19. سورہ مریم – آیات 41–80
سورہ مریم اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا۔ یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے
— Bayan-ul-Quran
یاد کیجئے جب ابراہیم نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! آپ کیوں بندگی کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سن سکتی ہیں اور نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے کچھ کام آسکتی ہیں
— Bayan-ul-Quran
ابا جان ! یقیناً میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا پس آپ میری پیروی کیجیے میں آپ کو دکھاؤں گا سیدھاراستہ
— Bayan-ul-Quran
ابا جان ! آپ شیطان کی بندگی نہ کیجیے شیطان یقیناً رحمن کا نافرمان تھا
— Bayan-ul-Quran
اباجان ! مجھے اندیشہ ہے کہ رحمن کی طرف سے کوئی عذاب آپ کو آپکڑے اور پھر آپ شیطان ہی کے ساتھی بن کر رہ جائیں
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : اے ابراہیم ! کیا تم کنارہ کشی کر رہے ہو میرے معبودوں سے اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا اور تم مجھے چھوڑ (کر چلے) جاؤ ایک مدت تک
— Bayan-ul-Quran
ابراہیم ؑ نے کہا : آپ پر سلام ! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور میں کنارہ کشی کرتا ہوں آپ سے بھی اور ان (تمام معبودوں) سے بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا مجھے یقین ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہیں رہوں گا
— Bayan-ul-Quran
پھر جب ابراہیم ؑ نے ان سب سے کنارہ کشی کرلی اور ان سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے تو ہم نے آپ ؑ کو عطا کیا اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) اور ہر ایک کو نبی بنایا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے ان سب کو اپنی خصوصی رحمت سے حصہ عطا فرمایا اور ان کو اعلیٰ درجے کی سچی شہرت عطا فرمائی
— Bayan-ul-Quran
اور کتاب میں تذکرہ کیجیے موسیٰ ؑ کا یقیناً وہ تھے خاص کیے گئے اور وہ تھے رسول نبی
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے انہیں پکارا طور کی دائیں جانب سے اور انہیں اپنے قریب کیا سرگوشی کے لیے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے انہیں عطا کیا اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر
— Bayan-ul-Quran
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا (بھی) یقیناً وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ (بھی) رسول نبی تھے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ حکم دیتے تھے اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے
— Bayan-ul-Quran
اور تذکرہ کیجیے کتاب میں ادریس ؑ کا (بھی) یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے انہیں اٹھایا بلند مقام پر
— Bayan-ul-Quran
یہ ہیں وہ لوگ جن پر انعام فرمایا اللہ نے انبیاء میں سے اولادِآدم ؑ میں سے اور ان لوگوں (کی نسل) میں سے جنہیں سوار کرایا ہم نے (کشتی میں) نوح ؑ کے ساتھ اور ابراہیم ؑ اور یعقوب ؑ کی نسل میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت دی اور جنہیں ہم نے ُ چن لیا جب تلاوت کی جاتیں ان پر رحمن کی آیات تو وہ گرپڑتے تھے (اللہ کی جناب میں) سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
پھر جانشین ہوئے ان کے بعد نا خلف لوگ انہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشات کی پیروی کی تو عنقریب وہ ملیں گے گمراہی سے
— Bayan-ul-Quran
سوائے ان کے جنہوں نے توبہ کی اور وہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر قطعاً کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
(انہیں ملیں گے) عیش دوام کے باغات جن کا وعدہ کیا تھا رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں یقیناً اس کا وعدہ تو پورا ہونے والا ہی ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغوبات مگر صرف سلام اور ان کے لیے ان کا رزق ہوگا اس میں صبح اور شام
— Bayan-ul-Quran
یہ ہے وہّ جنت جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے ان کو جو متقی ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) ہم (فرشتے) نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے اسی کے اختیار میں ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ ﷺ کا رب بھولنے والا نہیں ہے
— Bayan-ul-Quran
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اس کا جو ان دونوں کے مابین ہے پس آپ ﷺ اسی کی عبادت کریں اور جمے رہیں اس کی عبادت پر۔ کیا آپ جانتے ہیں کوئی اس کا ہم نام
— Bayan-ul-Quran
اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو پھر مجھے زندہ کر کے نکال لیا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
کیا انسان یہ بات یاد نہیں کرتا کہ ہم نے ہی اسے پیدا کیا تھا اس سے پہلے جبکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا
— Bayan-ul-Quran
تو آپ ﷺ کے رب کی قسم ! ہم ضرور جمع کریں گے انہیں اور تمام شیطانوں کو بھی پھر ہم ضرور حاضر کریں گے انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم ضرور چھانٹ کر نکال لیں گے ہر گروہ میں سے ہر اس شخص کو جو ان میں سب سے زیادہ سخت تھا رحمن کے خلاف سرکشی میں
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو اس میں پہلے داخل ہونے کے لائق ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس پر وارد نہ ہو۔ یہ آپ کے رب کا حتمی فیصلہ ہے
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم بچا لے جائیں گے انہیں جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی اور چھوڑ دیں گے ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے
— Bayan-ul-Quran
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو یہ کافر اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ (دیکھو !) دونوں گروہوں میں سے کس کا مقام بہتر ہے اور کس کی مجلس اچھی ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے کہیں بڑھ کر تھیں سازوسامان اور شان و شوکت میں
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) آپ ان کو بتا دیجیے کہ جو کوئی گمراہی میں پڑجاتا ہے تو رحمن اسے بہت زیادہ ڈھیل دے دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے جس کی انہیں وعید دی جا رہی ہے خواہ عذاب ہو یا قیامت تب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے مقام و مرتبہ میں بد تر اور (کون ہے) لاؤ لشکر کے اعتبار سے کمزور تر
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ بڑھاتا ہے ان لوگوں کو ہدایت میں جنہوں نے ہدایت اختیار کی اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں آپ ﷺ کے رب کے نزدیک بدلے کے اعتبار سے بھی اور بہتر ہیں انجام کے اعتبار سے بھی
— Bayan-ul-Quran
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے (آخرت میں بھی) مال اور اولاد سے لازماً نوازا جائے گا
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ غیب پر مطلعّ ہوچکا ہے ؟ یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے
— Bayan-ul-Quran
ہر گز نہیں ! ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اور اس کے لیے عذاب کو ہم بڑھاتے چلے جائیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم وارث ہوں گے اس سب کچھ کے جس کا وہ ذکر کر رہا ہے اور وہ آئے گا ہمارے پاس اکیلاہی
— Bayan-ul-Quran