17. سورہ الاسراء – آیات 41–80
سورہ الاسراء اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اس قرآن میں (اپنی آیات کو) تاکہ یہ سبق حاصل کریں مگر یہ نہیں بڑھاتا انہیں مگر نفرت ہی میں
— Bayan-ul-Quran
آپ کہیے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تب تو وہ ضرور تلاش کرتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ
— Bayan-ul-Quran
وہ پاک ہے اور بہت ہی بلندو برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور (وہ تمام مخلوق بھی) جو ان میں ہے اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو یقیناً وہ بہت تحمل والا بہت بخشنے والا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں
— Bayan-ul-Quran
اور ان کے دلوں پر بھی ہم پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل (پیدا کردیتے ہیں) اور جب آپ قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اپنی پیٹھیں موڑ کر چل دیتے ہیں نفرت کے ساتھ
— Bayan-ul-Quran
ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے وہ توجہ سے سنتے ہیں اس (قرآن) کو جب وہ کان لگائے بیٹھے ہوتے ہیں آپ کی طرف اور جب وہ علیحدگی میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم (ایک دوسرے سے) کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تم نہیں پیروی کر رہے ہو مگر ایک سحر زدہ شخص کی
— Bayan-ul-Quran
دیکھئے کیسے بیان کرتے ہیں یہ لوگ آپ کے لیے مثالیں چناچہ وہ بھٹک گئے ہیں اور اب راہ یاب نہیں ہو سکیں گے
— Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم ہوجائیں گے ہڈیاں اور چورا چورا تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے ایک نئی تخلیق میں
— Bayan-ul-Quran
(ان سے) کہیے کہ خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا
— Bayan-ul-Quran
یا ایسی مخلوق (بن جاؤ) جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت ہو پھر کہیں گے کہ کون ہمیں دوبارہ لوٹائے گا آپ کہیے کہ وہی جس نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا پھر وہ آپ کے سامنے اپنے سروں کو مٹکائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہوگا آپ کہیے کہ ہوسکتا ہے (اس کا وقت) قریب ہی ہو
— Bayan-ul-Quran
جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم (اس کی پکار پر) لبیک کہو گے اس کی حمد کرتے ہوئے اور تم گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے مگر بہت تھوڑا (عرصہ)
— Bayan-ul-Quran
اور آپ میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہی بات کہیں جو بہت اچھی ہو یقیناً شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالے گا یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
— Bayan-ul-Quran
تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا یا اگر چاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا اور (اے نبی !) ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا
— Bayan-ul-Quran
اور آپ کا رب خوب جانتا ہے اس کو جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں اور ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی
— Bayan-ul-Quran
آپ کہیے کہ ان کو پکار دیکھو جن کو تم نے اس کے سوا (معبود) گمان کر رکھا ہے تو نہ انہیں کچھ اختیار حاصل ہے تم سے کوئی تکلیف دور کرنے کا اور نہ ہی (تمہاری حالت) بدلنے کا
— Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے قرب کے متلاشی ہیں کہ ان میں سے کون (اس کے) زیادہ قریب ہے اور وہ امیدوار ہیں اس کی رحمت کے اور ڈرتے رہتے ہیں اس کے عذاب سے واقعتا آپ کے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہے
— Bayan-ul-Quran
اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اسے ہلاک کر کے رہیں گے روز قیامت سے قبل یا ہم عذاب دیں گے اسے بہت ہی شدید عذاب یہ (اللہ کی) کتاب میں لکھا ہوا ہے
— Bayan-ul-Quran
اور ہمیں نہیں روکا (کسی اور بات نے) کہ ہم نشانیاں بھیجیں سوائے اس کے کہ ان کو جھٹلا دیا تھا پہلے لوگوں نے اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی آنکھیں کھول دینے والی نشانی (کے طو رپر) تو انہوں نے اس کے ساتھ بھی ظلم کیا اور ہم نہیں بھیجتے نشانیاں مگر صرف ڈرانے کے لیے
— Bayan-ul-Quran
اور جب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب نے لوگوں کا احاطہ کیا ہوا ہے اور نہیں بنایا ہم نے اس مشاہدے کو جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا مگر ایک فتنہ لوگوں کے لیے اور اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت وارد ہوئی ہے اور (ان باتوں سے) ہم تو انہیں تنبیہہ کرتے ہیں مگر یہ تنبیہہ ان کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہے
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہیں کیا) اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے پیدا کیا ہے مٹی سے
— Bayan-ul-Quran
اس نے (مزید) کہا کہ ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھے مہلت دے دے قیامت کے دن تک تو میں اس کی پوری نسل کو قابو میں کر کے چھوڑوں گا سوائے بہت تھوڑے سے لوگوں کے
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے فرمایا : جاؤ (دفع ہوجاؤ !) ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے تو یقیناً تم سب کی سزا جہنم ہوگی وافر سزا
— Bayan-ul-Quran
اور تو پھسلا لے جس پر تیرا بس چلتا ہے ان میں سے اپنی آواز سے اور چڑھا لا ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو اور شریک بن جا ان کا مالوں میں اور اولاد میں اور ان سے (جو چاہے) وعدے کر اور نہیں وعدہ کرتا ان سے شیطان مگر دھوکے کا
— Bayan-ul-Quran
یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں ہوگا اور کافی ہے تیرا رب بطور کار ساز
— Bayan-ul-Quran
تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے لیے کشتیوں کو سمندر میں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرسکو یقیناً وہ تم پر بہت ہی رحیم ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے سمندر میں گم ہوجاتے ہیں وہ سب جنہیں تم پکارتے ہو سوائے اس (ایک اللہ) کے پھر جب وہ تمہیں بچا لاتا ہے خشکی کی طرف تو تم منہ موڑ لیتے ہو۔ اور انسان بڑا ہی نا شکرا ہے
— Bayan-ul-Quran
تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ دھنسا دے تمہیں کہیں خشکی میں ہی یا وہ تم پر بھیج دے کنکر برسانے والی تیز ہوا پھر تم نہ پاؤ اپنے لیے کوئی بچانے والا
— Bayan-ul-Quran
یا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے کہ وہ پھیر لے جائے تمہیں اسی (سمندر) میں دوسری مرتبہ پھر بھیج دے تم پر ہوا کا زور دار جھکڑ سو تمہیں غرق کر دے تمہارے کفر کی پاداش میں پھر تم نہ پاؤ اپنے لیے ہمارے خلاف اس کی وجہ سے کوئی تعاقب کرنے والا
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے بڑی عزت بخشی ہے اولاد آدم کو اور ہم اٹھائے پھرتے ہیں انہیں خشکی اور سمندر میں اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور انہیں فضیلت دی اپنی بہت سی مخلوق پر بہت بڑی فضیلت
— Bayan-ul-Quran
جس دن ہم بلائیں گے تمام انسانوں کو ان کے سرداروں کے ساتھ تو جس کو دیا جائے گا اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں تو ایسے لوگ پڑھیں گے اپنے اعمال نامہ کو (خوشی کے ساتھ) اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا دھاگے کے برابر بھی
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راہ سے بہت دور بھٹکا ہوا
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی !) یہ لوگ تو اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ آپ کو فتنے میں ڈال کر اس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ اس کے علاوہ کوئی اور چیز گھڑ کر ہم سے منسوب کردیں اور اگر آپ ایسا کرتے تب تو یہ لوگ آپ کو اپنا گاڑھا دوست بنا لیتے
— Bayan-ul-Quran
اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو عین ممکن تھا کہ آپ ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک ہی جاتے
— Bayan-ul-Quran
(اگر ایساہو جاتا) تب ہم آپ کو دگنی سزا دیتے زندگی میں اور دگنی سزا دیتے موت پر پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار
— Bayan-ul-Quran
اور یہ تلے ہوئے ہیں کہ آپ کے قدم اکھاڑ دیں اس زمین سے تاکہ آپ کو یہاں سے نکال باہر کریں اور (اگر ایسا ہوا تو) تب وہ خود بھی نہیں ٹھہریں گے آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ
— Bayan-ul-Quran
یہی (ہمارا) طریقہ رہا ان کے باب میں جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا اپنے رسولوں میں سے اور آپ ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے
— Bayan-ul-Quran
نماز قائم رکھیے سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک اور قرآن کا پڑھا جانا فجر کے وقت یقیناً فجر کے وقت قرآن کا پڑھا جانا مشہود ہے
— Bayan-ul-Quran
اور رات کے ایک حصے میں آپ جاگیے اس (قرآن) کے ساتھ یہ اضافی چیز ہے آپ کے لیے امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا
— Bayan-ul-Quran
اور دعا کیجیے کہ اے میرے رب مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور مجھے نکال عزت کا نکالنا اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما
— Bayan-ul-Quran