4. سورہ النساء – آیات 81–120
سورہ النساء اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور کہتے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے پھر جب آپ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپس میں ایسے مشورے کرتا ہے جو ان کے اپنے قول کے خلاف ہے اور اللہ لکھ رہا ہے جو بھی وہ مشورے کرتے ہیں تو (اے نبی ﷺ آپ ان سے چشم پوشی کیجیے اور آپ اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ کافی ہے بھروسے کے لیے
— Bayan-ul-Quran
کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟ تو اس میں وہ بہت سے تضادات پاتے
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے امن کی یا خطرے کی تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول ﷺ اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو یہ بات ان میں سے ان لوگوں کے علم میں آجاتی جو بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں تو تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے سوائے چند ایک کے
— Bayan-ul-Quran
پس (اے نبی ﷺ !) آپ جنگ کریں اللہ کی راہ میں ! آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے اپنی ذات کے البتہ اہل ایمان کو آپ اس کے لیے اکسائیں بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کافروں کی قوت کو روک دے اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت شدید ہے قوت میں بھی اور سزا دینے میں بھی
— Bayan-ul-Quran
جو کوئی سفارش کرے گا بھلائی کی اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی سفارش کرے گا برائی کی تو اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قوت رکھنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز کا حساب کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہیں لازماً جمع کرے گا قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہوگا ؟
— Bayan-ul-Quran
پس تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو ؟ اور اللہ نے تو ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب الٹ دیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو ہدایت دے دو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے ؟ اور جس کو اللہ راستے سے ہٹا دے اس کے لیے تم کوئی راستہ نہ پاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا ہے تاکہ تم سب برابر ہوجاؤ تو اب ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اللہ کی راہ میں اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں (ہجرت نہ کریں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو بھی اپنا ساتھی اور مددگار مت بناؤ
— Bayan-ul-Quran
سوائے ان کے جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ دل برداشتہ ہوں اس بات سے کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اگر اللہ چاہتاتو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تم سے لڑتے پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہیں بھی ایسے لوگوں کے خلاف اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی
— Bayan-ul-Quran
تم پاؤ گے ایک اور قسم کے لوگوں کو بھی جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب بھی فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں تو اس کے اندر اوندھے ہوجاتے ہیں پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تمہارے سامنے صلح و سلامتی پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہیں سند (اور قوت) عطا کردی ہے
— Bayan-ul-Quran
کسی مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ ایک مؤمن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو ادا کرنا اِلاّ یہ کہ وہ معاف کردیں اور اگر وہ (مقتول) کسی ایسے قبیلے سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے اور تھا وہ مسلمان تو پھر صرف ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا تو پھر دیت بھی دینا ہوگی اس کے گھر والوں کو اور ایک مؤمن غلام بھی آزاد کرنا ہوگا پھر جو یہ (غلام آزاد) نہ کرسکے تو روزے رکھے دو مہینوں کے متواتر۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ (قبول کرنے کا ذریعہ) ہے اور یقیناً اللہ تو علیم و حکیم ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی قتل کرے گا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر تو اس کا بدلہ جہنّم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ کا غضب اس پر ہوگا اور اللہ نے اس پر لعنت فرمائی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ایمان جب تم اللہ کی راہ میں نکلوتو تحقیق کرلیا کرو اور جو شخص بھی تمہارے سامنے سلام پیش کرے (یا اسلام پیش کرے) اس کو یہ مت کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو تم دنیا کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے ہاں بڑی غنیمتیں ہیں تو (دیکھو) تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے
— Bayan-ul-Quran
برابر نہیں ہیں اہل ایمان میں سے بیٹھ رہنے والے بغیر عذر کے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد (قتال) کے لیے نکلتے ہیں اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ نے فضیلت دی ہے ان مجاہدین کو جو اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے ہیں بیٹھے رہنے والوں پر ایک بہت بڑے درجے کی (اگرچہ) سب کے لیے اللہ کی طرف سے اچھا وعدہ ہے لیکن فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک اجر عظیم کی (صورت میں)
— Bayan-ul-Quran
(ان کے لیے) اس کی طرف سے بلند درجات بھی ہوں گے اور مغفرت و رحمت بھی۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
یقیناوہ لوگ کہ جن کو فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وہ ان سے کہیں گے یہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہیں گے ہم مجبور اور کمزوربنا دیے گئے تھے اس زمین میں وہ (فرشتے) کہیں گے کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ تو یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔
— Bayan-ul-Quran
سوائے ان مردوں عورتیں اور بچوں کے جن کو واقعتا دبا لیا گیا ہو نہ تو وہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ وہ راستہ جانتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
بعید نہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور اللہ واقعتا بخشنے والا اور معاف فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی ہجرت کرے گا اللہ کی راہ میں وہ پائے گا زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت اور جو کوئی اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا ہجرت کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہوگیا اور یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے مسلمانو !) جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم نماز کو کچھ کم کرلیا کرو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں نقصان پہنچائیں گے یقینایہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ جب آپ ﷺ ان کے درمیان موجود ہوں اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہوں تو ان میں سے ایک گروہ کو کھڑے ہونا چاہیے آپ ﷺ کے ساتھ اور وہ اپنا اسلحہ لیے ہوئے ہوں پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہوجائیں اور آئے دوسرا گروہ جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھیں اور ان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کا سامان اور اپنا اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں یہ کافر لوگ تو اسی تاک میں رہتے ہیں کہ تم جیسے ہی اپنے اسلحہ اور سازو سامان سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر ایک دم ٹوٹ پڑیں اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو بارش کی وجہ سے یا تم بیمار ہوجاؤ اور (ایسی صورتوں میں) تم اپنا اسلحہ اتار کر رکھ دو البتہ اپنا بچاؤ ضرور کرلیا کرو یقیناً اللہ نے کافروں کے لیے بہت ذلت آمیز عذاب تیارکر رکھا ہے
— Bayan-ul-Quran
پھر جب تم (اس طریقے سے) نماز ادا کرلو تو پھر ذکر کرو اللہ کا کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے پھر جب تمہیں امن حاصل ہوجائے تو پھر نماز کو قائم کرو (تمام آداب و شرائط کے ساتھ) یقیناً نماز اہل ایمان پر فرض کی گئی ہے وقت کی پابندی کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
اور اس دشمن گروہ کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تمہاری طرح انہیں بھی تو تکلیف پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جیسی امیدیں وہ نہیں رکھتے اور یقیناً اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ یقیناہم نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے حق کے ساتھ تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے مابین فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے اور آپ ﷺ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ سے استغفار کریں یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ مت جھگڑئیے ان لوگوں کی طرف سے جو اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں یقیناً اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں ہیں خیانت میں بہت بڑھے ہوئے اور گنہگار لوگ
— Bayan-ul-Quran
یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ تو ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ تم لوگ ہو جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ان (مجرموں) کی طرف سے جھگڑا کرلیا مگر قیامت کے دن اللہ سے ان کے بارے میں کون جھگڑا کرے گا ؟ یا کون ہوگا جو (وہاں) ان کا وکیل بن سکے گا ؟
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئیُ بری حرکت کرے یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھے اور پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو پائے گا بخشنے والا بہت رحم کرنے والا۔
— Bayan-ul-Quran
جو کوئی بھی گناہ کماتا ہے تو وہ اس کا وبال اپنی ہی جان پر لیتا ہے۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اس کا الزام کسی بےگناہ پر لگا دیتا ہے تو اس نے اپنے سر ایک بہت بڑا بہتان اور بہت صریح گناہ کا بوجھ لے لیا
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ ﷺ کے شامل حال نہ ہوتی تو ان (منافقین) کا ایک گروہ تو اس پر تل گیا تھا کہ آپ کو گمراہ کر دے اور حقیقت میں وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور (اے نبی ﷺ وہ آپ ﷺ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے اور حکمت بھی اور آپ ﷺ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ ﷺ نہیں جانتے تھے اور یقیناً اللہ کا فضل ہے آپ ﷺ پر بہت بڑا۔
— Bayan-ul-Quran
ان (منافقین) کی سرگوشیوں میں سے اکثر میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی الاّ یہ کہ کوئی تلقین کرے صدقہ و خیرات کی یا نیکی کی یا لوگوں کے معاملات کو درست کرنے کی اور جو شخص اس طرح (کی سرگوشی) کرے گا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے تو عنقریب ہم اسے دیں گے بہت بڑا اجر
— Bayan-ul-Quran
اور جو رسول ﷺ کی مخالفت پر تل گیا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی اور وہ اہل ایمان کے راستے کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے تو ہم بھی اس کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس طرف اس نے خود رخ اختیار کرلیا ہو اور ہم اسے پہنچائیں گے جہنم میں اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی
— Bayan-ul-Quran
اللہ ہرگز نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دے گا اس کے سوا جس کے لیے چاہے گا اور جو شرک کرتا ہے اللہ کے ساتھ وہ تو پھر گمراہ ہوگیا اور گمراہی میں بھی بہت دور نکل گیا
— Bayan-ul-Quran
نہیں پکار تے یہ لوگ اللہ کے سوا مگر دیویوں کو اور وہ نہیں پکارتے کسی کو سوائے سرکش شیطان کے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے اس پر لعنت فرما دی ہے اور اس نے کہا (اے اللہ) میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ تو لے کر ہی چھوڑوں گا۔
— Bayan-ul-Quran
اور میں لازماً ان کو بہکاؤں گا اور ان کو بڑی بڑی امیدیں دلاؤں گا اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ چوپایوں کے کان چیر دیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کریں گے اور جس کسی نے بھی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنا لیا تو وہ بہت کھلے خسارے (اور تباہی) میں پڑگیا
— Bayan-ul-Quran
وہ (شیطان) ان سے وعدے بھی کرتا ہے اور انہیں امیدیں بھی دلاتا ہے اور نہیں وعدہ کرتا ان سے شیطان مگر دھوکے کا
— Bayan-ul-Quran