3. سورہ آل عمران – آیات 121–160
سورہ آل عمران اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور (اے نبی ﷺ !) یاد کیجیے جبکہ صبح کو آپ ﷺ اپنے گھر سے نکلے تھے اور مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں مامور کر رہے تھے جبکہ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
جبکہ تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے حالانکہ اللہ ان کا پشت پناہ تھا اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ نے تو تمہاری مدد بدر میں بھی کی تھی جبکہ تم بہت کمزور تھے تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم اللہ کا (صحیح معنی میں) شکر ادا کرسکو
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) جب آپ کہہ رہے تھے اہل ایمان سے کہ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتوں سے جو آسمان سے اترنے والے ہوں گے ؟
— Bayan-ul-Quran
کیوں نہیں) اے مسلمانو !) اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ کی روش پر رہو گے اور اگر وہ فوری طور پر تم پر حملہ آور ہوجائیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کرے گا پانچ ہزار فرشتوں کے ذریعے سے جو نشان زدہ گھوڑوں پر آئیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر تمہارے لیے بشارت اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں ورنہ مدد تو ہونی ہی اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر دے کہ وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ جائیں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ اس معاملے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے اس لیے کہ وہ ظالم ہیں
— Bayan-ul-Quran
اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور اللہ غفور و رحیم ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! سود مت کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
— Bayan-ul-Quran
اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
— Bayan-ul-Quran
اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت کے حصول کے لیے اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے جس کا پھیلاؤ آسمانوں اور زمین جتنا ہے وہ تیار کی گئی ہے (اور سنواری گئی ہے) اہل تقویٰ کے لیے
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی اور وہ اپنے غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے محسنین کو پسند کرتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی ان سے کسی بےحیائی کا ارتکاب ہوجائے یا اپنے اوپر کوئی اور ظلم کر بیٹھیں تو فوراً انہیں اللہ یاد آجاتا ہے پس وہ اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور کون ہے جو معاف کرسکے گناہوں کو سوائے اللہ کے ؟ اور وہ اپنے اس غلط فعل پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کا بدلہ ہے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ باغات کہ جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور کیا ہی اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کے لیے
— Bayan-ul-Quran
تم سے پہلے بھی بہت سے حالات و واقعات گزر چکے ہیں تو زمین میں گھومو پھرو اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا !
— Bayan-ul-Quran
یہ وضاحت ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے متقین کے حق میں
— Bayan-ul-Quran
اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے
— Bayan-ul-Quran
اگر تمہیں اب چرکا لگا ہے تو تمہارے دشمن کو بھی ایسا ہی چرکا اس سے پہلے لگ چکا ہے اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ لے کہ کون حقیقتاً مؤمن ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ تم میں سے کچھ کو مقام شہادت عطا کرے اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
— Bayan-ul-Quran
اور یہ اس لیے ہوا ہے کہ اللہ اہل ایمان کو بالکل پاک صاف کر دے اور کافروں کو مٹا دے
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں ہے تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور تم تو موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے پہلے کہ اس سے ملاقات ہوتی سو اب تم نے اسے دیکھ لیا ہے اپنی آنکھوں سے
— Bayan-ul-Quran
محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا قتل کردیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے ؟ اور جو کوئی بھی اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا ہاں اللہ بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو
— Bayan-ul-Quran
اور کسی جان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مر سکے مگر اللہ کے حکم سے (ہر ایک کی موت کا) وقت مقرر لکھا ہوا ہے جو کوئی دنیا کا اجر وثواب چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں اور جو واقعتا آخرت کا اجر چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دیں گے اور شکر کرنے والوں کو ہم بھرپور جزا دیں گے
— Bayan-ul-Quran
کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں کہ جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی تو اللہ کی راہ میں جو بھی تکلیفیں ان پر آئیں اس پر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ ہی (باطل کے آگے) سرنگوں ہوئے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی صابروں سے محبت ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ان کا تو ہر مرحلے پر یہی قول ہوتا تھا کہ وہ دعا کرتے تھے کہ اے رب ہمارے ! بخش دے ہمیں ہمارے گناہ اور اگر ہم سے اپنے کسی معاملے میں حد سے تجاوز ہوگیا ہو تو اسے معاف فرما دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں
— Bayan-ul-Quran
تو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب بھی عطا فرمایا اور آخرت کے ثواب کا بھی بہت ہی عمدہ حصہ عطا کیا اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی محسنین کو پسند کرتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! اگر تم ان لوگوں کا کہنا مانو گے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل واپس لے جائیں گے پھر تم بالکل نامراد ہو کے رہ جاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا مولیٰ تو اللہ ہے اور وہی ہے جو سب سے اچھا مددگار ہے
— Bayan-ul-Quran
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس سبب سے کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جن کے حق میں اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ان ظالموں کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ نے تو تم سے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا جبکہ تم ان کو تہ تیغ کر رہے تھے اللہ کے حکم سے یہاں تک کہ جب تم ڈھیلے پڑگئے اور امر میں تم نے جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ تم نے وہ چیز دیکھ لی جو تمہیں محبوب ہے تم میں سے وہ بھی ہیں جو دنیا چاہتے ہیں اور تم میں وہ بھی ہیں جو صرف آخرت کے طالب ہیں پھر اللہ نے تمہارا رخ پھیر دیا ان کی طرف سے تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اللہ تمہیں معاف کرچکا ہے اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے حق میں بہت فضل والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یاد کرو جب کہ تم (پہاڑ پر) چڑھے چلے جا رہے تھے (جان بچانے کے لیے) اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھ رہے تھے اور رسول ﷺ تمہیں پکار رہے تھے تمہارے پیچھے سے تو اللہ تعالیٰ تم پر غم کے بعد غم مسلسل ڈالتا رہا تاکہ (آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ) تم غمگین نہ ہوا کرو اس پر کہ جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے اور نہ اس تکلیف پر کہ جو تم پر آپڑے اور اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کر رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
) پھر اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا یعنی نیند جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جنہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی وہ اللہ کے بارے میں ناحق جہالت والے گمان کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے بھی اختیار میں کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟ کہہ دیجیے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے (اے نبی ﷺ یہ اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کر رہے یہ (اپنے دل میں) کہتے ہیں کہ اگر اختیار میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے ان سے کہیے اگر تم سب کے سب اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کر رہتے اور یہ (معاملہ جو پیش آیا) اس لیے تھا کہ اللہ اسے آزمالے جو کچھ تمہارے سینوں میں تھا اور تاکہ وہ بالکل پاک اور خالص کر دے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے
— Bayan-ul-Quran
تم میں سے وہ لوگ جو میدان جنگ سے چلے گئے اس دن جب دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے اصل میں شیطان نے ان کے پاؤں پھسلا دیے تھے ان کے بعض افعال کی وجہ سے اور اللہ انہیں معاف کرچکا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا اور بردبار ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے کفر کیا اور جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں جبکہ وہ زمین میں سفر پر نکلے ہوئے تھے یا کسی جہاد میں شریک تھے (اور وہاں ان کا انتقال ہوگیا) کہا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے نہ قتل ہوتے (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آتی ہے) تاکہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں حسرت کا باعث بنا دے اور دیکھو اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوجاؤ یا ویسے ہی تمہیں موت آجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مغفرت اور رحمت تمہیں ملے گی وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو یہ جمع کر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور چاہے تم مرو یا قتل ہو بہرحال اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے حق میں بہت نرم ہیں اور اگر آپ ﷺ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ ﷺ کے ارد گرد سے منتشرہو جاتے پس آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں پھر جب آپ فیصلہ کرلیں تو اب اللہ پر توکل کریں یقیناً اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے مسلمانو ! دیکھو) اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (تمہاری مدد سے دست کش ہوجائے) تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد ؟ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔
— Bayan-ul-Quran