40. سورہ غافر
سورہ غافر اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
ح م۔
— Bayan-ul-Quran
نازل کیا جانا ہے اس کتاب کا اس اللہ کی جانب سے جو زبردست ہے صاحب علم ہے
— Bayan-ul-Quran
(وہ اللہ کہ جو) بخشنے والا ہے گناہ کا قبول کرنے والا ہے توبہ کا سزا دینے میں بہت سخت ہے وہ بہت طاقت اور قدرت والا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
— Bayan-ul-Quran
نہیں جھگڑتے اللہ کی آیات میں مگر وہی لوگ جو کفر کرتے ہیں تو (اے نبی ﷺ !) زمین میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔
— Bayan-ul-Quran
ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے جھٹلایا تھا اور ان کے بعد بہت سی دوسری قوموں نے بھی اور ہر قوم نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لے (اور قتل کر دے اور وہ باطل (دلیلوں) کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پسپا کردیں بالآخر میں نے انہیں پکڑ لیا تو کیسی رہی میری سزا ؟)
— Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ان کافروں پر بھی آپ کے رب کی بات پوری ہوچکی ہے کہ یہ سب کے سب جہنمی ہیں
— Bayan-ul-Quran
وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو ان کے ارد گرد ہیں وہ سب تسبیح کر رہے ہوتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اس پر پورا یقین رکھتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! تیری رحمت اور تیرا علم ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے پس بخش دے ُ تو ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے۔
— Bayan-ul-Quran
پروردگار ! اور انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا ُ تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور (ان کو بھی) جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو ُ یقینا زبردست ہے کمالِ حکمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور انہیں بچا لے برائیوں سے۔ اور جسے تو ُ نے اس دن برائیوں سے بچالیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا اور یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے
— Bayan-ul-Quran
جن لوگوں نے کفر کیا تھا انہیں پکارا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں سے بےزار ہوگئے ہو اللہ کی بیزاری تم سے اس سے کہیں بڑھ کر تھی جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
وہ فریاد کریں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟
— Bayan-ul-Quran
یہ اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے تو اب ُ کل اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو بہت بلند بہت عظمت والا ہے
— Bayan-ul-Quran
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اتارتا ہے تمہارے لیے آسمان سے روزی۔ اور نہیں نصیحت حاصل کرتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے (اللہ کی طرف
— Bayan-ul-Quran
پس تم پکارو اللہ کو اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو
— Bayan-ul-Quran
(وہی اللہ ہے) درجات کو بلند کرنے والا عرش کا مالک۔ یہاں پھر اللہ کی شان کا بیان مرکب اضافی کی شکل میں ہوا ہے وہ القا کرتا ہے روح کو اپنے امر میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ خبردار کر دے (لوگوں کو) ملاقات کے دن سے۔
— Bayan-ul-Quran
جس روز یہ سامنے نکل کھڑے ہوں گے ان کی کوئی چیز بھی اللہ سے مخفی نہیں ہوگی کس کے لیے ہے بادشاہی آج کے دن ؟ (جواب ملے گا :) اکیلے اللہ کے لیے ہے جو تمام کائنات پر چھایا ہوا ہے
— Bayan-ul-Quran
آج ہر جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ یقینا اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) انہیں خبردار کر دیجئے اس نزدیک آجانے والے دن سے جبکہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم کو دبا رہے ہوں گے۔ ان ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہوگا جس کی بات مانی جائے
— Bayan-ul-Quran
وہ جانتا ہے نگاہوں کی چوری کو بھی اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے اس کو بھی
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ فیصلہ کرے گا حق کے ساتھ۔ اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے یقینا اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے ! وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ اور پھر کوئی نہ ہوا انہیں اللہ سے بچانے والا۔
— Bayan-ul-Quran
یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس آتے رہے ان کے رسول بہت واضح نشانیوں کے ساتھ لیکن انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا یقینا وہ بہت طاقتور سزا دینے میں بہت سخت ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ ؑ ٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے انتہائی جھوٹا۔
— Bayan-ul-Quran
تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو لیکن کافروں کا دائو بھٹک کر ہی رہ جاتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور فرعون نے کہا : مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ ؑ ٰ کو قتل کر دوں اور وہ (بچائو کے لیے) پکارلے اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد برپا کر دے گا
— Bayan-ul-Quran
اور موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر اس متکبر شخص کے مقابلے میں جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔
— Bayan-ul-Quran
اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہا کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ! حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر آئے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹا ہو
— Bayan-ul-Quran
اے میری قوم کے لوگو ! آج تو تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور تم ہر طرح سے زمین میں غالب ہو۔ لیکن اگر کہیں ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس سے بچانے کے لیے ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا : میں تو تمہیں وہی کچھ دکھا رہا ہوں جو مجھے نظر آ رہا ہے اور میں نہیں راہنمائی کر رہا تمہاری مگر کامیابی کے راستے کی طرف۔
— Bayan-ul-Quran
اور مرد مومن نے (اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے) کہا : اے میری قوم کے لوگو ! مجھے اندیشہ ہے تم پر ایسے دن کا جیسے دن پہلی قوموں پر آئے تھے
— Bayan-ul-Quran
جیسا کہ معاملہ ہوا تھا قوم نوح ؑ کا اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کا اور اللہ تو اپنے بندوں پر کسی ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا
— Bayan-ul-Quran
اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے اندیشہ ہے تم پر چیخ پکار کے دن کا
— Bayan-ul-Quran
جس دن تم پیٹھ موڑ کر بھاگو گے لیکن اللہ کی پکڑ سے تمہیں بچا نے والا کوئی نہیں ہوگا اور جسے اللہ ہی گمراہ کر دے پھر اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہوتا
— Bayan-ul-Quran
اور (دیکھو !) اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف ؑ آئے تھے واضح نشانیاں لے کر لیکن تم شکوک و شبہات میں ہی پڑے رہے ان تعلیمات کے بارے میں جو وہ ؑ تمہارے پاس لے کر آئے تھے یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی اور کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا اسی طرح اللہ گمراہ کردیتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے بڑھنے والے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والے ہوں
— Bayan-ul-Quran
جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو بڑی بیزاری کی بات ہے یہ اللہ کے نزدیک بھی اور اہل ِایمان کے نزدیک بھی اسی طرح اللہ مہر لگا دیا کرتا ہے ہر اس شخص کے دل پر جو متکبر ّاور سرکش ہو
— Bayan-ul-Quran
اور فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیی ایک بلند عمارت بنوائو تاکہ میں پہنچ جائوں راستوں تک
— Bayan-ul-Quran
یعنی آسمان کے راستوں تک پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے الٰہ کو اور میرا گمان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور اسے روک دیا گیا سیدھی راہ سے۔ اور فرعون کی یہ چال نہیں تھی مگر تباہ ہونے کے لیے
— Bayan-ul-Quran
اور کہا اس مومن نے کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو میں تمہاری راہنمائی کروں گا نیکی کے راستے پر۔
— Bayan-ul-Quran
اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا کی زندگی تو بس (چند روزہ) برتنے کا سامان ہے اور مستقل رہنے کی جگہ تو آخرت ہے
— Bayan-ul-Quran
جس نے کوئی بدی کمائی ہوگی تو اسے بدلہ ملے گا اسی کے مانند اور جو کوئی نیک عمل کرے گا چاہے مرد ہو یا عورت لیکن ہو وہ مومن تو وہی لوگ جنت ّمیں داخل ہوں گے وہاں انہیں رزق ملے گا بغیر حساب کے
— Bayan-ul-Quran