28. سورہ القصص – آیات 41–80
سورہ القصص اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور ہم نے بنا دیا انہیں امام آگ کی طرف بلانے والے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اس دنیا میں بھی اور قیامت کے دن وہ بہت ہی برے حال والوں میں سے ہوں گے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا فرمائی اس کے بعد کہ ہم نے پہلی جماعتوں کو ہلاک کردیا تھا (یہ کتاب) لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے تھی اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) آپ موجود نہیں تھے (اس پہاڑ کے) غربی جانب جب ہم نے موسیٰ ؑ کی طرف حکم بھیجا تھا اور نہ آپ ﷺ ان لوگوں میں شامل تھے جو وہاں حاضر تھے
— Bayan-ul-Quran
لیکن ہم نے پیدا کیں بہت سی نسلیں تو ان کے اوپر ایک لمبی عمر بیت گئی اور نہ ہی آپ ﷺ اہل مدین کے درمیان مقیم تھے کہ ان کو ہماری آیات پڑھ کر سناتے بلکہ یہ تو ہم ہیں (رسولوں کو) بھیجنے والے
— Bayan-ul-Quran
اور نہ آپ ﷺ (اس وقت) طور کے پاس موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ ؑ کو) پکارا تھا بلکہ یہ سب رحمت ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو خبردار کریں جس کی طرف آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں
— Bayan-ul-Quran
اور (یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچے ان کے کرتوتوں کے سبب تو یہ کہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ُ تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوجاتے
— Bayan-ul-Quran
لیکن جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آگیا تو کہنے لگے کہ ان (رسول ﷺ کو وہی کچھ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا تو جو کچھ پہلے موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا کیا لوگوں نے اس کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ تو دو جادو ہیں ایک دوسرے کے مددگار اور انہوں نے کہا کہ ہم تو دونوں کا انکار کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ کہیے کہ پھر لاؤ کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو
— Bayan-ul-Quran
پھر اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیں کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر یقیناً اللہ ایسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے لگاتار بھیجا ان کے لیے اپنا کلام تاکہ یہ نصیحت اخذ کریں
— Bayan-ul-Quran
جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر ایمان رکھتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یقیناً یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم تھے
— Bayan-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دیا جائے گا دو مرتبہ بسبب اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے اور وہ بھلائی کے ذریعے سے برائی کو دفع کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور جب انہوں نے لغو باتیں سنیں تو انہوں نے ان سے اعراض کیا اور کہا کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال تم لوگوں پر سلام ! ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ ﷺ کے ساتھ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے کیا ہم نے انہیں امن والے حرم میں متمکن نہیں کیا کھنچے چلے آتے ہیں اس (حرم) کی طرف ہر قسم کے پھل یہ خاص رزق ہے ہماری طرف سے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
— Bayan-ul-Quran
اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا جو کہ اتراتی تھیں اپنی معیشت پر تو (دیکھ لو !) یہ ہیں ان کے (کھنڈر بنے ہوئے) گھر نہیں ہوئے ان میں رہنے والے ان کے بعد مگر بہت تھوڑے۔ اور ہم ہی (ان کے) وارث ہو کر رہے
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں تھا آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو پڑھ کر سناتا تھا ہماری آیات اور ہم ہرگز ان بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں تھے مگر اس بنا پر کہ ان کے باسی ظالم تھے
— Bayan-ul-Quran
اور جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ بس دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی زیب وزینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے
— Bayan-ul-Quran
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اس (وعدے کو) پالینے والا بھی ہے اس شخص جیسا ہوجائے گا جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سازو سامان دے دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کیے جانے والوں میں سے ہوگا
— Bayan-ul-Quran
جس دن اللہ انہیں پکارے گا اور کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم زعم رکھتے تھے
— Bayan-ul-Quran
تو کہیں گے وہ لوگ جو (عذاب کے) فیصلے کے مستحق ہوچکے ہوں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا (وہ جواب میں کہیں گے) ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے ہم تیرے سامنے (ان سے) اظہار براءت کرتے ہیں یہ ہماری پرستش تو نہیں کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور ان سے کہا جائے گا کہ اب تم پکارو اپنے شریکوں کو تو وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور وہ دیکھ لیں گے عذاب کو کاش وہ ہدایت پائے ہوئے ہوتے
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن اللہ انہیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم لوگوں نے کیا جواب دیا تھا رسولوں کو
— Bayan-ul-Quran
تو اندھی ہوجائیں گی ان پر تمام خبریں اس دن پھر وہ ایک دوسرے سے پوچھ بھی نہیں سکیں گے
— Bayan-ul-Quran
تو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کیے تو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والے والوں میں سے ہوگا
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ کا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے (جسے چاہتا ہے) (جبکہ) ان کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور وہی ہے اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ کہیے : کیا تم لوگوں نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر رات مسلط کر دے ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون معبود ہوگا اللہ کے سوا جو تمہارے لیے روشنی لائے گا ؟ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ کہیے : کیا تم لوگوں نے کبھی یہ سوچا کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے دن ہی کو قائم کر دے قیامت کے دن تک تو کون معبود ہے اللہ کے سوا جو تمہارے لیے رات لائے گا جس میں تم آرام کرسکو ؟ تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو
— Bayan-ul-Quran
اور اس کی رحمت (کے مظاہر) میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ اس (رات) میں تم لوگ آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کی ان نعمتوں کا) شکر ادا کرو
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن وہ انہیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم لوگوں کو زعم تھا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نکالیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ پھر ہم کہیں گے کہ تم اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ حق تو اللہ ہی کے طرف ہے اور گم ہوجائے گا ان سے وہ سب کچھ جو افتراوہ کرتے رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
یقیناً قارون موسیٰ ؑ کی قوم ہی سے تھا لیکن اس نے ان کے خلاف سر کشی کی اور اس کو ہم نے اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقتور جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی جب اس سے کہا اس کی قوم کے لوگوں نے کہ اتراؤ مت یقیناً اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے دار آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو اور مت بھولو تم دنیا سے اپنا حصہ اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت مچاؤ یقیناً اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا کہ مجھے تو یہ سب کچھ ملا ہے اس علم کی بنیاد پر جو میرے پس ہے کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو طاقت اور مال و اسباب کی فراوانی میں اس سے کہیں بڑھ کر تھیں اور (اللہ کے ہاں) مجرم لوگوں سے ان کی خطاؤں کے بارے میں پوچھا بھی نہیں جاتا
— Bayan-ul-Quran
پھر (ایک دن) وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ میں کہا ان لوگوں نے جو خواہش مند تھے دنیا ہی کی زندگی کے کہ کاش یہ سب کچھ ہمارے لیے بھی ہوتا جو قارون کو ملا ہے یقیناً وہ بہت بڑے نصیب والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور کہا ان لوگوں نے جنہیں علم عطا ہو اتھا افسوس ہے تم پر ! اللہ کا (عطا کردہ) ثواب (اس سے) کہیں بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے اور وہ نہیں ملے گا مگر ان لوگوں کو جو صبر کرنے والے ہیں
— Bayan-ul-Quran