33. سورہ الاحزاب
سورہ الاحزاب اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
(اے نبی ﷺ !) اللہ کا تقویٰ اختیار کیجیے اور کافرین و منافقین کی باتیں نہ مانیے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ پیروی کیجیے اس (ہدایت) کی جو آپ ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی ہے آپ ﷺ کے رب کی جانب سے۔ یقینا اللہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور آپ ﷺ اللہ پر توکل ّکیجیے۔ اور اللہ کافی ہے توکل کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو۔ ور نہ ہی اس نے تمہارے ُ منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(لہٰذا) انہیں پکارا کرو ان کے باپوں کی نسبت سے یہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے اللہ کے نزدیک۔ اور اگر تمہیں ان کے باپوں کے بارے میں پتا نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ اور اس معاملے میں تم سے جو خطا ہوئی ہے اس پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں لیکن تم لوگ جو کچھ اپنے دلوں کے ارادے سے کرو گے (اس کا ضرور احتساب ہوگا) اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا نبی ﷺ کا حق مومنوں پر خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ ہے اور نبی ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رحمی رشتے رکھنے والے اللہ کی کتاب کے مطابق مومنین و مہاجرین کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ } یہ سب باتیں (پہلے سے) کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور (یاد کرو) جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا اور آپ ﷺ سے بھی اور نوح ؑ ابراہیم موسیٰ ؑ ٰ اور عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔
— Bayan-ul-Quran
تا کہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔
— Bayan-ul-Quran
اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہو جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکرتو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔ } اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
— Bayan-ul-Quran
جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
— Bayan-ul-Quran
اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے
— Bayan-ul-Quran
اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مگر دھوکے کا۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں چناچہ تم لوٹ جائو اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ } حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا تو وہ اسے قبول کرلیتے اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔
— Bayan-ul-Quran
حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ } اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو } اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔
— Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا ؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا ؟ } اور یہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔
— Bayan-ul-Quran
اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جائو } اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے مسلمانو !) تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں تو جب خطرہ پیش آجاتا ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اس شخص کی (آنکھوں کی) طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے لالچ کرتے ہوئے مال پر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
— Bayan-ul-Quran
وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔ اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ بدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔ } اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔
— Bayan-ul-Quran
(اے مسلمانو !) تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے (یہ اسوہ ہے) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو } اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب اہل ِایمان نے دیکھا ان لشکروں کو تو انہوں نے کہا کہ یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اور بالکل سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے۔ } اور اس (واقعہ) نے ان میں کسی بھی شے کا اضافہ نہیں کیا مگر ایمان اور فرمانبرداری کا۔
— Bayan-ul-Quran
اہل ِایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کرچکے اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں } اور انہوں نے ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کی
— Bayan-ul-Quran
تا کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا پورا پورا بدلہ دے اور منافقین کو چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے } یقینا اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور لوٹا دیا اللہ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ ہی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور اللہ کافی رہا اہل ِایمان کی طرف سے قتال کے لیے۔ } اور یقینا اللہ بڑی طاقت والا سب پر غالب ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور اللہ نے اتار لیا اہل ِکتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اور ان کے دلوں میں اس نے رعب ڈال دیا } تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔ } اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو } تو آئو میں تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں
— Bayan-ul-Quran
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو (اطمینان رکھو کہ) اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے } اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے } اور بات کرو معروف انداز میں۔
— Bayan-ul-Quran
اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح اور نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔ } اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔
— Bayan-ul-Quran
اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں) } یقینا اللہ بہت باریک بین ہرچیز سے باخبر ہے۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں } اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔ } اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ ﷺ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ ﷺ اس سے ڈریں۔ پس جب زید ؓ نے اس سے اپنا تعلق منقطع کرلیا تو اسے ہم نے آپ ﷺ کی زوجیت میں دے دیا تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔
— Bayan-ul-Quran
نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔
— Bayan-ul-Quran
وہ (اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
— Bayan-ul-Quran
(دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran