-ul-Quran
(ان سے) کہیے کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کرسکتے ہو سوائے دو نہایت عمدہ چیزوں میں سے کسی ایک کے ! اور (اے منافقو !) ہم منتظر ہیں تمہارے بارے میں کہ اللہ تمہیں پہنچائے کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجئے کہ چاہے خوشی سے خرچ کرو یا مجبوری سے تم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں مانع ہوئی کوئی چیز کہ ان سے ان کے نفقات (اموال کا خرچ کرنا) کو قبول کیا جاتا مگر یہ کہ انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اور وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر بہت ہی کسل مندی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
تو (اے نبی ﷺ !) آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں لیکن (اے مسلمانو ! حقیقت میں) یہ لوگ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ اصل میں یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں
— Bayan-ul-Quran
اگر یہ پالیں کہیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا کوئی سر چھپانے کی جگہ تو یہ اس کی طرف بھاگ جائیں اپنی رسیاں تڑاتے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں تو اگر اس میں سے انہیں (خاطر خواہ) دے دیا جائے تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر اس میں سے انہیں (اس قدر) نہ دیا جائے تو فوراً ناراض ہوجاتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر وہ راضی رہتے اس پر جو کچھ دیا انہیں اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور وہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے عنقریب اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہمیں (پھر بھی) اپنے فضل سے نوازتے رہیں گے یقیناً ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)
— Bayan-ul-Quran
صدقات تو بس مفلسوں اور محتاجوں اور عاملین صدقات کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلوب مطلوب ہو اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جن پر تاوان پڑا ہو (ان کے لیے) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی امداد) میں۔ یہ اللہ کی طرف سے معین ہوگیا ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو نرے کان ہیں آپ ﷺ کہیے کہ یہ کان تمہاری بہتری کے لیے ہیں وہ یقین رکھتے ہیں اللہ پر اور بات مان لیتے ہیں اہل ایمان کی اور جو تم میں سے واقعی مؤمن ہیں ان کے حق میں رحمت ہیں اور جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کو ان کے لیے بڑا درد ناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے مسلمانو !) یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ انہیں راضی کریں اگر وہ واقعتا مؤمن ہیں
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ جانتے نہیں کہ جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کو ہمارے دلوں کی حالت بتادے آپ ﷺ کہیے کہ ابھی تم استہزاء کرتے رہو یقیناً (ایک وقت آئے گا کہ) اللہ ظاہر کر کے رہے گا جس سے تم ڈر رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں گے تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے آپ ﷺ کہیے کیا تم اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء کر رہے تھے ؟
— Bayan-ul-Quran
اب بہانے مت بناؤ تم کفر کرچکے ہو اپنے ایمان کے بعد اگر ہم تمہاری ایک جماعت سے درگزر بھی کرلیں گے تو کسی دوسری جماعت کو عذاب بھی دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم ہیں
— Bayan-ul-Quran
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے میں سے ہیں یہ بدی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے (بھی) انہیں نظر انداز کردیا۔ یقیناً یہ منافق ہی نافرمان ہیں
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے وعدہ کیا ہے ان منافق مردوں منافق عورتوں اور تمام کفار سے جہنم کی آگ کا جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے بس وہی ان کے لیے کفایت کرے گی۔ اور اللہ نے ان پر لعنت فرما دی ہے اور ان کے لیے عذاب ہے قائم رہنے والا
— Bayan-ul-Quran
(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی مانند ہو جو تم سے پہلے تھے وہ تم سے کہیں بڑھ کر تھے طاقت میں اور کہیں زیادہ تھے مال اور اولاد میں تو انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا اور اب تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا ہے جیسے کہ ان لوگوں نے اپنے حصے کا فائدہ اٹھایا تھا جو تم سے پہلے تھے اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے
— Bayan-ul-Quran
کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آچکی ہیں جو ان سے پہلے تھے ؟ قوم نوح ؑ عاد ثمود اور قوم ابراہیم ؑ اور مدین کے لوگوں اور ان بستیوں کی (خبریں) جو الٹ دی گئیں ان کے پاس آئے ان کے رسول واضح نشانیاں (یا احکام) لے کر۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے اوپر خود ہی ظلم ڈھاتے رہے
— Bayan-ul-Quran
اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں بدی سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحمت فرمائے گا۔ یقیناً اللہ زبردست حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے وعدہ کیا ہے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں سے ان باغات کا جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور بہت عمدہ مکانات (کا وعدہ) ہمیشہ رہنے والے باغات میں اور اللہ کی رضا تو سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہی تو ہے بہت بڑی کامیابی
— Bayan-ul-Quran
اے نبی ﷺ ! جہاد کیجئے کفار اور منافقین سے اور ان پر سختی کیجیے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی حالانکہ انہوں نے کہا ہے کفر کا کلمہ اور وہ کفر کرچکے اپنے اسلام کے بعد اور انہوں نے ارادہ کیا تھا اس شے کا جو وہ حاصل نہ کرسکے اور یہ لوگ اپنے عناد کا مظاہرہ نہیں کر رہے مگر اسی لیے کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں غنی کردیا ہے اپنے فضل سے اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ پیٹھ موڑیں گے تو اللہ انہیں بہت درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور پوری زمین میں ان کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار
— Bayan-ul-Quran
اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے گا تو ہم خوب صدقہ و خیرات کریں گے اور نیک بن جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب اللہ نے انہیں نواز دیا اپنے فضل سے (غنی کردیا) تو انہوں نے اس دولت کے ساتھ بخل کیا اور پیٹھ موڑ لی اور اعراض کیا
— Bayan-ul-Quran
تو اللہ نے سزا کے طور پر ڈال دیا ان کے دلوں میں نفاق (اور یہ نفاق اب رہے گا) اس دن تک جس دن یہ لوگ ملاقات کریں گے اس سے بسبب اس وعدہ خلافی کے جو انہوں نے اللہ سے کی اور بسبب اس جھوٹ کے جو وہ بولتے رہے
— Bayan-ul-Quran
کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جانتا ہے ان کے بھیدوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو اور یہ کہ اللہ تمام غیب کا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
جو طعن کرتے ہیں دل کی خوشی سے نیکی کرنے والے اہل ایمان پر (ان کے) صدقات کے بارے میں اور جن کے پاس اپنی محنت ومشقت کے سوا کچھ ہے ہی نہیں (اور وہ اس میں سے بھی خرچ کرتے ہیں) تو وہ (منافقین) ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔ اگر آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تب بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرچکے ہیں اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا
— Bayan-ul-Quran