51. سورہ الذاریات
سورہ الذاریات اردو ترجمہ، تفسیر، آڈیو تلاوت، لفظ بہ لفظ معنی اور تلفظ کے ساتھ پڑھیں۔
In the Name of Allah—the Most Compassionate, Most Merciful
قسم ہے ان ہوائوں کی جو بکھیرنے والی ہیں جیسے کہ بکھیرا جاتا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
پھر بوجھ اٹھا کر لانے والی ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
پھر نرمی سے چلنے والی ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
پھر اللہ کے امر کو تقسیم کرنے والی ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔
— Bayan-ul-Quran
اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی۔
— Bayan-ul-Quran
اور قسم ہے جالی دار آسمان کی۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا تم لوگ ایک جھگڑے کی بات میں پڑگئے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
اس سے وہی پھیرا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
ہلاک ہوجائیں یہ اٹکلیں دوڑانے والے۔
— Bayan-ul-Quran
جو اپنی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن
— Bayan-ul-Quran
جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے۔
— Bayan-ul-Quran
ُس دن ان سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنی شرارت کا۔ یہ ہے وہ (عذاب) جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔
— Bayan-ul-Quran
وہ (شکریے کے ساتھ) لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔
— Bayan-ul-Quran
رات کا تھوڑا ہی حصہ ہوتا تھا جس میں وہ سوتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔
— Bayan-ul-Quran
اور زمین میں (ہر چہارطرف) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی (نشانیاں ہیں)۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟
— Bayan-ul-Quran
اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
— Bayan-ul-Quran
تو آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم یقینایہ حق ہے بالکل ایسے جیسے (اِس وقت) تم بات چیت کر رہے ہو۔
— Bayan-ul-Quran
کیا آپ ﷺ کے پاس ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی خبرپہنچی ہے
— Bayan-ul-Quran
جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے تو انہوں نے سلام کہا۔ اس نے بھی (جواب میں) سلام کہا (اور دل میں کہا کہ) یہ تو کوئی اجنبی لوگ ہیں۔
— Bayan-ul-Quran
پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک (بھنا ہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔
— Bayan-ul-Quran
پھر اسے ان کی طرف بڑھایا اور کہا کہ آپ لوگ کھاتے نہیں ؟
— Bayan-ul-Quran
تو اس نے ان کی طرف سے دل میں اندیشہ محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : آپ ڈریں نہیں۔ اور انہوں نے اسے بشارت دی ایک صاحب علم بیٹے کی۔
— Bayan-ul-Quran
اس پر اس کی بیوی سامنے آئی بڑبڑاتی ہوئی اور اس نے اپنا ماتھا پیٹ لیا اور کہنے لگی : بڑھیا بانجھ (بچہ جنے گی کیا) ؟
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : ایسا ہی فرمایا ہے آپ کے رب نے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور بہت حکمت والا بھی۔
— Bayan-ul-Quran
ابراہیم نے پوچھا کہ اے ایلچیو ! پھر آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے ؟
— Bayan-ul-Quran
انہوں نے کہا : ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف۔
— Bayan-ul-Quran
تاکہ ہم ان پر بارش برسائیں کنکریوں کی۔
— Bayan-ul-Quran
جو نشان زدہ ہیں آپ کے رب کے پاس حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے۔
— Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے نکال لیا جو بھی اس بستی میں تھے اہل ایمان۔
— Bayan-ul-Quran
تو نہیں پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے کسی کو مسلمانوں میں سے۔
— Bayan-ul-Quran
اور ہم نے اس میں ایک نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہوں دردناک عذاب سے۔
— Bayan-ul-Quran
اور موسیٰ کے معاملے میں بھی (نشانی ہے) جب ہم نے اسے بھیجا فرعون کی طرف کھلی سند دے کر۔
— Bayan-ul-Quran
تو اس نے منہ موڑ لیا اپنی شان و شوکت کے گھمنڈ میں اور کہا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔
— Bayan-ul-Quran
سو ہم نے پکڑا اس کو اور اس کے لشکروں کو اور انہیں پھینک دیا سمندر میں اور وہ ملامت زدہ تھا۔
— Bayan-ul-Quran