26. سورہ الشعراء – آیات 41–80
سورہ الشعراء اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
تو جب جادوگر آپہنچے تو انہوں نے فرعون سے پوچھا کہ کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آگئے
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا ضرور ! اور تب تم لوگ یقیناً مقربین میں سے ہوجاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے ان سے کہا کہ پھینکو تم لوگ جو کچھ پھینکنے والے ہو
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے پھینک ڈالیں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور کہا کہ فرعون کی عزت کی قسم یقیناً ہم ہی غالب رہنے والے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اب موسیٰ ؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ نگلنے لگا اس فریب کو جو انہوں نے بنایا تھا
— Bayan-ul-Quran
تو سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گرا دیے گئے
— Bayan-ul-Quran
اور کہنے لگے کہ ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے ہیں
— Bayan-ul-Quran
جو موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کا رب ہے
— Bayan-ul-Quran
فرعون نے کہا : کیا تم لوگ ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو بہت جلد تمہیں (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالوں گا مخالف سمت سے اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : کوئی پروا نہیں ! یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran
یقیناً ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطاؤں کو بخش دے گا کہ ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی جانب کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
تو فرعون نے تمام شہروں میں (پھر) نقیب بھیج دیے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً یہ تو مٹھی بھر لوگ ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور بلاشبہ انہوں نے ہمارے غصے کو بھڑکا دیا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یقیناً ہم سب خطرے میں پڑنے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran
پس یوں نکالا ہم نے انہیں باغات اور چشموں میں سے
— Bayan-ul-Quran
اور خزانوں اور بہت عمدہ قیام گاہوں سے
— Bayan-ul-Quran
اسی طرح ہوا۔ اور ان چیزوں کا وارث ہم نے بنی اسرائیل کو بنا دیا
— Bayan-ul-Quran
تو انہوں نے ان کا تعاقب کیا صبح ہوتے ہی
— Bayan-ul-Quran
پھر جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے کہا کہ اب تو ہم پکڑے گئے
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : ہرگز نہیں ! یقیناً میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میرے لیے راستہ پیدا کر دے گا
— Bayan-ul-Quran
تو ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف کہ ضرب لگاؤ اپنے عصا کے ساتھ سمندر کو تو وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم قریب لے آئے وہیں پر دوسروں کو بھی
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے نجات دے دی موسیٰ ؑ کو اور ان کے ساتھ جو کوئی بھی تھا سب کو
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے غرق کردیا دوسروں کو
— Bayan-ul-Quran
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بہت زبردست نہایت رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان کو ابراہیم ؑ کی خبر پڑھ کر سنائیے
— Bayan-ul-Quran
جب اس ؑ نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ یہ کن کو پوجتے ہو
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور انہی کے سامنے گیان دھیان میں بیٹھے رہتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اس ؑ نے پوچھا : کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو
— Bayan-ul-Quran
یا وہ تمہیں کوئی نفع یا کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : بلکہ ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہے
— Bayan-ul-Quran
ابراہیم ؑ نے کہا : بھلا دیکھوتو ! یہ جنہیں تم لوگ پوجتے ہو
— Bayan-ul-Quran
تم اور تمہارے پہلے باپ دادا
— Bayan-ul-Quran
یہ سب میرے تو دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے
— Bayan-ul-Quran
جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
— Bayan-ul-Quran