68. سورہ القلم
سورہ القلم اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
ن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ یہ لکھتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور یقینا آپ کے لیے تو وہ اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ یقینا اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
تو عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
کہ تم میں سے کون فتنے میں مبتلا تھا !
— Bayan-ul-Quran
یقینا آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔
— Bayan-ul-Quran
وہ تو چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ ذرا ڈھیلے پڑیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
رُو در رُو طعنے دیتا ہے چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
خیر سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار۔
— Bayan-ul-Quran
بالکل گنوار ہے اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔
— Bayan-ul-Quran
صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ جبکہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور اس کا پھل اتار لیں گے صبح سویرے۔
— Bayan-ul-Quran
اور انہوں نے (اس پر) ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔
— Bayan-ul-Quran
پس ایک پھرنے والا پھر گیا اس (باغ) پر آپ کے رب کی طرف سے جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے ہی تھے۔
— Bayan-ul-Quran
تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اب صبح ہی صبح انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔
— Bayan-ul-Quran
کہ صبح سویرے چلو اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
چناچہ وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے یہ باتیں کرتے جا رہے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
کہ دیکھو آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں ہرگز داخل نہ ہونے پائے۔
— Bayan-ul-Quran
اور وہ صبح سویرے چلے جلدی جلدی (یہ سمجھتے ہوئے) کہ وہ اس ارادہ پر پوری طرح قادر ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
پھر جب انہوں نے اس (باغ) کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو کہیں بھٹک گئے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
نہیں نہیں (باغ تویہی ہے) ہم تو محروم ہوگئے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
ان کے درمیان والے نے کہا : میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم (اپنے رب کی) تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا (واقعی تم ٹھیک کہتے ہو) ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔
— Bayan-ul-Quran
پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
— Bayan-ul-Quran
(بالآخر اعتراف کرتے ہوئے) وہ کہنے لگے : ہائے ہماری بدبختی ! اصل میں ہم سب ہی اپنی حدود سے تجاوز کرنے والے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اُمید ہے ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر عطا کر دے گا اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اسی طرح آتا ہے عذاب ! اور آخرت کا عذاب تو یقینا بہت ہی بڑا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
متقین کے لیے یقینا ان کے رب کے پاس نعمت والے باغات ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
کیا ہم اپنے فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟
— Bayan-ul-Quran
تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
کہ اس (آخرت) میں تمہیں وہ سب کچھ مل جائے گا جو تم پسند کرو گے !
— Bayan-ul-Quran
کیا تم نے ہم سے کوئی قسم لے رکھی ہے جو باقی رہنے والی ہو قیامت کے دن تک کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے ؟
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) ذرا ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون ہے جو اس کا ضامن ہو ؟
— Bayan-ul-Quran