3. سورہ آل عمران – آیات 81–120
سورہ آل عمران اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور یاد کرو جبکہ اللہ نے تمام انبیاء سے ایک عہد لیا تھا کہ جو کچھ بھی میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس آئے کوئی اور رسول جو تصدیق کرتا ہو اس کی جو تمہارے پاس (پہلے سے) موجود ہے تو تمہیں لازماً اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی اللہ نے فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا ہے اور اس پر میری ڈالی ہوئی ذمہ داری قبول کرلی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم نے اقرار کیا اللہ تعالیٰ نے کہا اچھا اب تم بھی گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں
— Bayan-ul-Quran
تو جس نے بھی منہ موڑ لیا اس کے بعد تو یقیناً وہی لوگ سرکش (اور ناہنجار) ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں ؟ جبکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے وہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے چاہے خوشی سے اور چاہے مجبوراً اور اسی کی طرف ان سب کو لوٹا دیا جائے گا۔
— Bayan-ul-Quran
کہیے ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ اسحاق ؑ یعقوب ؑ اور ان کی اولاد پر اور جو بھی موسیٰ ؑ عیسیٰ ؑ اور تمام انبیاء ؑ کو دیا گیا ان کے رب کی طرف سے ہم ان میں سے کسی ایک کے مابین بھی کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم تو اللہ ہی کے فرمانبردار ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو وہ اس کی جانب سے قبول نہیں کیا جائے گا اور پھر آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو کر رہے گا
— Bayan-ul-Quran
کیسے ہدایت دے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان کے بعد کافر ہوگئے ؟ اور انہوں نے گواہی دی کہ یہ رسول حق ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
— Bayan-ul-Quran
یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے
— Bayan-ul-Quran
اسی (لعنت) میں وہ ہمیشہ رہیں گے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ان کو کوئی مہلت ملے گی
— Bayan-ul-Quran
سوائے ان کے جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اصلاح کر لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد پھر وہ اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی اور وہ تو یقیناً گمراہوں میں سے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مرگئے اسی حال میں کہ وہ کافر تھے تو ان میں سے کسی سے زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی فدیے میں قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ پیش کرسکے یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے دردناک عذاب ہے اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے
— Bayan-ul-Quran
تم ہرگز نہیں پہنچ سکتے نیکی کے مقام کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں پسند ہے اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے
— Bayan-ul-Quran
کھانے کی ساری چیزیں (جو شریعت محمدی ﷺ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں سوائے ان چیزوں کے جنہیں اسرائیل (حضرت یعقوب (ؑ) نے حرام ٹھہرا لیا تھا اپنی جان پر اس سے پہلے کہ تورات نازل ہو (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے لاؤ تورات اور اس کو پڑھو اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
پس جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے رہیں تو یہی لوگ ظالم ہیں
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے پس پیروی کروّ ملت ابراہیم کی جو یکسو تھے (یا یکسو ہو کر !) اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا (اللہ کی عبادت کے لیے) وہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا ہے اور ہدایت کا مرکز ہے تمام جہان والوں کے لیے
— Bayan-ul-Quran
اس میں بڑی واضح نشانیاں ہیں جیسے مقام ابراہیم ؑ اور جو بھی اس میں داخل ہوجاتا ہے امن میں اور جس نے کفر کیا تو (وہ جان لے کہ) اللہ بےنیاز ہے تمام جہان والوں سے۔
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے اے اہل کتاب ! تم کیوں اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہو ؟ جبکہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے اے کتاب والو ! تم کیوں روکتے ہو اللہ کے راستے سے اس کو جو ایمان لے آتا ہے تم اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہو اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات مان لو گے تو یہ تم کو تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی حالت میں لوٹا کرلے جائیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور (ذرا سوچو تو سہی) یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو جبکہ تمہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے اندر اس کا رسول موجود ہے اور جو کوئی اللہ سے چمٹ جائے اس کو تو ہدایت ہوگئی صراط مستقیم کی طرف
— Bayan-ul-Quran
ٖ) اے اہل ایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں
— Bayan-ul-Quran
اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو اور ذرا یاد کرو اللہ کا جو انعام تم پر ہوا جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کے اندر الفت پیدا کردی پس تم اللہ کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے (بس اس میں گرنے ہی والے تھے) تو اللہ نے تمہیں اس سے بچالیا اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کررہا ہے تاکہ تم راہ پاؤ (اور صحیح راہ پر قائم رہو)
— Bayan-ul-Quran
اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور انہوں نے اختلاف پیدا کرلیے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آگئی تھیں اور ان ہی لوگوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہے (قیامت کے دن)
— Bayan-ul-Quran
جس دن بعض چہرے بڑے روشن اور تابناک ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے تو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے پوچھا جائے گا) کیا تم اپنے ایمان کے بعد کفر میں لوٹ گئے تھے ؟ تو اب عذاب کا مزہ چکھو اس کفر کے باعث جو تم کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور جن کے چہرے روشن اور تابناک ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں حق کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ تو جہان والوں کے لیے ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بالآخر سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے) تم حکم کرتے ہو نیکی کا اور تم روکتے ہو بدی سے اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ ان میں سے کچھ تو ایمان والے ہیں لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے مسلمانو !) یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے تھوڑی سی کو فت کے اور اگر یہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھا دیں گے پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی
— Bayan-ul-Quran
ان کے اوپر ذلت تھوپ دی گئی ہے جہاں کہیں بھی پائے جائیں سوائے یہ کہ (انہیں کسی وقت) اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہوجائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کے اوپر کم ہمتی مسلط کردی گئی یہ اس لیے ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے اور یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی اور حدود سے تجاوز کرتے رہے
— Bayan-ul-Quran
یہ سب کے سب برابر نہیں ہیں اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو (سیدھے راستے پر) قائم ہیں رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
وہ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخر پر اور نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یقیناً یہ لوگ صالحین میں سے ہیں
— Bayan-ul-Quran
جو خیر بھی یہ کریں گے تو اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ ایسے متقی لوگوں سے خوب واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
(اس کے برعکس) جو لوگ کفر پر اڑ گئے ان کے کام نہیں آسکیں گے نہ ان کے اموال نہ ان کی اولاد اللہ سے بچانے میں کچھ بھی یہی لوگ جہنمی ہیں اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
دنیا کی اس زندگی میں یہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک زور دار آندھی جس میں پالا ہو وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی کو آپڑے جس نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو پھر وہ اس (کھیتی) کو تباہ و برباد اور تہس نہس کر کے رکھ دے اور ان پر اللہ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھا رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! اپنے سوا کسی کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمہارے لیے کسی خرابی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے انہیں پسند ہے وہ چیز جو تمہیں تکلیف اور مشقت میں ڈالے ان کی دشمنی ان کے منہ سے بھی ظاہر ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ہم نے تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کردیا ہے اگر تم عقل سے کام لو
— Bayan-ul-Quran
یہ تم ہی ہو کہ ان کو دوست رکھتے ہو لیکن (جان لو کہ) وہ تو تم سے محبت نہیں کرتے حالانکہ (تمہاری شان یہ ہے کہ) تم پوری کتاب کو مانتے ہو اور جب یہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی مؤمن ہیں اور جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں تو اب تم پر غصہ کی وجہ سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں ان سے کہو مرجاؤ اپنے اس غم و غصہ میں یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ سینوں کے اندر مضمر ہے اس سے بھی واقف ہے
— Bayan-ul-Quran
(اے مسلمانو !) اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچ جائے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس سے وہ خوش ہوتے ہیں لیکن اگر تم صبر کرتے رہو اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رہو تو ان کی یہ ساری چالیں تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گی جو کچھ یہ کر رہے ہیں یقیناً اللہ تعالیٰ اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے
— Bayan-ul-Quran