27. سورہ النمل
سورہ النمل اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
طٰسۗ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہ ہدایت اور بشارت ہے اہل ایمان کے لیے
— Bayan-ul-Quran
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
یقیناً وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا ہے پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے بہت برا عذاب ہے اور یہی وہ لوگ ہیں کہ جو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) یقینا آپ کو یہ قرآن دیا جا رہا ہے ایک حکیم اور علیم ہستی کی طرف سے
— Bayan-ul-Quran
یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے کہا تھا اپنے گھر والوں سے کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آؤں گا یا کوئی دہکتا ہوا انگارہ لے آؤں گا تاکہ تم (آگ) تاپ سکو
— Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں پکارا گیا کہ بہت مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے
— Bayan-ul-Quran
اے موسیٰ ! یہ تو میں ہوں اللہ بہت زبردست کمال حکمت والا
— Bayan-ul-Quran
اور اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو تو جب اس نے اسے حرکت کرتے ہوئے دیکھا گویا وہ سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے ُ مڑکر بھی نہ دیکھا (اللہ نے فرمایا :) اے موسیٰ ! ڈرو نہیں میرے حضور رسولوں کے لیے کوئی خوف نہیں ہوتا
— Bayan-ul-Quran
سوائے اس کے جس نے کوئی ظلم کیا ہو پھر اس نے بدل دیا برائی کو نیکی سے تو یقیناً میں بہت بخشنے والا بیحد مہربان ہوں
— Bayan-ul-Quran
اور ذرا اپنا ہاتھ داخل کرو اپنے گریبان میں وہ نکلے گا سفید چمکتا ہوا بغیر کسی مرض کے یہ (دو نشانیاں) فرعون اور اس کی قوم کے لیے نو نشانیوں میں سے ہیں یقیناً وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں آئیں انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے
— Bayan-ul-Quran
اور انہوں نے ان کا انکار کیا ظلم اور سر کشی کے ساتھ جبکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کیا تو دیکھ لو ! کیسا ہوا انجام مفسدوں کا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو علم عطا کیا تھا اور ان دونوں نے کہا کہ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مؤمن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی
— Bayan-ul-Quran
اور وارث ہوا سلیمان ؑ داؤد ؑ کا اور اس نے کہا : اے لوگو ! ہمیں سکھا دی گئی ہیں پرندوں کی بولیاں اور ہمیں (اللہ کی طرف سے) ہرچیز عطا کی گئی ہے۔ یقیناً یہ (اللہ کا) بہت واضح فضل ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جمع کیے گئے سلیمان کے (معائنہ کے) لیے اس کے تمام لشکر جنوں ّ انسانوں اور پرندوں میں سے اس طرح کہ انہیں جماعتوں میں منظم کیا جاتا تھا
— Bayan-ul-Quran
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : اے چیونٹیو ! تم سب اپنے بلوں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان ؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل کر رکھ دیں اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہو
— Bayan-ul-Quran
تو وہ خوش ہو کر مسکرایا اس کی اس بات پر اور اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر ادا کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور یہ کہ میں اچھے اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور مجھے داخل کرنا اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں
— Bayan-ul-Quran
اور اس نے پرندوں کے لشکر کا معائنہ کیا تو کہا کہ کیا بات ہے مجھے ُ ہد ہد نظر نہیں آ رہا ؟ کیا وہ غیر حاضر ہے
— Bayan-ul-Quran
میں اسے بہت سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس کوئی واضح دلیل لے کر آئے
— Bayan-ul-Quran
تو کچھ زیادہ دیر نہیں گزری (کہ ہدہد پہنچ گیا) تو اس نے کہا کہ میں نے وہ کچھ معلوم کیا ہے جو آپ کو معلوم نہیں اور میں آپ ؑ کے پاس قوم سبا سے متعلق یقینی معلومات لے کر آیا ہوں
— Bayan-ul-Quran
میں نے ایک عورت کو ان پر حکومت کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اسے ہر شے دی گئی ہے اور اس کا تخت بہت عظیم الشان ہے
— Bayan-ul-Quran
اور میں نے دیکھا اس کو اور اس کی قوم کو کہ وہ سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کو چھوڑ کر اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کوّ مزین کردیا ہے اور انہیں روک دیا ہے سیدھے راستے سے تو اب وہ راستہ نہیں پا رہے
— Bayan-ul-Quran
کہ وہ سجدہ نہیں کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے ہر چھپی چیز کو آسمانوں اور زمین میں سے اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو
— Bayan-ul-Quran
وہ اللہ کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو بہت بڑے عرش کا مالک ہے
— Bayan-ul-Quran
سلیمان ؑ نے کہا : ہم عنقریب دیکھیں گے کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹے ہو
— Bayan-ul-Quran
میرا یہ خط لے جاؤ اسے ان کے پاس جا کر ڈال آؤ پھر ان سے الگ ہو کر دیکھتے رہو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا کہ اے (میری قوم کے) سردارو ! میری طرف ایک بہتّ عزت والا خط ڈالا گیا ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ (خ ط) سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا ہے
— Bayan-ul-Quran
یہ کہ میرے مقابلے میں تم لوگ سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوجاؤ
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا : اے سردارو ! میرے اس معاملے میں آپ لوگ مجھے مشورہ دیں۔ میں کسی معاملے میں بھی حتمی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہ ہوں
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : ہم طاقتور بھی ہیں اور زبردست جنگی صلاحیت والے بھی اور فیصلے کا اختیار تو آپ ہی کے پاس ہے چناچہ آپ خود دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کردیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسے ہی کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو میں ان کی طرف اپنے ایلچی کچھ تحائف کے ساتھ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ وہ کیا جواب لے کر واپس آتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
تو جب وہ (وفد) آیا سلیمان کے پاس اس نے کہا کہ کیا تم میری اعانت کرنا چاہتے ہو مال و دولت سے ؟ تو جو کچھ مجھے اللہ نے دے رکھا ہے وہ کہیں بہتر ہے اس سے جو اس نے تمہیں دیا ہے اپنے ان تحائف سے تم خود ہی خوش رہو
— Bayan-ul-Quran
تم لوٹ جاؤ ان کی طرف تو ہم ان پر ایسے لشکروں سے حملہ آور ہوں گے جن کا مقابلہ ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور ہم نکال باہر کریں گے انہیں اس ملک سے ذلیل کر کے اور وہ خوار ہوجائیں گے
— Bayan-ul-Quran
پھر اپنے درباریوں سے مخاطب ہو کر) سلیمان نے کہا : اے درباریو ! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لائے گا اس سے پہلے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس پہنچیں
— Bayan-ul-Quran
جنوں میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں اس سے پہلے کہ آپ ؑ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اور میں یقیناً اس کام کے لیے طاقت بھی رکھتا ہوں اور امانت دار بھی ہوں
— Bayan-ul-Quran
کہنے لگا وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں اس سے قبل کہ آپ ؑ کی نگاہ پلٹ کر آپ ؑ کی طرف آئے پھر جب اس نے دیکھا اسے اپنے سامنے رکھا ہوا اس ؑ نے کہا کہ یہ میرے رب ہی کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ کیا میں شکر ادا کرتا ہوں یا نا شکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی (بھلے کے) لیے کرتا ہے اور جو کوئی نا شکری کرتا ہے تو میرا رب یقیناً بےنیاز ہے بہت کرم کرنے والا
— Bayan-ul-Quran