18. سورہ الکہف – آیات 41–80
سورہ الکہف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
یا اس کا پانی گہرائی میں اتر جائے پھر تم اس (پانی) کو کسی طرح حاصل نہ کرسکو
— Bayan-ul-Quran
اور اس کا سارا ثمر سمیٹ لیا گیا تو وہ ہاتھ ملتا رہ گیا اس پر جو کچھ اس نے اس میں خرچ کیا تھا اور وہ (باغ) گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر اور وہ کہہ رہا تھا ہائے میری شامت کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا
— Bayan-ul-Quran
اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتی اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا
— Bayan-ul-Quran
یہاں تو تمام اختیار اللہ ہی کا ہے جو الحق ہے وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے عاقبت کے اعتبار سے
— Bayan-ul-Quran
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال دنیا کی زندگی کی جیسے پانی کہ ہم نے اسے اتارا آسمان سے پھر اس کے ساتھ مل جل کر نکل آیا زمین کا سبزہ پھر وہ ہوگیا چورا چورا اڑائے پھرتی ہیں اسے ہوائیں اور اللہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
مال اور بیٹے دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑوں کو اور تم دیکھو گے زمین کو صاف چٹیل اور ہم سب کو جمع کرلیں گے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ پیش کیے جائیں گے آپ کے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے۔ (تب انہیں کہا جائے گا) آگئے ہونا ہمارے پاس جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بلکہ تم نے تو سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے لیے وعدے کا کوئی وقت مقرر ہی نہیں کریں گے
— Bayan-ul-Quran
اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے اور وہ پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا اسے موجود۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ سجدہ کرو آدم کو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا چناچہ اس نے نافرمانی کی اپنے رب کے حکم کی تو کیا تم بناتے ہو اسے اور اس کی اولاد کو دوست میرے سوا درآنحالیکہ وہ تمہارے دشمن ہیں کیا ہی برا بدل ہے ان ظالموں کے لیے
— Bayan-ul-Quran
میں نے انہیں گواہ نہیں بنایا تھا آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا اور نہ ہی ان کی اپنی تخلیق کا اور میں بہکانے والوں کو اپنا مدد گار بنانے والا نہ تھا
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن وہ کہے گا کہ پکارو میرے ان شریکوں کو جن کا تمہیں زعم تھا تو وہ انہیں پکاریں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور ہم ان کے درمیان ہلاکت (کی گھاٹی) حائل کردیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے اور جان جائیں گے کہ وہ اس میں ڈالے جانے والے ہیں اور وہ نہیں پائیں گے اس سے بچنے کی کوئی جگہ
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کردی ہیں اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لیے ہر قسم کی مثالیں لیکن انسان تمام مخلوق سے بڑھ کر جھگڑالو ہے
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں روکا لوگوں کو (کسی چیز نے) جب ان کے پاس ہدایت آگئی کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت مانگیں مگر یہ کہ ان سے پہلوں کا طریق برتا جائے یا عذاب ان کے سامنے آموجود ہو
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے (بنا کر) اور یہ کافر لوگ جھگڑتے ہیں جھوٹ کی طرف سے تاکہ بچلا دیں اس کے ساتھ حق کو اور انہوں نے میری آیات کو اور (اس چیز کو) جس کے ساتھ انہیں خبردار کیا گیا تھا مذاق بنا لیا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے نصیحت کی گئی ہو اس کے رب کی آیات کے ذریعے تو اس نے اعراض کیا ان سے اور وہ بھول گیا کہ کیا آگے بھیجا ہے اس کے دونوں ہاتھوں نے یقیناً ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ نہ پائیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (ڈال دیا ہے) اور اگرچہ آپ بلائیں انہیں ہدایت کی طرف تب بھی وہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ کا رب بہت بخشنے والا بہت رحمت والا ہے اگر وہ مواخذہ کرتا ان کا بسبب ان کے اعمال کے تو بہت جلدی بھیج دیتا ان پر عذاب بلکہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت معین ہے اور وہ ہرگز نہیں پائیں گے اس کے سوا بچنے کی کوئی جگہ
— Bayan-ul-Quran
اور یہ ہیں وہ بستیاں جن (کے باسیوں) کو ہم نے ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم اختیار کیا اور ہم نے مقرر کردیا تھا ان کی ہلاکت کے لیے وعدے کا ایک وقت
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) سے کہا کہ میں (چلنا) نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں یا میں برسوں چلتا ہی رہوں گا
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس (مچھلی) نے اپنا راستہ بنا لیا تھا دریا میں سرنگ کی طرح
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ اپنے اس سفر سے تو ہمیں بہت تکان ہوگئی ہے
— Bayan-ul-Quran
اس (نوجوان) نے کہا : دیکھئے جب ہم ٹھہرے تھے چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی کو (نگاہ میں رکھنا) اور نہیں مجھے بھلائے رکھا مگر شیطان نے کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کروں اور اس نے تو بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ نے کہا : یہی تو تھا جس کی ہمیں تلاش تھی پس وہ دونوں واپس لوٹے اپنے نقوش پا کو دیکھتے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
تو پایا انہوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو جسے ہم نے رحمت عطا کی تھی اپنی طرف سے اور اسے سکھایا تھا ایک علم خاص اپنے پاس سے
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ نے اس سے کہا : کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو بھلائی آپ کو سکھائی گئی ہے
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : میرے ساتھ (رہ کر) آپ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ کیسے صبر کریں گے اس چیز پر جس کی آپ کو پوری پوری خبر نہیں
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ نے کہا : آپ مجھے ان شاء اللہ صابر پائیں گے اور میں خلاف ورزی نہیں کروں گا آپ کے کسی حکم کی
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : اگر آپ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے خود نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتادوں
— Bayan-ul-Quran
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں سوار ہوئے ایک کشتی میں تو اس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کردیں اس کے تمام سواروں کو ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ نے کہا : آپ میرا مؤاخذہ نہ کیجیے میرے بھول جانے پر اور نہ ہی میرے معاملے میں زیادہ سختی کیجیے
— Bayan-ul-Quran
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے تو اس (خضر) نے اس کو قتل کردیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے قتل کردیا ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے (بدلے کے) یہ تو آپ نے بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے
— Bayan-ul-Quran
اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے
— Bayan-ul-Quran
موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو
— Bayan-ul-Quran
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے تو انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اس (خضر) نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے
— Bayan-ul-Quran
اس (خضر) نے کہا بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے
— Bayan-ul-Quran
جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی
— Bayan-ul-Quran
رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا
— Bayan-ul-Quran