18. سورہ الکہف
سورہ الکہف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
کل حمد و ثنا اور کل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور اس میں اس نے کوئی کجی نہیں رکھی
— Bayan-ul-Quran
(یہ کتاب) بالکل سیدھی ہے تاکہ وہ خبردار کرے ایک بہت بڑی آفت سے اس کی طرف سے اور (تاکہ) وہ بشارت دے ان اہل ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہوں کہ ان کے لیے ہوگا بہت اچھا بدلہ
— Bayan-ul-Quran
وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش
— Bayan-ul-Quran
اور خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے
— Bayan-ul-Quran
انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کو تھا بہت بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے وہ نہیں کہتے مگر سرا سر جھوٹ
— Bayan-ul-Quran
تو (اے نبی !) آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کرلیں گے ان کے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات (قرآن) پر
— Bayan-ul-Quran
یقیناً ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں
— Bayan-ul-Quran
اور یقیناً ہم بنا کر رکھ دیں گے جو کچھ اس (زمین) پر ہے اسے ایک چٹیل میدان
— Bayan-ul-Quran
کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم (تختی) والے اصحاب ہماری بہت عجیب نشانیوں میں سے تھے
— Bayan-ul-Quran
جبکہ ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! تو ہمیں عطا فرما اپنے پاس سے رحمت اور آسان فرما دے ہمارے لیے ہمارے معاملات میں عافیت کا راستہ
— Bayan-ul-Quran
تو ہم نے تھپکی دے دی ان کے کانوں پر غار میں کئی سال کے لیے
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم دیکھیں کہ دو گروہوں میں سے کس کو بہتر معلوم ہے کہ کتنا عرصہ وہ وہاں رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
ہم سنا رہے ہیں آپ کو ان کا قصہ حق کے ساتھ وہ چند نوجوان تھے جو ایمان لائے اپنے رب پر اور ہم نے خوب بڑھایا تھا انہیں ہدایت میں
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو جب وہ (بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم ہرگز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود (اگر ایسا ہوا) تب تو ہم بہت غلط بات کہیں گے
— Bayan-ul-Quran
ہماری اس قوم نے بنالیے ہیں اس کے سوا دوسرے معبود تو کیوں نہیں پیش کرتے وہ ان کے بارے میں کوئی واضح دلیل تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا
— Bayan-ul-Quran
اور اب جبکہ تم نے خود کو ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں ان سے علیحدہ کرلیا ہے تو اب کسی غار میں پناہ لے لو تمہارا رب پھیلا دے گا تمہارے لیے اپنی رحمت اور تمہارے معاملے میں تمہارے لیے سہولت کا سامان پیدا فرمادے گا
— Bayan-ul-Quran
اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو ان کی غار سے داہنی طرف ہٹ جاتا اور جب وہ غروب ہوتا تو بائیں جانب ان سے کنی کترا جاتا اور وہ اس کی کھلی جگہ میں (لیٹے ہوئے) تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے تم نہیں پاؤ گے کوئی مدد گار راہ پر لانے والا
— Bayan-ul-Quran
اور (اگر تم انہیں دیکھتے تو) تم سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے اور ہم ان کی کروٹیں بھی بدلتے رہے دائیں اور بائیں اور ان کا کتا اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا دہلیز پر اگر تم ان پر جھانکتے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور تم پر ان کی طرف سے ہیبت طاری ہوجاتی
— Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنا عرصہ یہاں رہے ہو گے کچھ بولے کہ ہم رہے ہیں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ کچھ (دوسرے) بولے کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کتنا عرصہ رہے ہو اب تم بھیجو اپنے میں سے ایک (ساتھی) کو اپنے اس چاندی کے سکے کے ساتھ شہر کی طرف تو وہ دیکھے کہ شہر کے کس حصے سے زیادہ پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہ وہاں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لے آئے اور وہ نرمی کا معاملہ کرے اور وہ آگاہ نہ کر دے تمہارے بارے میں کسی کو
— Bayan-ul-Quran
کیونکہ اگر انہوں نے تم پر قابو پا لیا تو وہ تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں واپس لے جائیں گے اپنے دین میں اور تب تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے
— Bayan-ul-Quran
اور اس طرح ہم نے مطلع کردیا (لوگوں کو) ان پر تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کے بارے میں ہرگز کوئی شک نہیں جب وہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے تھے ان کے معاملے میں چناچہ کچھ لوگوں نے کہا کہ تعمیر کر دو ان پر ایک عمارت (بطور یادگار) ان کا رب ان سے بہتر واقف ہے جو لوگ غالب آئے اپنی رائے کے اعتبار سے انہوں نے کہا کہ ہم بنائیں گے ان (کی غار) پر ایک مسجد
— Bayan-ul-Quran
اب یہ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے ان کا چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے ان کا چھٹا ان کا کتا تھا یہ سب تیر تکے چلا رہے ہیں اندھیرے میں اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ سات تھے اور ان کا آٹھواں ان کا کتا تھا آپ کہیے : میرا رب بہتر جانتا ہے ان کی تعداد کو نہیں جانتے ان (کے معاملے) کو مگر بہت تھوڑے لوگ تو (اے نبی) آپ ان کے بارے میں جھگڑا مت کریں سوائے سرسری بحث کے اور نہ ہی آپ پوچھئے ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے
— Bayan-ul-Quran
اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کریں کہ میں یہ کام کل ضرور کر دوں گا
— Bayan-ul-Quran
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کرلیا کیجئے جب آپ بھول جائیں اور کہیے : ہوسکتا ہے کہ میرا رب میری راہنمائی کر دے اس سے بہتر بھلائی کی طرف
— Bayan-ul-Quran
اور وہ رہے اپنی غار میں تین سو برس اور اس کے اوپر نو برس
— Bayan-ul-Quran
آپ کہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے اس میں جتنا (عرصہ) وہ رہے اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کا غیب کیا ہی خوب ہے وہ اس کو دیکھنے والا اور کیا ہی خوب ہے وہ سننے والا اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں اور وہ شریک نہیں کرتا اپنے حکم میں کسی کو بھی
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی !) آپ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ کے رب کی کتاب میں سے اس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے اور آپ نہیں پائیں گے اس کے سوا کوئی جائے پناہ
— Bayan-ul-Quran
اور اپنے آپ کو روکے رکھیے ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح وشام وہ اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور آپ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں (جس سے لوگوں کو یہ گمان ہونے لگے کہ) آپ دنیوی زندگی کی آرائش و زیبائش چاہتے ہیں اور مت کہنا مانیے ایسے شخص کا جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے اور اس کا معاملہ حد سے متجاوز ہوچکا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ کہہ دیجیے کہ یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے تو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے اس کی قناتیں ان کا احاطہ کرلیں گی اور اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو (کھولتے ہوئے) تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو چہروں کو بھون ڈالے گا بہت ہی بری چیز ہوگی پینے کی اور وہ (جہنم) بہت ہی بری جگہ ہے آرام کی
— Bayan-ul-Quran
یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے تو ہم نہیں ضائع کریں گے اجر اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا
— Bayan-ul-Quran
ان ہی لوگوں کے لیے ہیں رہنے کے ایسے باغات جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی انہیں پہنائے جائیں گے اس میں سونے کے کنگن اور وہ پہنیں گے سبز رنگ کے کپڑے باریک ریشم کے اور موٹے ریشم کے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے تختوں پر کیا ہی اچھا بدلہ ہوگا (ان کے لیے) اور کیا ہی خوب آرام گاہ ہوگی
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی !) آپ بیان کیجیے ان کے لیے دو اشخاص کی مثال ان میں سے ایک کو ہم نے دیے تھے دو باغ انگوروں کے اور ان دونوں کا گھیر دیا تھا ہم نے کھجوروں کے درختوں کے ساتھ اور ہم نے ان دونوں (باغوں) کے درمیان کھیتی کا انتظام بھی کر رکھا تھا
— Bayan-ul-Quran
دونوں باغات اپنا پھل خوب دیتے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے اور ہم نے جاری کردی تھی ان کے درمیان ایک نہر
— Bayan-ul-Quran
اور اس کے لیے پھل بھی تھا تو کہا اس نے اپنے ساتھی سے اور وہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ میں تم سے بہت زیادہ ہوں مال میں اور بہت بڑھا ہوا ہوں نفری میں
— Bayan-ul-Quran
اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں اس حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا تھا اس نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ یہ (باغ) کبھی بھی برباد ہوسکتا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور میں یہ گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر مجھے لوٹا ہی دیا گیا اپنے رب کی طرف تو میں لازماً پاؤں گا اس سے بھی بہتر پلٹنے کی جگہ
— Bayan-ul-Quran
اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے گفتگو کر رہا تھا کیا تو نے کفر کیا اس ہستی کا جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے پھر گندے پانی کی بوند سے پھر تجھے صحیح سلامت انسان بنا دیا
— Bayan-ul-Quran
لیکن (میں تو مانتا ہوں کہ) وہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا
— Bayan-ul-Quran
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا : ماشاء اللہ ! (یعنی یہ سب اللہ کے فضل و کرم سے ہے۔) اللہ کے بدون کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں تم سے مال اور اولاد میں کم ہوں
— Bayan-ul-Quran
تو امید ہے کہ میرا رب تیرے باغ سے بہتر باغ مجھے دے دے اور وہ بھیج دے اس (تیرے باغ) پر کوئی آفت آسمان سے تو وہ صاف چٹیل میدان ہو کر رہ جائے
— Bayan-ul-Quran