5. سورہ المائدہ – آیات 81–120
سورہ المائدہ اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور اگر یہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی ﷺ پر اور اس پر جو نبی ﷺ پر نازل کیا گیا (یعنی قرآن حکیم) تو پھر انہوں نے اِن (کافروں) کو اپنا ولی نہ بنایا ہوتا لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے
— Bayan-ul-Quran
تم لازماً پاؤ گے اہل ایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں اور تم لازماً پاؤ گے مودّت کے اعتبار سے قریب ترین اہل ایمان کے حق میں ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان (عیسائیوں) میں عالم بھی موجود ہیں اور درویش بھی اور (اس لیے بھی کہ) وہ تکبر نہیں کرتے
— Bayan-ul-Quran
اور جب انہوں نے سنی وہ چیز جو کہ رسول ﷺ پر نازل کی گئی تھی تو تم دیکھتے ہو کہ حق کی جو پہچان انہیں حاصل ہوئی اس کے زیر اثر ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے (اور) وہ کہہ رہے ہیں اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے پس تو ہمیں لکھ لے گواہی دینے والوں میں سے
— Bayan-ul-Quran
اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہم تک پہنچ گیا ہے اور ہمیں تو بڑی خواہش ہے کہ داخل کرے ہمیں ہمارا رب نیکو کار لوگوں کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
تو اللہ نے ان کے اس قول کے بدلے انہیں وہ باغات عطا کیے جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کا
— Bayan-ul-Quran
رہے وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور جھٹلا دیا ہماری آیات کو تو وہی لوگ ہیں جو جہنمی ہیں
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو نہ حرام ٹھہرا لو ان چیزوں کو جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے اور حد سے تجاوز نہ کرو یقینا اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
اور کھاؤ ان حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں اور اس اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو جس پر تمہارا ایمان ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرے گا تم سے تمہاری ان قسموں میں جو لغو ہوتی ہیں لیکن وہ (ضرور) مؤاخذہ کرے گا تم سے ان قسموں پر جن کو تم نے پختہ کیا ہے سو اس کا کفارہّ ہے کھانا کھلانا دس مساکین کو اوسط درجے کا کھانا جیسا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے پہنانا یا کسی غلام کو آزاد کرنا پھر جو کوئی اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ کفارہّ ہے تمہاری قسموں کا جب تم قسم کھا (کر توڑ) بیٹھو اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح فرما رہا ہے تاکہ تم شکر کرو
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان یقینا شراب اور جوا بت اور پانسے یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے عمل میں سے تو ان سے بچ کر رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
— Bayan-ul-Quran
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے شراب اور جوئے کے ذریعے ` سے اور (شیطان یہ بھی چاہتا ہے کہ) تمہیں روکے اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو اب باز آتے ہو یا نہیں ؟
— Bayan-ul-Quran
اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور (ان کی نافرمانی سے) بچتے رہو پھر اگر تم پیٹھ موڑ لو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول ﷺ پر تو ذمہ داری ہے ّ بس صاف صاف پہنچا دینے کی۔
— Bayan-ul-Quran
ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کوئی گناہ نہیں ہے اس میں جو وہ (پہلے) کھا پی چکے جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں پھر مزید تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور درجۂ احسان پر فائز ہوجائیں۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! اللہ تعالیٰ تمہیں لازماً آزمائے گا کسی ایسے شکار کے ذریعے جس کو پہنچتے ہوں گے (آسانی سے) تمہارے ہاتھ اور نیزے تاکہ اللہ دیکھ لے ان لوگوں کو جو غیب میں ہوتے ہوئے بھی اس سے ڈرتے رہتے ہیں اب اس کے بعد جس نے زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
اے ایمان والو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو قتل مت کرو تو جو کوئی تم میں سے اسے قتل (شکار) کر بیٹھے جان بوجھ کر تو پھر اس کا کفارہّ ہوگا اسی طرح کا ایک چوپایہ جیسا کہ اس نے قتل کیا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے یہ نذر کی حیثیت سے خانہ کعبہ تک پہنچایا جائے یا پھر اس کا کفارہ ہے کچھ مساکین کو کھانا کھلانا تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے اللہ معاف کرچکا ہے جو پہلے ہوچکا ہے لیکن جو کوئی پھر ایسا کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور یقیناً اللہ تعالیٰ زبردست ہے انتقام لینے والا
— Bayan-ul-Quran
(البتہ) تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے لیے اور مسافروں کے لیے زاد راہ کے طور پر لیکن خشکی پر شکار کرنا تمہارے لیے حرام کردیا گیا ہے جب تک کہ تم احرام میں ہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو جس کی طرف تمہیں جمع کر دیاجائے گا
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے کعبے کو جو کہ بیت الحرام ہے لوگوں کے قیام کا باعث بنا دیا ہے اور حرمت والا مہینہ قربانی کے جانور اور وہ جانور بھی جن کے گلوں میں پٹے ڈال دیے گئے ہوں یہ اس لیے کہ تم اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمین کی ہر شے کا علم ہے اور یہ کہ اللہ ہر شے کا علم رکھتا ہے
— Bayan-ul-Quran
جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے اور یہ کہ اللہ غفور اور رحیم بھی ہے
— Bayan-ul-Quran
رسول ﷺ پر سوائے پہنچا دینے کے اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو
— Bayan-ul-Quran
(اے بنی ﷺ کہہ دیجیے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوسکتے چاہے ناپاک شے کی کثرت تمہیں اچھی لگے تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو تاکہ تم فلاح پاؤ
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان ! ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم سوال کرو گے ایسی چیزوں کے بارے میں جبکہ ابھی قرآن کا نزول جاری ہے تو تمہارے لیے وہ ظاہرکر دی جائیں گی اللہ تعالیٰ نے اس میں درگزر سے کام لیا ہے اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے
— Bayan-ul-Quran
تم سے پہلے ایک قوم (اہل کتاب) نے اس قسم کے سوالات کیے تھے اور پھر وہ ان کا انکار کرنے والے بن گئے تھے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے نہ تو بحیرہ کو کچھ چیز بنایا ہے نہ سائبہ نہ وسیلہ اور نہ حام کو لیکن یہ کافر اللہ پر افترا کرتے ہیں اور ان کی اکثریت عقل سے عاری ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور آؤ اللہ کے رسول کی طرف وہ کہتے ہیں ہمارے لیے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا خواہ ان کے آباء و اَجداد ایسے رہے ہوں کہ نہ انہیں کوئی علم حاصل ہوا ہو نہ ہی وہ ہدایت پر ہوں (پھر بھی) ؟
— Bayan-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر ذمہ داری ہے صرف اپنی جانوں کی جو کوئی گمراہ ہوجائے وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا جبکہ تم ہدایت پر ہو اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان تمہارے درمیان شہادت (کا نصاب) ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو تو تم میں سے دو معتبر اشخاص (بطور گواہ) موجود ہوں تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو اور نہ ہم چھپائیں گے اللہ کی گواہی کو اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ کمایا ہے تو اب دو اور لوگ ان کی جگہ پر کھڑے ہوں ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی کی ہے ان پہلے دو لوگوں نے پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ برحق ہے ان دونوں کی گواہی سے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے اگر ایسا ہو تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
یہ طریقہ کار قریب تر ہے کہ اس سے لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت پیش کریں یا (کم از کم) انہیں خوف رہے کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد ردّ کردی جائیں گی اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سن رکھو اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا
— Bayan-ul-Quran
(اس دن کا تصور کرو) جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور پوچھے گا آپ لوگوں کو کیا جواب ملا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں تو ہی بہتر جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔
— Bayan-ul-Quran
جب کہے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ؑ ابن مریم ذرا میرے ان انعامات کو یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوئے جبکہ میں نے تمہاری مدد کی روح القدس سے تم گفتگو کرتے تھے لوگوں کے ساتھ پنگھوڑے میں بھی اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور (یاد کرو میرے اس احسان کو) جب کہ میں نے تمہیں سکھائی کتاب اور حکمت یعنی تورات اور انجیل اور (یاد کرو) جب تم بناتے تھے گارے سے پرندے کی ایک شکل میرے حکم سے پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ ایک اڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کردیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب تم مردوں کو نکال کھڑا کرتے تھے میرے حکم سے اور (یاد کرو میرے اس احسان کو بھی) جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ روک دیے تم سے جب کہ تم آئے ان کے پاس کھلے معجزات کے ساتھ تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
اور (یاد کرو میرے احسان کو) جب میں نے اشارہ کیا حواریوں کو کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے عیسیٰ ؑ آپ بھی) گواہ رہیے کہ ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور (ذرایاد کرو اس واقعے کو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابن مریم کیا آپ کے رب کو یہ قدرت حاصل ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اتارے ؟ (جواب میں عیسیٰ ؑ نے) کہا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس (خوان) میں سے کھائیں اور ہمارے دل بالکل مطمئن ہوجائیں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ ؑ نے جو کچھ ہم سے کہا وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ بن جائیں
— Bayan-ul-Quran
اس پر عیسیٰ ؑ ابن مریم نے دعا کی : اے اللہ اے ہمارے رب اتاردے ہم پر ایک دسترخوان آسمان سے جو عید بن جائے ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے اور ایک نشانی ہو تیری طرف سے اور ہمیں رزق عطافرما اور یقیناً تو بہترین رزق دینے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے ارشاد فرمایا (ٹھیک ہے) میں نازل کر دوں گا اس کو تم پر لیکن پھر اس کے بعد تم میں سے جو کوئی کفر کی روش اختیار کرے گا تو پھر اس کو میں عذاب بھی وہ دوں گا جو تمام جہانوں میں سے کسی اور کو نہیں دوں گا
— Bayan-ul-Quran
اور جب اللہ کہے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! کیا تم نے کہا تھا لوگوں سے کہ مجھے اور میری ماں دونوں کو معبود بنا لینا اللہ کے سوا ؟ وہ (جواب میں) عرض کریں گے (اے اللہ) تو پاک ہے میرے لیے کیسے روا تھا کہ میں وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی تو تو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ یقیناً تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا تو بس تو ہی ہے
— Bayan-ul-Quran
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا مگر وہی کچھ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا (اور وہ یہی بات تھی) کہ بندگی کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں ان پر نگران رہا جب تک ان میں موجودرہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو (اس کے بعد) تو ہی نگران تھا ان پر اور یقیناً تو ہرچیز پر گواہ ہے
— Bayan-ul-Quran
اب اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ فرمائے گا یہ آج کا دن وہ ہے جس دن سچوں کو ان کی سچائی فائدہ پہنچائے گی ان کے لیے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہی ہے بڑی کامیابی
— Bayan-ul-Quran
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
Build a steady Quran habit
Save your place, set a reading goal, and return to the next chapter without losing momentum.