6. سورہ الانعام
سورہ الانعام اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
کل تعریف اور تمام شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور بنایا اندھیروں اور اجالے کو پھر بھی وہ لوگ جو اپنے رب کا کفر کرتے ہیں اس کے برابر کیے دیتے ہیں (جھوٹے معبودوں کو)
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جس نے تمہیں بنایا ہے گارے سے پھر ایک وقت مقرر کردیا ہے اور ایک اور معین وقت اس کے پاس موجود ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو !
— Bayan-ul-Quran
اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی وہ جانتا ہے تمہارا چھپا بھی اور تمہارا ظاہر بھی اور وہ جانتا ہے جو کچھ (نیکی یا بدی) تم کماتے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو اب انہوں نے جھٹلا دیا ہے حق کو جبکہ ان کے پاس آچکا ہے تو اب جلد ہی ان کے پاس آجائیں گی اس چیز کی خبریں جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا جنہیں ہم نے زمین میں ایسا تمکن عطا فرمایا تھا جیسا تمہیں عطا نہیں کیا ہے اور ہم نے ان پر آسمان (سے مینہ) برسایا موسلا دھار اور ہم نے نہریں بہا دیں ان کے نیچے پھر ان کو بھی ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ہم نے ان کے بعد ایک اور قوم کو اٹھا کھڑا کیا
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم نے اتار (بھی) دی ان پر کوئی کتاب جو کاغذوں میں لکھی ہوئی ہو پھر وہ اسے چھو بھی لیں اپنے ہاتھوں سے تب بھی یہ کافر یہی کہیں گے کہ یہ تو ایک کھلا جادو ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اترا ان پر (علانیہ) کوئی فرشتہ ؟ اور اگر ہم نے فرشتہ اتاردیا ہوتا تو پھر فیصلہ ہی چکا دیا جاتا پھر انہیں کوئی مہلت نہ ملتی۔
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے اور انہیں ہم اسی شبہ میں ڈال دیتے جس شبہ میں یہ اب مبتلا ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا (اسی طریقے سے) مذاق اڑایا گیا پھر گھیرلیا ان لوگوں میں سے ان کو جو مذاق اڑاتے تھے اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ گھومو پھرو زمین میں پھر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا !
— Bayan-ul-Quran
ان سے پوچھئے کس کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں ؟ کہہ دیجیے اللہ ہی کا ہے ! وہ تمہیں لازماً جمع کرکے لے جائے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں کوئی شک نہیں ہے جو لوگ اپنے آپ کو خسارے میں ڈالنے کا فیصلہ کرچکے ہیں وہی ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور اسی کا ہے جو کچھ ساکن ہوجاتا ہے رات میں اور (متحرک ہوجاتا ہے) دن کے وقت۔ اور وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
ان سے کہیے کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا ولی بنا لوں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ؟ اور وہ کھانا کھلاتا ہے اسے کھلایا نہیں جاتا (اے نبی ﷺ ! ڈنکے کی چوٹ) کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرمانبردار میں خود بنوں اور تم ہرگز نہ ہونا مشرکین میں سے
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے خوف ہے ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا
— Bayan-ul-Quran
جو شخص اس دن اس (عذاب) سے دور رکھا گیا تو اس پر اللہ کی بڑی رحمت ہوگئی اور یہی ہوگی واضح کامیابی
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے پہنچا دی جائے کوئی تکلیف تو کوئی نہیں ہے اس کا دور کرنے والا سوائے اس کے اور اگر اس کی طرف سے کوئی خیر تمہیں پہنچا دی جائے تو یقیناً وہ ہرچیز پر قادر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح سے غالب ہے اور وہ ہے کمال حکمت والا اور ہر شے کی خبر رکھنے والا
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے کونسی چیز ہے جو گواہی میں سب سے بڑی ہے ؟ (پھر خود ہی) کہیے کہ اللہ (کی گواہی سب سے بڑی ہے) ! وہ میرے اور تمہارے مابین گواہ ہے۔ اور میری جانب یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں بھی خبردار کر دوں اس کے ذریعے سے اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچ جائے کیا واقعی تم لوگ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کچھ اور بھی الٰہ ہیں ؟ کہہ دیجیے (اگر تم یہ گواہی دیتے بھی ہو تو) میں اس کی گواہی نہیں دے سکتا کہہ دیجیے وہ تو بس ایک ہی الٰہ ہے اور میں بری ہوں ان تمام چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی تھی پہچانتے ہیں اس کو جیسا کہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو (البتہ) جو لوگ اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تل گئے ہیں تو وہی ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر کوئی جھوٹی تہمت لگائی یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔ یقیناً ایسے ظالم (کبھی) فلاح نہیں پاسکتے
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے ان سے جنہوں نے شرک کیا تھا کہاں ہیں تمہارے وہ شرکاء جن کا تمہیں گھمنڈ ہوگیا تھا ؟
— Bayan-ul-Quran
پھر نہیں ہوگی ان کی کوئی اور چال سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے کہ اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم مشرک نہیں تھے
— Bayan-ul-Quran
دیکھو کیسے وہ جھوٹ بولیں گے اپنے اوپر اور جو افترا انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سب ان سے گم ہوجائے گا
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں حالانکہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ ان کو سمجھ نہیں سکتے اور ان کے کانوں کے اندر ہم نے ثقل پیدا کردیا ہے۔ اور اگر یہ ساری نشانیاں (جو یہ مانگ رہے ہیں) بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ (اے نبی ﷺ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا (اور مناظرہ) کرتے ہیں (اور) کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن جو آپ سنا رہے ہیں) کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ اس سے روکتے بھی ہیں اور خود بھی رک جاتے ہیں اور وہ نہیں ہلاک کر رہے کسی کو سوائے اپنے آپ کے لیکن انہیں اس کا احساس نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
اور کاش تم دیکھ پاتے جب یہ کھڑے کیے جائیں گے آگ کے کنارے پر تو یہ کہیں گے ہائے کاش ! کسی طرح ہمیں لوٹا دیا جائے (تو ہم تصدیق کریں گے) اور ہم اپنے رب کی آیات کو نہیں جھٹلائیں گے اور ہم (پکے اور سچے) مؤمن بن جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے تھے اور اگر (بالفرض) انہیں لوٹا بھی دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے انہیں روکا جا رہا تھا اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے مگر بس ہماری دنیا ہی کی زندگی اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور کاش کہ تم دیکھ سکتے جبکہ یہ کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے۔ (اس وقت) وہ پوچھے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم (کہ یہ حق ہے) ! تو وہ کہے گا کہ اب مزا چکھو عذاب کا اپنے کفر کی پاداش میں
— Bayan-ul-Quran
بڑے گھاٹے میں پڑگئے وہ لوگ جو اللہ سے ملاقات کے انکاری ہیں یہاں تک کہ جب آجائے گا ان پر وہ وقت اچانک تو وہ کہیں گے ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو اس (قیامت) کے بارے میں ہم سے ہوئی اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر۔ آگاہ ہوجاؤ بہت برا بوجھ ہوگا جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل اور کچھ جی بہلا لینا اور یقیناً آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ہمیں خوب معلوم ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس سے آپ غمگین ہوتے ہیں تو (اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے) یقیناً وہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے صبر کیا اس پر جو انہیں جھٹلایا گیا اور جو انہیں ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اور (اے نبی ﷺ اللہ کے ان کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں اور آپ ﷺ کے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ان کا اعراض آپ ﷺ پر بہت شاق گزر رہا ہے تو اگر آپ میں طاقت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ لگا لیں یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا لیں تو لے آئیں کوئی نشانی اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا تو آپ ﷺ جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں سے نہ بنیں !
— Bayan-ul-Quran
بات تو وہی قبول کریں گے جو (حقیقتاً) سنتے ہیں۔ رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا پھر وہ اسی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اتار دی گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے ؟ کہہ دو اللہ قادر ہے کہ وہ کوئی (بڑی سے بڑی) نشانی اتار دے لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں ہے زمین پر چلنے والا کوئی بھی جانور اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتا ہے مگر وہ بھی تمہاری ہی طرح کی امتیں ہیں ہم نے تو اپنی کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں رکھی ہے پھر یہ اپنے رب کی طرف لوٹائے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اور) اندھیروں میں (بھٹک رہے) ہیں جس کو اللہ چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر لے آتا ہے
— Bayan-ul-Quran
ان سے کہیے ذرا غور کرو اگر تم پر (کسی وقت) اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے تو (اس وقت) کیا تم سوائے اللہ کے کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر تم سچے ہو (تو ذرا جواب دو) !
— Bayan-ul-Quran