6. سورہ الانعام – آیات 41–80
سورہ الانعام اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
بلکہ (مصیبت کی گھڑی میں) تم اسی کو پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہتا ہے تو جس تکلیف کے لیے تم اسے پکارتے ہو وہ دور کردیتا ہے اور (ایسے مواقع پر) تم بھول جاتے ہو ان کو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے بھیجا ہے بہت سی امتوں کی طرف آپ ﷺ سے قبل (رسولوں کو) پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے شاید کہ وہ عاجزی کریں۔
— Bayan-ul-Quran
تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب ہماری طرف سے کوئی سختی ان پر آئی تو وہ گڑ گڑاتے لیکن ان کے دل تو سخت ہوچکے تھے اور شیطان نے مزین کیے رکھا ان کے لیے ان اعمال کو جو وہ کر رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب انہوں نے بھلا دیا اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر دروازے کھول دیے ہرچیز کے یہاں تک کہ جب وہ اترانے لگے ان چیزوں پر جو انہیں مل گئی تھیں تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا پھر وہ بالکل مایوس ہو کر رہ گئے
— Bayan-ul-Quran
پھر جڑ کاٹ دی گئی اس قوم کی جس نے ظلم (اور کفر و شرک) کی روش اختیار کی تھی اور کل شکر اور تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے بنی ﷺ ان سے) پوچھئے ! کیا تم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تمہاری آنکھیں اور تمہارے کان چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو دوبارہ تمہیں یہ (ساری صلاحیتیں) دلائے گا ؟ دیکھئے ہم کس طرح ان کے لیے اپنی آیات مختلف پہلوؤں سے پیش کرتے ہیں پھر بھی وہ کنارہ کشی کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
(ان سے) کہیے دیکھو تو اگر تم پر عذاب آجائے اچانک یا علی الاعلان تو کون ہلاک ہوگا سوائے ظالموں کے ؟
— Bayan-ul-Quran
ہم نہیں بھیجتے رہے ہیں اپنے رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر تو جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنی اصلاح کرلی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان پر عذاب مسلط ہو کر رہے گا ان کی نافرمانی کے باعث
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ان سے) کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے اختیار میں ہیں اللہ کے خزانے اور نہ (میں نے دعویٰ کیا ہے کہ) مجھے غیب کا علم حاصل ہے اور نہ میں نے (کبھی) یہ کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں میں تو بس اتباع کر رہا ہوں اس شے کیا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے کہیے تو کیا اب برابر ہوجائیں گے اندھے اور دیکھنے والے ؟ تو کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟
— Bayan-ul-Quran
اور خبردار کردیجیے اس (قرآن) کے ذریعے سے ان لوگوں کو جنہیں واقعتا کچھ خوف ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے اس حال میں کہ ان کے لیے نہیں ہوگا اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا شاید کہ (اس طرح سمجھانے سے) ان میں کچھ تقویٰ پیدا ہوجائے
— Bayan-ul-Quran
اور مت دھتکاریے آپ ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح شام (اور) اس کی رضا کے طالب ہیں آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے اور نہ آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے تو اگر (بالفرض) آپ انہیں اپنے سے دور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے ہم میں سے ؟ تو کیا اللہ زیادہ واقف نہیں ہے ان سے جو واقعتا اس کا شکر کرنے والے ہیں ؟
— Bayan-ul-Quran
جب آپ ﷺ کے پاس آئیں وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان سے کہیں کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے (اور تمہارے لیے اللہ کی خاص رحمت کا مظہر یہ ہے) کہ تم میں سے جو کوئی کسی برے کام کا ارتکاب کربیٹھے گا جہالت کی بنا پر پھر وہ اس کے بعد توبہ کرے گا اور اصلاح کرلے گا تو یقیناً اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ (لوگ ان پر غور و فکر کریں) اور مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے تو منع کردیا گیا ہے ان کو پوجنے سے جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا اگر ایسا کروں گا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور پھر نہ رہوں گا میں ہدایت پانے والوں میں
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب کی طرف سے ایک بڑی بَیِّنَہ پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ میرے پاس وہ شے موجود نہیں ہے جس کی تم جلدی مچا رہے ہو فیصلے کا اختیار کسی کو نہیں سوائے اللہ کے۔ وہ حق کو کھول کر بیان کردیتا ہے اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے و الا ہے
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے اگر میرے پاس وہ ہوتا جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان (کبھی کا) فیصلہ طے ہوچکا ہوتا اور اللہ خوب واقف ہے ظالموں سے
— Bayan-ul-Quran
اوراُسی کے پاس غیب کے سارے خزانے ہیں کوئی نہیں جانتا ان (خزانوں) کو سوائے اس کے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ہے خشکی میں اور سمندر میں اور نہیں گرتا کوئی ایک پتا بھی (کسی درخت سے) مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے اور نہیں (گرتا) کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور نہ کوئی ترو تازہ اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر ایک کتاب مبین میں (سب کی سب) موجود ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور وہی ہے جو تمہیں وفات دیتا ہے رات کے وقت اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو دن کے وقت پھر وہ اس میں (اگلی صبح کو) تمہیں اٹھاتا ہے تاکہ (تمہاری) مدت معین پوری ہوجائے پھر اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کو قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔
— Bayan-ul-Quran
پھر وہ لوٹا دیے جاتے ہیں اللہ کی طرف جو ان کا مولیٰ ہے برحق آگاہ ہوجاؤ فیصلے کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ حساب کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر تیز ہے
— Bayan-ul-Quran
ان سے پوچھئے کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندروں کے اندھیروں سے جبکہ تم اسی کو پکارتے ہو بہت ہی گڑگڑاتے ہوئے اور (دل ہی دل میں) چپکے چپکے (اور کہتے ہو) اگر اللہ نے ہمیں اس سے بچالیا تو ہم ضرور شکر گزار بن کر رہیں گے
— Bayan-ul-Quran
کہیے اللہ ہی نجات دیتا ہے تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے پھر تم شرک کرنے لگتے ہو !
— Bayan-ul-Quran
کہہ دیجیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر بھیج دے کوئی عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے اور ایک کی طاقت کا مزا دوسرے کو چکھائے دیکھو کس کس طرح ہم اپنی آیات کی تصریف کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ آپ کی قوم نے اسے جھٹلا دیا حالانکہ وہ حق ہے (ان سے) کہہ دیجیے کہ (اب) میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں
— Bayan-ul-Quran
ہر بڑی بات کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا
— Bayan-ul-Quran
اور جب تم دیکھو لوگوں کو کہ وہ ہماری آیات میں میں میخ نکال رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ اور اگر تمہیں شیطان بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو
— Bayan-ul-Quran
اور یقیناً جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے لیکن یہ یاد دہانی ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں
— Bayan-ul-Quran
اور چھوڑدو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور ان کو دھوکے میں مبتلا کردیا ہے دنیا کی زندگی نے اور آپ تذکیر کیجیے اسی (قرآن) کے ذریعے سے مبادا کوئی جان اپنے کرتوتوں کے سبب گرفتار ہوجائے پھر اس کے لیے نہیں ہوگا اللہ کے مقابلے میں کوئی کارساز اور نہ کوئی سفارشی اور اگر وہ فدیہ دینا چاہے کل کا کل فدیہ تو بھی اس سے قبول نہیں کیا جائے گا یہی لوگ ہیں جو گرفتار ہوچکے ہیں اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔ ان کے لیے کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی پاداش میں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے کیا ہم پکاریں اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کو جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکتی ہیں نہ نقصان اور ہم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹا دیے جائیں اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دے دی ہے اس شخص کی مانند جسے شیاطین نے بیابان میں بھٹکا کر حیران و سرگرداں چھوڑ دیاہو ؟ اس کے ساتھی اس کو سیدھے راستے کی طرف پکار رہے ہوں کہ آؤ ہماری طرف ! کہہ دیجیے یقیناً اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور ہمیں تو حکم ہوا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری اختیار کریں
— Bayan-ul-Quran
اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں جمع کردیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
اور وہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے ہیں حق کے ساتھ اور جس دن وہ کہے گا ہوجا تو وہ ہوجائے گا اس کا فرمان ہی حق ہے اور اسی کے لیے ہوگی بادشاہی جس دن صور پھونکا جائے گا وہ تمام غیب اور کھلی باتوں کا جاننے والا ہے اور وہ کمال حکمت والا اور ہر شے سے باخبر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب کہا تھا ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے کیا تم نے ان بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ؟ میری رائے میں تو آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تاکہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے
— Bayan-ul-Quran
پس جب رات نے ان ؑ کو (اپنی تاریکی میں) ڈھانپ لیا تو انہوں نے دیکھا ایک (چمکدار) ستارے کو تو کہا یہ میرا رب ہے ! پھر جب وہ غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
پھر جب انہوں نے دیکھا چاند چمکتا ہوا تو کہا یہ ہے میرا ربّ ! پھر جب وہ بھی غائب ہوگیا تو انہوں نے کہا اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی تو میں گمراہوں میں سے ہوجاؤں گا
— Bayan-ul-Quran
پھر جب دیکھا سورج کو بہت چمکدار تو کہنے لگے ہاں یہ ہے میرا ربّ یہ سب سے بڑا ہے ! پھر جب وہ بھی غائب ہوگیا تو انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! میں اعلان براءت کرتا ہوں ان سب سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
میں نے تو اپنا رخ کرلیا ہے یکسو ہو کر اس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
— Bayan-ul-Quran
اب (اس پر) آپ ؑ کی قوم آپ ؑ سے بحث کرنے لگی (ابراہیم ؑ نے) کہا کیا تم مجھ سے حجت بازی کر رہے ہو اللہ کے بارے میں جب کہ مجھے تو اس نے ہدایت دی ہے۔ اور مجھے کوئی خوف نہیں ہے ان (ہستیوں) کا جنہیں تم اس کا شریک ٹھہراتے رہے ہو سوائے اس کے کہ میرا رب ہی کوئی بات چاہے میرا رب ہر شے کا علم کے اعتبار سے احاطہ کیے ہوئے ہے تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟
— Bayan-ul-Quran