46. سورہ الاحقاف
سورہ الاحقاف اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
ح م۔
— Bayan-ul-Quran
اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست کمال حکمت والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک اجل معین کے لیے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟ یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟ } لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو !
— Bayan-ul-Quran
اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیت ِبینات ّتو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
— Bayan-ul-Quran
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ (اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ (کی پکڑ) سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔ وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم لگے ہوئے ہو۔ } وہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمہارے مابین اور وہ خوب بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا } میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔
— Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ (قرآن) واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا) ؟ اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی ہی کتاب کی۔ پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم استکبار کر رہے ہو بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
— Bayan-ul-Quran
اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ (قرآن) کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ } اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔
— Bayan-ul-Quran
حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ ؑ ٰ کی کتاب موجود ہے راہنمائی کرنے والی اور رحمت اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔
— Bayan-ul-Quran
یہی لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے تاکید کی انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔ اُس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا (پیٹ میں) تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔ اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے (لگ بھگ) تیس مہینے میں۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کر سکوں تیرے انعامات کا جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے، اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے، اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔ میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقیناً میں (تیرے) فرماں برداروں میں سے ہوں۔
— Bayan-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے (اور وہ ہوں گے) جنت والوں میں سے یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔
— Bayan-ul-Quran
اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا (زندہ کر کے قبر سے) ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
— Bayan-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات صادق آئی (یہ بھی شامل کردیے جائیں گے) ان قوموں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں میں سے یقینا یہی لوگ ہیں خسارے والے
— Bayan-ul-Quran
اور ہر ایک کے لیے درجے (اور مقامات) ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا
— Bayan-ul-Quran
اور جس دن یہ کافر پیش کیے جائیں گے آگ پر (اُس وقت ان سے کہا جائے گا :) تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے تم نے خوب فائدہ اٹھا لیا تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس تکبر کے جو تم زمین میں ناحق کرتے رہے ہو اور بسبب ان نافرمانیوں کے جو تم کرتے رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی (ہود (ؑ) کا جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو تو جس عذاب کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو وہ ہم پر لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو
— Bayan-ul-Quran
اس نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے اور میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں وہ پیغام جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت کی روش اختیار کر رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے
— Bayan-ul-Quran
تباہ و برباد کرتا ہے ہر شے کو اپنے رب کے حکم سے پھر وہ ایسے ہوگئے کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ان کے مسکنوں کے اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کی قوم کو
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے جو تمکن انہیں دیا تھا ایسا تمکن ّہم نے تمہیں نہیں دیا ہے اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل (یاعقلیں) عطا کیے تھے تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے ان کے کان نہ ان کی آنکھیں اور نہ ہی ان کے دل (عقلیں) جبکہ وہ انکار ہی کرتے رہے اللہ کی آیات کا اور ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے ہلاک کیا ہے بہت سی ایسی بستیوں کو جو تمہارے اردگرد آباد تھیں اور ہم نے پھیر پھیر کر ان کو اپنی آیات سنائیں تاکہ وہ رجوع کریں
— Bayan-ul-Quran
تو کیوں نہ مدد کی ان کی ان ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا تقرب ّ (الی اللہ) کا ذریعہ سمجھتے ہوئے بلکہ وہ سب تو ان سے گم ہوگئے اور یہ تھا ان کا جھوٹ اور جو کچھ وہ افترا کر رہے تھے
— Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کردیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : چپ ہو جائو پھر جب (قراءت) ختم ہوئی تو وہ پلٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ ؑ ٰ کے بعد نازل ہوئی ہے تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو اس کے سامنے موجود ہے (یعنی تورات) راہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور ایک سیدھے راستے کی طرف
— Bayan-ul-Quran
اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لے آئو تاکہ وہ (اللہ) تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک درد ناک عذاب سے بچا لے
— Bayan-ul-Quran
اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں اور نہیں ہوں گے اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
— Bayan-ul-Quran
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور ان کی تخلیق سے تھکا نہیں وہ اس پر قادر ہے کہ ُ مردوں کو زندہ کر دے کیوں نہیں یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے
— Bayan-ul-Quran
اور جس روز پیش کیے جائیں گے یہ کافر آگ پر (اور ان سے پوچھا جائے گا :) کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ (حق ہے) اللہ فرمائے گا : تو اب چکھو عذاب کا مزہ اپنے اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو
— Bayan-ul-Quran
تو (اے محمد ﷺ !) آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول ؑ صبر کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے جس دن یہ لوگ دیکھیں گے اس (عذاب) کو جس کی انہیں وعید سنائی جا رہی ہے (تو ایسے محسوس کریں گے) گویا نہیں رہے تھے (دنیا میں) مگر دن کی ایک گھڑی یہ پہنچا دینا ہے ! کیا سوائے نافرمان لوگوں کے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا ؟
— Bayan-ul-Quran
Build a steady Quran habit
Save your place, set a reading goal, and return to the next chapter without losing momentum.